مئی2014میں دانش گاہ کشمیر میں ایک سیمینار کا اہتمام ہوا جس میں اور اہم شخصیات کے علاوہ اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے خصوصی نمائندہ برائے پاکستان اور سابق سفارتکار ایس کے لامبا بھی شریک تھے۔ گوکہ وہ نجی حیثیت سے مذکورہ سیمینار میں شریک ہوئے تھے لیکن اُنہوں نے جو تقریر کی وہ کشمیر سے متعلق بھارت کی اندرون ریاست (ڈیپ اسٹیٹ) کی پالیسی کا عکاس تھا۔لامبا نے کشمیر مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنے کی وکالت کی۔انہوں نے کہا’’یہی ایک اس مسئلے (کشمیر مسئلے) کا واحد قابل عمل حل ہے‘‘۔لامبا کا کہنا تھا’’ تین جنگوں اور طویل نااتفاقیوںکے بعد یہ ضروری ہے کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد کے طور تسلیم کیا جائے کیونکہ سرحدوں کی نئی حد بندی نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔
منقسم جموں کشمیر کے بیچوں بیچ کھچی کنٹرول لائن یا حد متارکہ کا شمار دنیا کی حساس ترین سرحدوں میں ہوتا ہے اور اس کے بارے میں حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنے قیام سے ہی انسانوں کو اپنا نوالہ بناتی رہی ہے۔ کشمیر میں عسکریت شروع ہونے سے قبل مذکورہ لکیر پر اس کی رکھوالی کرنے والے وردی پوش ایک دوسرے کی زندگیوں کے چراغ گُل کرتے تھے یہاں تک کہ واقف کار حلقوں کے مطابق طرفین کی طرف سے ایک دوسرے کو سروں کے تحفے بھی بھیجے جاتے تھے۔پھر کشمیری نوجوانوں نے اس کو روندنا شروع کیا تو اُن کی لاشوں سے بھی یہ لکیر آباد ہوتی رہی۔البتہ کشمیری عوام کی زندگیاں چھننے سے یہ لکیر ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں آنے لگی اور اس کو ’خونی لکیر‘ سے موسوم کیا جانے لگا۔شاید نیوکلیائی طاقت کی حامل دونوں قوتوں نے اس نام کو بدلنے کیلئے ہی بعد میں کچھ برس تک اس لکیر کے مخصوص حصوں پر قومی تہواروں کے مواقع پر مٹھائیوں کی ادلا بدلی کا سلسلہ شروع کیا لیکن اس کے باوجود دونوں طرف کی توپیں یہاں اکثر آگ اُگلتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں حد متارکہ کے دونو ں طرف کے نزدیک زندگیاں گذارنے والے شہری بہت ہی بری طرح متاثر ہوتے رہے ہیں۔یہ متاثرین اس لحاظ سے بے تقصیر کہلائے جاسکتے ہیں کیونکہ دونوں طرف کے وردی پوش اہلکارتو اپنے فرائض کی انجام دہی میں جانیں دیکر شہید کہلائے جاتے ہیں اور عسکریت پسند بھی اپنی مرضی سے ہی جانیں جوکھوں میں ڈالتے ہیں مگر بے چارے عام شہریوں کی زندگیاں اور اُن کا مال و اسباب تو یوں ہی آگ و آہن کی نذر ہوتا آرہا ہے۔حد متارکہ کے دونوں جانب رہنے والے عام شہریوں پرحال میںایک اور قیامت اُس وقت ٹوٹ پڑی جب بھارت اور پاکستان نے پھر’ ملک دوستی‘ کے جذبے میں آکر اوڑی ،کرناہ، ٹنگڈار، کیرن اور پونچھ سیکٹروں میںایک دوسرے کی طرف اندھا دھند گولے برسائے۔
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھارت اور پاکستان دو الگ الگ ممالک کے طور وجود میں آئے تو پورے خطے میں ہلاکت خیز سرگرمیاں عروج پر تھیں۔انہی ایام کے دوران جموں کشمیر کے پونچھ علاقے میں مخصوص عقیدے سے وابستہ لوگوں نے علم بغاوت بلند کی جس کو کچلنے کیلئے ہلاکو اور چنگیز کو بھی مات دی گئی یہاں تک کہ لندن ٹائمز کی مفصل رپورٹ کے مطابق چند ہی ایام میں دو لاکھ 37ہزار افراد کو موت کی آغوش میں دھکیلا گیا ۔مزاحمتی لوگوں کی حمایت میں پاکستانی علاقہ کے قبائیلوں کا خون جوش میں آیا اوروہ جوق در جوق کشمیر کا رُخ کرنے لگے۔ بعد کے حالات اور واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جن کے نتیجے میں جموں کشمیر دو لخت ہوئی اور دونوں کو تقسیم کرنے والی سرحد کا نام پہلے جنگ بندی لائن اوربعد میں کنٹرول لائن پڑ گیا۔
