حمزہ شعیب
اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت اسلامیہ نے عورت کو بعض اجتماعی اور سماجی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ رکھا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ معاشرہ کے سود و زیاں اور نفع ضرر پر بالکل خاموش تماشائی بنی رہے۔اگر وہ خیر کی موافقت کرتی ہے تو اصلاح معاشرہ اور بلندئی دین میں فریضہء ’’امر بالمعروف و نہی عن المنكر‘‘کی خاطر لازماً شر کی بھی مخالفت کرے گی ،یہ اس کا فطری اور معاشرتی حق ہے جسے شریعت نے علی الاعلان تسلیم بھی کیا ہے۔جیسا کہ فرمانِ الٰہی ’’مومن مرد اور مومنہ عورتیں باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔‘‘ (التوبة: 71) اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ زندگی کے جن جن شعبوں میں تجربہ اور صلاحیت رکھتی ہے ان میں اس کے افکار و نظریات اور تنقید و تائید خصوصی توجہ کے حامل ہوں گے۔ ایسی بہت سی تاریخی شہادتیں اور عبرت آموز مثالیں موجود ہیں جن میں خواتین اسلام نے اپنے اس دینی فریضے کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے۔اس سلسلے میں حافظ ابن کثیر ؒ سورہ نساء کی مشہور آیت (٢٠)’’اور اگر تم ایک کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم اسے ناحق اور صریح گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لوگے‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے ایک بڑا ہی دلچسپ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دفع امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ نے مسجد نبوی میں لوگوں سے ‘مہر کی مقدار میں غلو سے بچنے کی تلقین کی اور چار سو درہم تک کی زیادتی کی حد بندی کرتے ہوئے فرمان جاری کیا: اس پر _بعد از خطبہ ایک قریشی خاتون حضرت عمر فاروق کو روک کر سوال کرتی ہیں کہ آپ کو مقدار مہر کی حد بندی کا اختیار کس نے دیا؟ کیا آپ نے ربّ ذوالجلال کا ارشاد ’’وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا‘‘نہیں سنا؟ مسلمان خاتون کا اس طرح ببانگ دہل اعتراض سننے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے حاکم اور مرد آہن حضرت عمر فاروقؓکو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا اور خاتون اسلام کی حق بات ماننی پڑی ۔غور کیجیے! ہماری شریعت نے عورتوں کے اظہار رائے کا کتنا احترام کیا ہے اور اسلام کے اولین مخاطبین نے اس باب میں کتنا بہترین نمونہ پیش کیا ہے جو یقیناً ہمارے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہم نے محض اپنی انا کی تسکین اور مسلکی بالا دستی کا دیو مالائی محل قائم رکھنے کی خاطر ان کے جائز حقوق بھی سلب کر لیے،نتیجے میں بگاڑ و فساد کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو بعض ماؤں اور بہنوں کو اپنے جائز مطالبات کے لیے بھی ناجائز طریقے اختیار کرنے پر مجبور کیا اور بعضوں کو شیاطین نے الحاد و ارتداد کے تاریک گڑھے میں جا دھکیلا۔افسوس کہ یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے اور ہمارے کانوں پہ جُوں تک نہیں رینگتی۔سر شرم سے اس وقت اور جھک جاتا ہے جب خواتین اسلام سنت سے ثابت شدہ قطعی دلائل کا حوالہ دے کر حقوق تعبد کی انجام دہی کے لیے مساجد کا در کھولنے کی گہار لگاتی ہیں اور ہمارا دینی طبقہ ان کی کردار کشی پہ اُتر آتا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب خواتین کو ایشو بنا کر میڈیا میں اسلام کی شناخت مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر خواتین کو نظر انداز کرنے کا ہمارا غیر منصفانہ رویہ مستقبل میں کتنے فتنوں کی جڑ بنے گا اور مسلم سماج پر کتنے غلط اثرات مرتب کرے گا۔
[email protected]