کشتواڑ+ڈوڈہ+گول+بانہال//خطہ چناب کے تینوں اضلاع کشتواڑ ،ڈوڈہ اور رام بن میں بالائی علاقوں میں برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں شدید بارشوں سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔ تینوں اضلاع میں کئی شاہراہیں بند ہوچکی ہیں جبکہ سردی کی لہر میںاضافہ ہوچکاہے اور بیشترعلاقوں سے بجلی گل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
کشتواڑ
ضلع کشتواڑ کے بالائی علاقوں میں سنیچر کی صبح شروع ہوئی تازہ برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں موسلادھار بارشوں سے عام زندگی بری طرح مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ کشمیر عظمیٰ کو ملی تفصیلات کے مطابق ضلع کے بالائی علاقوں مڑواہ و واڑون میں ایک فٹ سے زائد برف جمع ہوگئی ہے جسکے سبب مڑواہ و واڑون کی چالیس ہزار سے زائد آبادی کٹ کررہ گئی ہے۔ مڑواہ و واڑون کو ملانے والی واحد مرگن سڑک پر دو فٹ سے زاید برف درج کی گئی ہے جسکے سبب کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی وہیں کشتواڑ سنتھن قومی شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آواجاہی بند رہی اور کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سنتھن ٹاپ پر تین فٹ کے قریب برف جمع ہوئی ہے جبکہ سنتھن میدان میں بھی ایک فٹ تک برف جمع ہوئی ہے ۔سرینگر سے کشتواڑ سبزی لارہی دو ٹاٹا موبایل گاڑیاں بھی سنتھن میں برفباری کے سبب پھنس گئی ہیں جن میں کل چار افراد موجود تھے اور انھیں بچانے کیلئے فوج و پولیس نے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور دیر شام چاروں افراد ڈکسم واپس پہنچ گئے جبکہ انکی گاڑیاں سنتھن ٹاپ پر برف میں ہی پھنسی رہیں جسکے بعد ریسکیو ٹیمیں واپس پہنچ گئیں۔کشتواڑ بٹوت قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت دن بھرجاری رہی جس دوران سینکڑوں مسافر و مالبردار گاڑیاں کشتواڑ پہنچیںجبکہ آج یعنی اتوارکو بھی کشتواڑ سنتھن قومی شاہراہ پرآمدرفت معطل رہے گی۔ ضلع کے دیگر علاقہ جات کھواڑہ ، نارین ، وٹسر میں دو سے تین انچ برف ہوئی جبکہ ان علاقہ جات میں بجلی بھی جمعہ شام سے غائب ہے۔ پاڈر کے مچیل میں بھی کئی انچ تازہ برفباری ہوئی تاہم پاڈر میں بارش ہوئی جبکہ بونجواہ و درابشالہ کے بالائی علاقوں میں بھی تازہ برفباری کی اطلاع موصول ہوئی ہے جسکے سبب لوگوں کی بڑی تعداد گھروں کے اندر ہی محصور ہوکر رہ گئی ہے۔دچھن میں بھی دن بھر موسلادھار بارش ہوتی رہی جبکہ پہاڑیوں پر تازہ برفباری ہوئی جبکہ بجلی کی آنکھ مچولی بھی دن بھر جاری رہی۔کیشوان و ٹھکرائی میں بھی برفباری ہوتی رہی۔کشتواڑ کے میدانی علاقوں میں صبح سے ہی موسلادھار بارش ہوئی ۔اگرچہ دوپہر کو چند گھنٹوں کیلئے بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تھا لیکن بعد دوپہر دوبارہ شروع ہوئی جبکہ شام کو برفباری بھی ہوئی تاہم بارشوں کا سلسلہ آخری اطلاع ملنے تک جاری تھا۔ بارشوں کے سبب لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دی جبکہ بازاروں میں سناٹاہی رہا۔ رات بھر تیز ہواﺅں کے سبب ضلع ہسپتال کی طرف جانے والی سڑک پر درخت گرجانے کے سبب ترسیلی لاینوں کو نقصان پہنچا جبکہ ہسپتال جانے والے لوگوں کو بھی مشکلات پیش آئیںجسکے بعد دوپہر بحال کردیا گیا۔موسمی تبدیلی کے سبب درجہ حررات میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے اورلوگوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کردیا ہے۔پولیس نے ایمرجنسی حالات سے نپٹنے کیلئے چوبیس گھنٹے ہیلپ لاین جاری کی اور لوگوں سے ان نمبرات پر رابطہ کرنے کو کہا گیا ہے۔
ڈوڈہ
محکمہ موسمیات کی پیشگی اطلاع کے عین مطابق کشمیر و جموں خطہ کے ساتھ ساتھ وادی چناب میں بھی تیز آندھی، شدیدژالہ باری، بارش و پہاڑوں پر تازہ برفباری کا سلسلہ ہفتہ کے روز جاری رہا جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی صبح ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری و گندوہ میں تیز آندھی شروع ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی جس کے بعد میدانی علاقوں میں بارش و شدیدژالہ باری و پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری کا سلسلہ شروع ہوا جو دن بھر جاری رہا۔شدید ژالہ باری و تیز ہواو¿ں سے جہاں پھلدار درختوں و فصلوں کو نقصان پہنچا وہیں متعدد علاقوں میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بھی خرابی آئی جس کی وجہ سے بجلی نظام متاثر ہوا ہے جبکہ کئی دیہات میں پینے کے پانی کی بھی قلت ہوئی ہے۔اس دوران ڈوڈہ بٹوت و کشتواڑ قومی شاہراہ سمیت اندرونی دیہات کی رابطہ سڑکوں پر ٹریفک وقفہ وقفہ سے جاری رہا تاہم انتظامیہ نے لوگوں سے خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر کرنے سے احتیاط برتنے و ایمرجنسی سروسز کے دوران مقامی انتظامیہ سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے۔
