سرینگر//ایک ترقی پذیر اور مہذب سماج کے قیام میں خواتین کا کلیدی رول ہوتا ہے اور آج ایسا کوئی شعبہ نہیں جہاں خواتین کا تعاون شامل حال نہیں، خواتین کے اشتراک اور تعاون کے بغیر جدید دور کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور جموں وکشمیر کی خواتین بھی کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں، یہاں کے خواتین نے ریاست، ملک اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد شمالی کشمیر کی سیاسی سماج کارکنان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت کے سلسلے میں ہوا تھا۔ اس موقعہ پر صوبائی صدر صبیہ قادری نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ایڈوکیٹ روبینہ رشید (کپوارہ) اور روبینہ وانی (ہندوارہ) سمیت 16خواتین نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی جن میں ایک ڈی ڈی ممبر بھی شامل ہیں۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ 5اگست 2019 تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم ہوا ہے جس دن سے جموں و کشمیر کے عوام پر ناقابل برداشت مشکلات اور مصائب کے پہاڑ توڑے گئے، تب سے ریاستی عوام ناگفتہ بہہ اقتصادی صورتحال سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 5اگست 2019کے فیصلوں سے جموں وکشمیر کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ کشمیر کے موجودہ حالات 1990سے بہت زیادہ سے خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بے چینی اور غیر یقینیت عروج پر ہے، لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ مرکزی حکومت نے دفعہ370کے خاتمے کے وقت امن و ترقی کے جو بھی اعلانات کئے کشمیر کی زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ مرکز کا یہ اقدام سرے ہی سے ناکام ہوگیا ہے ۔ پارٹی کی صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس خواتین ونگ پارٹی قیادت کیساتھ شانہ بہ شانہ ہے اور ہر ایک چیلنج میں پارٹی کے ساتھ ثبت قدم رہنے کیلئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے خواتین ونگ سے وابستہ عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی مضبوطی اور عوامی خدمات میں پیش پیش رہیں۔