سرینگر//تاریخی اہمیت کا حامل خوشحال سر تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے سے جہاں اس کے کناروں پر آباد متعدد علاقوں کی رہائش پذیر آبادی گوناگوں مشکلات سے دوچارہے، وہیں اس میں موجود گندگی اور غلاظت سے آنے والی بدبو سے ان علاقوں میں رہنے والے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کے خلاف نوشہرہ کے مقام پر درجنوں افراد نے ضلع انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن سرینگر اور لاوڈا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔خوشحال سر نہر جھیل ڈل سے شروع ہوکر درجنوں علاقوں سے گزرنے کے بعد جھیل آنچار سے ہوتے ہوئے نالہ سندھ میں مدغم ہوجاتی ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے خوشحال سر کے اطراف میں سینکڑوں غیر قانونی تعمیرات کھڑی کی گئیں جس کے نتیجے میں اس تاریخی نہر کا وجود خطرہ میں نظر آرہا ہے جبکہ اس نہر کے کنارے واقع رہائشی عمارتوں سے نکلنے والا فضلہ، غلاظت اور ٹنوں کے حساب سے کوڈا کرکٹ بھی ڈالا جارہا ہے جس کے سبب اس نہر کا پانی آلودہ ہوگیا ہے جبکہ اس سے بدبو بھی چاروں طرف پھیلی رہتی ہے۔.پیر کو درجنوں مقامی شہریوں نے نوشہرہ کے مقام پر خوشحال سر کے کنارے جمع ہوکر ضلع انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن سرینگر اور لاوڈا کے خلاف احتجاج کیا۔اس موقع پر احتجاج میں شامل سماجی کارکن فرہان کتاب نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ کروڑوں روپے جھیل ڈل کے رکھ رکھائو کیلئے واگزار کئے جاتے ہیں لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے نہ ہی جھیل ڈل یا اس سے منسلک خوشحال سر کی صفائی بہتر طریقے سے ہورہی ہے اور نہ ہی میونسپل کارپوریشن سرینگر کا عملہ غیر قانونی تعمیرات کو روکنے میں کامیاب ہورہے ہیں ہمارا مطالبہ لفٹیننٹ گورنر سے ہے کہ خوشحالی سر کی صفائی اور رکھ رکھاو پر توجہ دی جائے۔