مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے 1948میں معاملہ کو اقوام متحدہ میں لے جایا گیا جس کی بنیاد پر ’’یوناٹینڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان ‘وجود میں لایا گیا اوراقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 21اپریل 1948کو ریزلویشن 47پاس کرتے ہوئے زور دیا کہ مسئلے کو اہل جموں وکشمیر کی امنگوں اور خواہشات کے تحت ہی حل کیا جائے جبکہ اس وقت کے ملکی وزیر عظم نے اقوام متحدہ سے کہا تھاکہ کشمیر کا معاملہ انتخابات کی بنیاد پر حل کیا جائیگا ۔5جنوری 1949کو اقوامی متحدہ کمیشن برائے ہندوستان پاکستان کی ایک یاداشت میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو صرف ’رائے شماری ‘کی بنیاد پر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔1948اور 1948کی یاداشتوں کے اصولوں پر دونوں ممالک نے آگے بڑھنے اور عمل کرنے کی یقین دہانی کروائی تاہم بعد میں دونوں اطراف ان اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام ثابت ہوئے جسکی وجہ سے 70برس بعد بھی عوام غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں ۔
اس دوان جموں وکشمیر کی عوام کو تحفظ دینے کیلئے خصوصی پوزیشن دی گئی تاہم بعد میں جہاں معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا رہا وہیں عوام کو بھی قید و بند کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔5 اگست 2019 کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا فیصلہ آیا جس کی وجہ سے جموں وکشمیر کو آہین ہند کے تحت حاصل خصوصی درجہ سے متعلق آرٹیکل 370اور 35Aکو یکطرفہ طورپر نکال باہر کر دیاگیا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ 70برسوں سے جموں وکشمیر کی عوام جہاں دونوں پڑوسی ممالک کی آپسی لڑائی میں اپنا وجود کھوتے جارہے ہیں وہیں بندقوں تلے اپنی شناخت و بقا کی لڑائی بھی لڑرہے ہیں ۔کشمیر یت کو کم از کم مذکورہ آرٹیکلز پر ایک برم تو تھا اور اس کی مدد سے جموں وکشمیر کی منفرد پہچان ،قوانین اور جھنڈا تھا لیکن اس آرٹیکل کو تعمیر وترقی میں ایک بڑی رکائوٹ کا نام دے کر ختم کر دیا گیا ۔اس کو منسوخ کرنے کے بعد ابھی تک تعمیر وترقی تو شروع نہ ہو سکی البتہ ایک برس بعدمواصلاتی بالخصوص 4جی انٹر نیٹ کی بندشیں مسلسل جاری ہیں جس کی وجہ سے عوام کا قافیہ حیات تنگ ہو چکا ہے ۔
1947کے بعد ہر کوئی جانتا ہے کہ جموں میں کشمیر میںہند نواز اور علیحدگی پسندنظریات رکھنے والی سیاسی قیادت موجود ہے تاہم خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد دنوں سیاسی فرقوں کو قید و بند کی صورتحال سے گزرنا پڑا جس کی وجہ سے این سی اور پیپلز ڈیمو کریٹک جیسی سیاسی پارٹیاں بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرتی نظر آئیں ۔ان سیاسی پارٹیوں کے علا وہ ایک ایسی جماعت بھی ہے جس کی امنگوں اور خواہشات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اصولی یا غیر اصولی طورپر ہونے والے فیصلوں کو تیسری جماعت کو بغیر کوئی سوال و جواب کئے مرتب کردہ قاعدہ پر عمل کرنے کا پابند بنایا جاتا ہے ۔جموں وکشمیر کی تیسری جماعت یہاں کے پسماندہ عوام ہیں جولگاتار بنیادی سہولیات کے فقدان و دیگر مسائل میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ،بے روز گاری عام ہوچکی ہے جبکہ دیگر سہولیات بھی میسر نہیں ہیں ۔