گول
باقی جگہوں کی طرح ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول و ملحقہ جات میں بھی شدید بارشوں کی وجہ سے انسانی زندگی مفلو ج ہو کر ر ہ گئی اور لوگ گھروں میں ہی محصور رہے ۔ اس دوران گزشتہ شب سے ہی بارش آسمانی بجلی گرنے اورگرج کے ساتھ ہی بجلی بھی گل ہوئی جس وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ شدید بارشوں سے گول سب ڈویژن میں کئی مقامات پر پسیاں گر آنے اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی سبب ٹریفک متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ ادھر داڑم گول روڈ جاملان کے مقام پر پسی گر آنے کی وجہ سے ٹریفک مسدود ہو کر رہ گیا اور یہاں پیدل چلنے والے لوگ بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جا نہیں پائے ۔ دن بھر لگا تار آسمانی بجلیاں گرنے کی وجہ سے لوگوں میں کافی خوف محسوس ہوا ۔ میدانی علاقوں میں شدید بارشوں اور پہاڑوں پر ہلکی برف باری ہونے کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوا ہے ۔ وہیں اکتوبر کے مہینے میں اس طرح سے شدید بارشوں اور اچانک سردی میں اضافہ کی وجہ سے زمینداروں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے ۔ ابھی لوگوں نے ربیع کا فصل مکمل طور پر یکجا نہیں کیا تھا اور اوپر سے شدید بارشیں ہوئی ۔ لوگوں نے گھاس کی کٹائی بھی مکمل نہیں کی ۔ زمینداروں نے اچانک شدید بارشوں پر نہایت ہی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے نہ صرف فصل تباہ ہوئی بلکہ جو چارہ مال مویشیوں کے لئے زمیندار جمع کرتے تھے وہ بھی خراب ہو گیا ہے اور ابھی لوگ گھاس کی کٹائی میں ہی لگے ہوئے تھے مکمل طور پر گھاس اکھٹا نہیں کیا تھا ۔ زمیندارون کا کہنا ہے کہ ہر سال ان کی کمائی پر کوئی نہ کوئی مصیبت گھر آتی ہی ہے کبھی خشک سالی کی وجہ سے اور کبھی شدید بارشوں اور برف باری کی وجہ سے لوگوں کو بالخصوص زمینداروں کو کافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ہے لیکن سرکار کی جانب سے کوئی امداد نہیں ملتی ہے ہر سال محکمہ زراعت اور محکمہ مال ہزاروں فائلیں جمع کرتے ہیں لیکن یہ فائلیں کہاں جاتی ہیں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور لوگوں کو کوئی امداد نہیں دی جا رہی ہے جو کسی تشویش سے کم نہیں ہے ۔ وہیں اس دوران شدید بارشوں کی وجہ سے سڑکیں زیر آب ہوئیں اور آب ِ نکاس نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالوں کا پانی لوگوں کی زرعی اراضی اور رہائشی مکانات میں جا گھسا جس وجہ سے لوگوں کو کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔ اگر چہ کئی مرتبہ انتظامیہ اور سرکار سے اس بارے استدعا کی گئی تھی کہ سڑکوں پر آب ِ نکاس کا خاص خیال رکھا جائے لیکن اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے تمام سڑکوں پر نالیاں نا کے برابر ہیں اور بارشوں کا پانی سڑکوں پر سے گزرتا ہے جس وجہ سے جہاں سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوتی ہیں وہیں اس پانی کی وجہ سے لوگوں کا بھی کافی نقصان ہوتا ہے ۔
بانہال
سنیچر کی رات سے بانہال کے میدانی علاقوں میں بارشوں جبکہ درہ بانہال اور پیر پنجال رینج کے پہاڑی سلسلے میں برفباری کا سلسلہ سنیچروار کی شام تک جاری تھا اور اوپر پہاڑی علاقوں میں چھ سے سات انچ تک درمیانہ درجے کی پہلی برفباری ہوئی ہے جبکہ تحصیل کھڑی مہومنگت کی گئی بستیوں میں بھی برفباری ہورہی تھی۔ سب ڈیژن بانہال کے کھڑی مہ±و۔منگت ، ترگام ، ب±زلہ اور آکھرن کی کئی بستیوں میں بھی بارشوں کے ساتھ برفباری ہورہی تھی اور یہ سلسلہ سنیچر شام تک جاری تھا۔ اس کے علاوہ جواہر ٹنل کے پہاڑی سلسلے گڈ بیر ، واو¿ مال ، ریل منڈو ، کود منڈو ، آکھرن ، سرکنٹھا ٹاپ پر پانچ سے سات انچ برفباری ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سنیچر کی رات سے سنیچر کی صبح آٹھ بجے تک بانہال میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی اور بارشوں کا سلسلہ سنیچر کو شام تک جاری تھا۔ بانہال میں سب سے زیادہ 47 اعشاریہ 8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس کے بعد دوسرے نمبر پر ماتا ویشنو دیوی مندر کے بیس کیمپ کٹرہ میں 33 اعشاریہ 8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ شدید بارشوں کی وجہ سے ضلع رام بن کے ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی اور کھڑی مہومنگت اور کرول۔کمیت رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔سب ڈویژن رامسو کے باٹیباس شگن میں پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے رابطہ سڑک کی بے ڈھنگی کٹائی کی وجہ سے کئی رہائشی مکانوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے اور محکمہ پی ایم جی ایس وائی بانہال سے اپیل کی گئی کہ وہ معاملہ کی طرف توجہ دیکر علاقے کو نقصان کے خطرے سے محفوظ کریں۔