حد متارکہ وادی کشمیر اور کرگل کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور بلتستان سے الگ کرنے والی سرحد کا نام ہے۔ اس لکیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان 1949 میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی ،تب یہ جنگ بندی لائن کہلاتی تھی۔ بعد میں جب 1972 میں نئی دلی اور اسلام آباد کے درمیان شملہ معاہدے کے نتیجے میں اس کو لائن آف کنٹرول کا نام دے دیا گیا تواُس وقت تک دونوں ممالک نے اپنے اپنے زیر انتظا جموں کشمیر کے علاقوں میں حکومتیں قائم کر لی تھیں۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ کچھ سرحدیں توعالمی طور پر تسلیم شدہ ہوتی ہیں جنہیں بین الاقوامی سرحدیں کہا جاتا ہے اور کچھ صرف دو ملکوں کے مابین تسلیم شدہ ہوتی ہیں اور لائن آف کنٹرول بھی اسی زمرے کی سرحدوں میں آتی ہے۔بین الاقوامی سرحدیں غیر متنازع ہوتی ہیں لیکن لائن آف کنٹرول جیسی سرحدوں کو عالمی ادارے متنازع مانتی ہیں کیونکہ ایسی سرحدوں پر متعلقہ ممالک کے مابین اتفاق نہیں ہوتا ہے اور ان کے بارے میں اُن کی الگ الگ دعویداری ہوتی ہے۔
لائن آف کنٹرول پربھارت اور پاکستان کی افواج آئے دنوں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اور اس دو طرفہ گولہ باری میں اکثر عام شہری جانی و مالی طور متاثر ہوتے ہیں۔نئی دلی اور اسلام آباد کے ارباب اقتدار بھی اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور ہر گولہ باری کے بعد اُن کا رد عمل بھی مخصوص نوعیت کا ہی ہوتا ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ طرفین اپنے ہاں ایک دوسرے کے ہائی کمشنروں کو طلب کرکے اُن کو اپنی اپنی ’’تشویش‘‘ سے آگاہ کرتے ہیں اور یوں معاملہ اگلے واقعہ تک کیلئے ٹل جاتا ہے۔
حد یہ ہے کہ اس لائن کے دونوں جانب رہنے والے شہریوں نے بھی اب ہند ۔پاک افواج کی اس گولی باری کو معمول کی بات مان لیا ہے اور وہ بات مان کر بیٹھ گئے ہیں کہ ایل او سی پرہند۔پاک کشیدگی ایک مخصوص حد سے آگے نہیں بڑھے گی۔لوگ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نئی دلی اور اسلام آباد ایل او سی تنازع کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں اس لئے اُن کیلئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی جانیں بچانے کے اقدامات کے مطالبے پر ہی اکتفاء کریں۔مبصرین بھی دونوں ممالک کے طرز عمل و طرز فکر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بھارت کی چین کے ساتھ لگنے والی حقیقی کنٹرول لائن یا پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پرکشیدگی کا معمولی واقعہ بھی پیش آتا ہے تو اُس کو بڑی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے لیکن اس کے برعکس کنٹرول لائن پر بار بار پیش آنے والے ہلاکت خیز واقعات کو خاطر میں نہ لاکر اس کے دونوں جانب رہنے سہنے والے کشمیری عوام کے سروں پر مسلسل ایک برہنہ تلوار لٹکتی حالت میں رکھی گئی ہے۔بھارت کا اس لائن کو مستقل سرحد بنانے کا منصوبہ ، پاکستان کا نہ سمجھ آنے والا طرز عمل اورعام لوگوں کی مجبورسوچ اپنی جگہ، لیکن ماہرین کو تشویش ہے کہ کہیں کسی وقت کنٹرول لائن آوٹ آف کنٹرول نہ ہوجائے !