عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں قومی شاہراہ244پر اہم سرنگی منصوبوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جن کا مقصد چناب خطے میں رابطہ کو بہتر بنانا ہے۔ان منصوبوں میں سدھ مہادیو۔درنگہ سنگل ڈائریکشن دو ٹیوب والی سرنگ شامل ہے، جس کی مجموعی لمبائی (اپروچ روڈ سمیت) 12.85کلومیٹر ہوگی، جبکہ سنگھ پورہ۔وائیلودوٹیوب ٹنل کی لمبائی 38.61کلومیٹر (اپروچ روڈسمیت) ہوگی۔ ان دونوں منصوبوں کی مجموعی تخمینہ لاگت 9,779.42کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔مرکزی حکومت نے ایک آفس میمورنڈم کے ذریعے نیشنل ہائی وے۔244پر مجوزہ اہم ٹنل منصوبوں کی باضابطہ منظوری کی توثیق کر دی ہے۔یہ منظوری وزارتِ خزانہ، محکمہ اخراجات کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں پبلک انویسٹمنٹ بورڈ کے 7اپریل 2026 کو ہونے والے اجلاس کے منٹس کو باضابطہ طور پر آگے منتقل کیا گیا۔ یہ اجلاس محکمہ اخراجات کے سیکرٹری کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ان منٹس کے مطابق، وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کی اس تجویز پر غور کیا گیا جس میں سدھ مہادیو۔درنگہ یونی ڈائریکشنل ٹوئن ٹیوب سرنگ (مجموعی لمبائی 12.85 کلومیٹر، بشمول 2لین + پی ایس اپروچز)،سنگھ پورہ۔وائیلو ٹوئن ٹیوب سرنگ (مجموعی لمبائی 38.61کلومیٹر، بشمول 2 لین + پی ایس اپروچز) کی تعمیر شامل ہے۔یہ دونوں منصوبے جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹری میں نیشنل ہائی وے244پر ای پی سی (Engineering, Procurement and Construction) موڈ کے تحت تعمیر کیے جائیں گے۔آفس میمورنڈم میں واضح کیا گیا کہ’’یہ حکم محکمہ اخراجات کے سیکرٹری کی منظوری سے جاری کیا جاتا ہے‘‘۔اس باضابطہ اقدام کے بعد یہ منصوبے انتظامی اور مالی سطح پر مکمل طور پر منظور شدہ قرار پائے ہیں، جس سے خطے میں رابطہ کاری کے ایک بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کی عملی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزیر مملکت برائے امورِڈاکٹر جتندر سنگھ نے اس منظوری کو ’’حوصلہ افزا خبر‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ یہ منصوبہ ممکنہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ایکس پرایک پوسٹ میںانہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔اس سے قبل 7اپریل 2026 کو سنگھ نے ڈوڈہ میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کوارڈی نیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سدھ مہادیو ٹنل سے متعلق خدشات پر بھی بات کی تھی۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ کام رکنے سے متعلق رپورٹس غلط ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ پہلے والا ٹینڈر سیکورٹی مسئلے کی وجہ سے منسوخ کیا گیا تھا جو کہ الاٹمنٹ لینے والے سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی نیا ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔قابلِ ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو دونوں منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے خط لکھا تھا۔اس سے قبل 25مارچ 2026کوسڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے راجیہ سبھا میں نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ سجاد احمد کچلو کے سوال کے جواب میں سدھ مہادیو۔چنانی ٹنل ، سنگھ پورہ۔وائیلو ٹنل اور دیگر ٹنل و سڑک منصوبوں کی موجودہ صورتحال، ڈی پی آر، ٹینڈرنگ، زمین کے حصول، ماحولیاتی اور سیکورٹی منظوریوں، منظور شدہ اور جاری فنڈز، کام کی الاٹمنٹ اور ٹائم لائن سے متعلق آگاہ کرتے ہوئےبتایا تھا کہ دونوں منصوبوں کے لئے ڈی پی آر مکمل ہو چکے ہیں۔گڈکری نے کہا تھا’’سدھ مہادیو۔درنگا اور سنگھ پورہ۔وائیلو ٹنلیں نیشنل ہائی وے244کے تحت آتی ہیں۔ ان ٹنلوںکے تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹسنیشنل ہائی ویز انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے مکمل کئے جاچکے ہیں‘‘۔انہوں نے بتایا تھا’’سدھ مہادیو۔درنگہ ٹنل بشمول اس کے اپروچز کی لمبائی 12.85کلومیٹر ہے جبکہ سنگھ پورہ۔وائیلو ٹنل بشمول اپروچز 38.61 کلومیٹر طویل ہے۔ ان سرنگوں کی تعمیر کے منصوبے اس وقت جانچ کے مرحلے میں ہیں‘‘۔سڑک منصوبوں کے حوالے سے گڈکری نے بتایا تھا کہ بٹوت۔ڈوڈہ۔کشتواڑ روٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔انکاکہناتھا’’قومی شاہراہ244کا بٹوت۔کھیلانی سیکشن 2-لین معیار پر ہے۔ تاہم، ناقص الائنمنٹ اور تیز موڑوں کی وجہ سے اس حصے کو چنانی۔ سدھ مہادیو۔گوہا۔کھیلانی گرین فیلڈ روٹ کے ذریعے بائی پاس کیا جائے گا۔ چنانی سے کھیلانی تک مجموعی 38کلومیٹر میں سے 34کلومیٹر میں 2لیننگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی 4 کلومیٹر پر کام جاری ہے، جس کی تکمیل اکتوبر 2026تک متوقع ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہاتھا’’ کھیلانی۔ڈوڈہ۔کشتواڑ سیکشن (112.66کلومیٹر) کو 2لین پِیویڈ شولڈر کے ساتھ 9سول ورک کنٹریکٹ پیکجز میں ترقی دی جا رہی ہے، جن میں سے 47.38 کلومیٹر مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی حصے پر کام جاری ہے‘‘۔دریں اثنا، ایم ایل اے اندروال پیارے لال شرما نے سنگھ پورہ۔وائیلو ٹنل کے طویل عرصے سے زیر التوا منصوبے کی منظوری کو سراہتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ طویل انتظار کا منصوبہ چناب وادی کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس سے چناب وادی اور کشمیر وادی کے درمیان ہر موسم میں رابطہ قائم ہوگا، سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہوگا، تجارت، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سخت سردیوں میں بھی بلا تعطل آمدورفت ممکن ہوگی۔انہوں نے اس فیصلے پر اطمینان اور اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسے خطے کے عوام کے لئے تاریخی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں پرانے مطالبے کی تکمیل مرکزی اور یوٹی قیادت کی مربوط اور پرعزم کوششوں کا نتیجہ ہے۔شرما نے ٹنل کی منظوری کو صرف ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے ترقی، رابطے اور خوشحالی کی علامت قرار دیا۔