سرینگر //جموں وکشمیر فی فکزیشن کمیٹی نے اپنی نویت کے تاریخ ساز فیصلے میں وادی کے ایک بڑے پرائیویٹ سکول کوسرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے اور ایڈمیشن فیس کے نام پر وصولی گئی لاکھوں کی رقم والدین کو فوری طور واپس کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ مذکورہ سکول کے بارے میں انکشاف ہواہے کہ سکول نے پچاس ہزار روپے فی کس کے حساب سے رقم وصول کی ہے اور سکول کو یہ رقم واپس کرنے کے لئے پندرہ دنوں کی مہلت دی گئی ہے۔ فی فکزیشن کمیٹی جموں وکشمیر کے چیرمین مظفر حسین عطار نے یہ حکمنامہ فائونڈیشن ورلڈ سکول ہمہامہ میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین کی تحریری شکایت پر صادر کیا ہے ۔معلوم ہواہے کہ والدین نے کمیٹی کے پاس تحریری شکایات درج کی ہیں جس میں فائونڈیشن ورلڈ سکول ہمہامہ مامتھ پر ٹیوشن فیس ، ٹرانسپورٹ فیس اور ایڈمیشن فیس کے حوالے سے سرکاری احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیاہے ۔ چیرمین مظفر حسین عطار نے 15صفحات پر محیط حکمنامہ زیر نمبر 61بتاریخ 12اگست جاری کیا ہے ،جس کی کاپی اس ادارے کے پاس موجود ہے ، میںاس تحریری مواد کاتفصیلی حوالہ دیا ہے جس سے سکول کی خلاف ورزیوں کے بارے میں کمیٹی کو ٹھوس ثبوت ملے ہیں ۔ سکول کی ایک چٹھی سے انکشاف ہوا ہے کہ سکول نے ایڈمیشن فیس وصولنے کے بعد یہ کہہ کر والدین کوگمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اصل میں 31اکتوبر 2019کوایڈمیشن فیس پر پابندی عائد کی گئی ہے حالانکہ ایڈمیشن فیس وصول کرنے پر ایجوکیشن ایکٹ 2009اور ایف ایف سی حکمنامہ زیر نمبر 1بتاریخ 28جنوری 2019کے تحت پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے بہت پہلے ایڈمیشن فیس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ حکمنامے کے مطابق سکول نے از خود انکشاف کیا ہے کہ سہیل ڈار نامی شخص سے بچے کی ایڈمیشن کے لئے فیس وصول کی ہے اورپھرایک سرکاری آڈر کو غلط طریقے سے پیش کرکے اسے فیس واپس کرنے سے انکار کیا ہے۔ سکول نے آرڈر نمبر ۱ کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ سکول نے اسی آرڈر کے تحت 2019-20میں ٹیوشن فیس 6ہزار کے بجائے 6360روپے کردی اور اس طرح آڈر نمبر 1کے تحت فیس میں 6فیصدی کا اضافہ کیا ہے لیکن اسی آڈر میںایڈمیشن فیس پر جو پابندی عائد کی گئی تھی اسکی خلاف ورزی کرتے ہوئے والدین سے ایڈمیشن فیس وصول کی گئی ہے۔ حکمنامے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایڈمیشن فیس پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ سپریم کو رٹ کے احکامات کے عین مطابق ہے جس میں پرائیویٹ سکولوں کو ایڈمیشن فیس وصولنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکمنامے کہا گیا ہے کہ ایک طرف فاونڈیشن ورلڈ سکول نے آرڈر نمبر1سے استفادہ حاصل کرکے ٹیوشن فیس میں اضافہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسی آرڈر کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ظالمانہ طور پر والدین سے ایڈمیشن فیس وصول کیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ مذکورہ سکول نے ایڈمیشن فیس کے نام پر والدین سے کم سے کم50ہزار روپے فی کس کے حساب سے فیس وصول کی ہے ۔ایف ایف سی چیئرمین مظفر حسین عطار نے کہا ہے کہ داخلہ فیس مقررکرکے سکول بچوں کی سیٹ کی ایک قیمت مقرر کرتی ہے جو داخلہ عمل کو تجارت میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے ۔انہو ںنے کہا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں تعلیم دینے کے مقدس پیشہ کوابتداء سے ہی تجارتی سرگرمی میں بدل دیا جاتاہے ۔انہو ںنے اس عمل کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرارد یا ہے جس کے لئے آخرت کی عدالت میں جوابدہی ہوگی ، جہاں پر نہ کو ئی دنیاوی سفارش چلے گی نہ طاقت اور نہ چالبازی کے غلط طریقے کام آئیں گے بلکہ وہاں صرف سچائی کا ہی بول بالاہوگا۔انہو ںنے کہا ہے کہ اس طرح والدین کو دھوکہ دیکر نہ صرف ناجائز فائدہ لیا گیا ہے بلکہ ایک حکمنامے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔یہ کھلم کھلا خلاف ورزی ناانصافی کے مترادف ہے۔ سکول نے شکایت کنندہ اور دیگر شکایت کنندگان سے ایڈمیشن فیس کے نام پر جو رقم وصول کی ہے وہ سراسر غیر قانونی ہے ۔چیئرمین مظفر حسین عطارنے کہا ہے کہ ایڈمشین فیس کے نام پر وصولی گئی رقم کو کسی بھی صورت میںسکول مالکان کے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ ایساکرکے انہیں ایک غیر قانونی کام کا پھل کھانے کی چھوٹ ملے گی جو قانونی اور اخلاقی طور پر ایک مذموم کام ہوگا۔ حکمنامے میں اس معاملے کے قانونی پہلوئوں کی وضاحت کی گئی ہے اوراسکے خلاف قانونی کارروائی کے حدود اورکمیٹی کے اختیارات کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔ انہو ںنے کہا کہ یہ قوانین درس وتدریس کے نام پر نفع خوری اور تجارتی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ حکمنامے میں سکول کے پرنسپل، چیرپرسن، وائس چیرمین ، اور فاونڈیشن ورلڈ سکول ہمہمامہ، مامتھ بڈگام ٹرسٹ کے عہدیداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شکایت کنندہ سہیل ڈار اور دیگر تمام والدین کو ایڈمیشن فیس کی رقم پندرہ دنوں کے اندر اندر واپس کریں اور اسی دوران کمیٹی کے پاس حکمنامے سے متعلق تعمیلی رپورٹ پیش کریں۔