راجوری //ایک ایسے وقت میں جب ضلع ہسپتال راجوری کے بلڈ بنک پر سوالیہ لگاہواہے ، راجوری کی چار پرائیویٹ کلینکوں نے محکمہ صحت کو خون سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے لیت ولعل کی پالیسی اختیار کررکھی ہے ۔ ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ جموں وکشمیر ویجی لینس محکمہ کی ٹیم کے دورہ راجوری کے دوران اچانک معائنہ کرنے پر یہ پایاگیاکہ کچھ پرائیویٹ کلینکوں میں بلڈ بنک کی سہولت تو میسر نہیں لیکن ان میں آپریشن کئے جارہے ہیں ۔ٹیم کو حیرانی اس وقت ہوئی جب ان کلینکوںسے یہ جواب ملاکہ وہ آپریشن کیلئے خون ضلع ہسپتال راجوری سے لاتے ہیں ۔اس انکشاف کے بعد محکمہ صحت نے ایک خط لکھ کر ضلع ہسپتال راجوری کی انتظامیہ سے اس حوالے سے تفصیلات طلب کیں جبکہ اس سلسلے میں چار پرائیویٹ کلینکوں کے نام بھی خط لکھ کر ان سے جواب طلب کیاگیا۔محکمہ صحت کی طرف سے اس بارے میں جو خط پرائیویٹ کلینکوںکو لکھاگیا تھا اس میں اس بات کی تفصیل طلب کی گئی تھی کہ ان کے پاس خون کا کیا انتظام ہیا ور ضلع ہسپتال راجوری کے بلڈ بنک سے انہیںکتنے یونٹ خون دیاگیاہے ۔ اگرچہ اس خط میں ان کلینکوںکی انتظامیہ سے دو دنوں کے اندر اندر جواب دینے کاکہاگیاتھاتاہم اس بات کو ہوئے ایک ہفتہ بیت چکاہے لیکن ابھی تک کسی ایک بھی کلینک کی طرف سے جواب نہیں آیا ۔اس لیت و لعل کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے محکمہ صحت ایک اور حکمنامہ جاری کرنے پر مجبور ہواہے ۔محکمہ صحت کے ایک افسر نے بتایاکہ ایک ہفتہ قبل خط لکھ کر تفصیلات طلب کی گئی تھیں تاہم ابھی تک کسی بھی کلینک کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا جس کو دیکھتے ہوئے یاد دہانی کے طور پر تازہ حکمنامہ جاری کیاگیاہے ۔