2014کے پارلیمنٹ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’انسانیت کشمیر یت اور جمہوریت ‘کا نعرہ دیا گیا تھا تاہم جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد حالیہ دنوں میں ہند نواز سیاسی جماعتوں کے یکجا ہونے و ’’گپکار اعلامیہ ‘‘کے اعلان کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کشمیر یت انتہائی زخمی ہو گئی ہے ؟۔اگست 2019کے بعد اگست 2020کے آخری حصہ میں کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی ایجنڈوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ’’جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی‘‘ پریکجا و یک زبان ہوتے ہوئے ’’گپکار اعلامیہ‘‘ پر کاربند رہنے کا تاریخی اعلان کیا ہے۔اگست کے آخری حصے میں ان سیاسی جماعتوں نے آپس میں سر جورٹے ہوئے جموں وکشمیر کی تقسیم و تنظیم نو کے بعد پہلی مرتبہ گپکار اعلامیہ کے دستخط کنندگان میں سے6 نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت 370اورA 35 کے علاوہ آئین اور ریاست کا درجہ بحال کرنے کیلئے مشترکہ طورپر جدوجہد کرینگے ۔ بیان میں کہا گیا’’ 4 اگست 2019 کے گپکار اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں نے حکومت کی طرف سے عائد پابندیوں و قانونی رکاوٹوں کے سلسلے میں بمشکل ایک دوسرے کے ساتھ بنیادی سطح پر بات چیت کا انتظام کیا ہے جس کا مقصد تمام معاشرتی اور سیاسی تعطل کو روکنا ہے،جبکہ عائد پابندیوں میں محدود الجھنوں کے نتیجے میں یہ متفقہ قرار داد منظورکی گئی‘‘۔ ’’5،اگست2019کے بدقسمتی پرمبنی واقعات نے جموں و کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو ناقابل یقین تک تبدیل کردیا ہے جبکہ ایک انتہائی مختصر اور غیر آئینی اقدام کے تحت ، دفعہ370اور35A کو منسوخ کرکے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اورجموں وکشمیرکے آئین کو ناقابل اطلاق بنانے کی کوشش کی گئی‘‘۔ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ5 اگست 2019 کو کئے جانے والے اقدامات سراسر غیر آئینی تھے اور حقیقت میں ہمیں بے اختیاربنانے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی بنیادی شناخت کے لئے چیلنج ہے
اس سے قبل نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جب تک جموں وکشمیر کو یوٹی رکھا جائے گا وہ انتخابات میں شرکت نہیں کریں گے ۔جموں وکشمیر کی عوام تو برسوں سے ہی رنجور ہیں تاہم اب وہ وقت بھی آگیا ہے کہ ہند نواز سیاسی جماعتیں بھی زخمی ہو کر مرکز کے اقدمات کیخلا ف یک زبان ہوجائیں ۔خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے دوران جموں وکشمیر کو مثالی جگہ بنانے کے وعدہ و نعرے فضا ء میں بلند ہو رہے تھے لیکن ایک برس بعد بے روز گار نوجوانوں ،سرحدی علا قوں کی عوام و گولہ باری متاثرین کی آوازیں ہی بلند ہو رہی ہیں جبکہ ڈومیسائل قانون پر بھی اعتراض کئے جارہے ہیں اور یہ وہ سارے سوالات ہیں جن کا مرکز کو جواب دینا پڑے گا ۔ایک سال قبل جن نعروں کے ساتھ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی ،ایک سال بعد وہ نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور عملی طور کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔نہ ترقی آئی اور نہ ہی روزگار ملا۔اب تو حالت یہ ہے کہ8ہزار درجہ چہارم اسامیوں کیلئے اب تک8لاکھ نوجوانوںنے فارم جمع کرائے ہیں اور یہ آٹھ لاکھ نوجوان تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے صرف بارہویں پاس ہیں کیونکہ اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو درخواستیں دینے کی اجازت ہی نہیںہے ۔اگر یہ صورتحال ہے تو خصوصی پوزیشن کے خاتمہ کا کیا فائدہ ہوا ہے؟۔یہ اور اس طرح کے دیگر درجنوں سوالات ہیں جو مرکزی سرکار سے کئے جاسکتے ہیں تاہم یہ سوالات جبھی ہونگے جب ہماری آواز متحد ہوگی اور جب اتحاد ہوگا تو کوئی سنے گا،ورنہ یہ نقار خانے میں طوطے کی آواز ہی ثابت ہوگی جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔
موبائل نمبر ