گول//گول سب ڈویژن کے گول داڑم علاقہ کے پاپشلان، تروجل و داڑم کے کچھ علاقوںمیں پینے کے پانی کی شدید قلت سے لوگوں میں ہاہاکارمچی ہوئی ہے ۔ مقامی لوگوں نے گول و داڑم علاقہ میں محکمہ صحت عامہ کے خلاف تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت عامہ کی جانب سے عوام کوندی نالوں کا گندہ پانی سپلائی کیا جا رہاہے اورکئی علاقوں کی ٹینکیاں کئی مہینوں سے پیاسی ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ اگر چہ پانی کی شدیدقلت اور غلاظت سے بھرے پانی کی سپلائی بارے محکمہ صحت عامہ اورانتظامیہ کے پاس لوگ گئے لیکن ان کی ان سنی ہوئی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں سے بارہ سو آبادی پینے کے پانی سے محروم ہیں لیکن ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے ۔لوگوں نے کہاکہ جاملان علاقہ میں ایک حوض بنا ہوا ہے جہاں سے پاپشلان و تروجل کی عوام کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر بھی کوئی پانی سپلائی نہیں کرتا ہے ،وہیں فقیر کی زیارت کیساتھ ہی ایک حوض بنایا گیا لیکن اس میں ابھی تک پانی نہیں ڈالا گیا اس طرح سے محکمہ جل شکتی نے لاکھوں روپے ان حوضوں پرخرچ کیا لیکن کوئی کارآمدنہیں ہے۔جہاں دس سے بارہ لائن مینوں کی ضرورت ہے وہاں صرف آج ایک ہی کام کر رہاہے جس وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں ۔کئی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ محکمہ کی جانب سے پائپیں نہیں آ رہی ہیں اور عوام پلاسٹک کی پائپیں بازار سے مہنگے داموں خریدنے پرمجبور ہیں لیکن وہ پائپیں بھی پیاسی ہیں ان میں بھی پانی مہیا نہیں کیا جا رہا ہے ۔یہاں پر کئی ٹینکیاں خالی پڑی ہوئی ہیں وہیں کئی ٹینکیاں گندہ مٹی والاپانی سے بھرا ہوا ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پانی کو پینا تو دور کی بات ہے اس سے کپڑے بھی دھوئے نہیں جاتے یہاں تک کہ مویشیوں کو بھی یہ پانی پلایا نہیں جا سکتا ہے جو انسانوں کے لئے محکمہ صحت عامہ سپلائی کرتا ہے ۔لوگوں نے کہاکہ آج کل برسات کا موسم شروع ہو گیا ہے اور جن دوردراز چشموں سے لوگ پانی لاتے تھے وہ پانی بارشوں کے دوران پینے کے لائق نہیں ہوتاہے کیونکہ تمام گندہ پانی اور نالوں کا پانی چشموں میں چلا جاتاہے ۔وہیں مقامی لوگوں نے کہاکہ اس طرح کی یقین دہانیاں اس سے قبل بھی کئی بار محکمہ صحت عامہ اوریہاں کی انتظامیہ سے استدعا کی تھی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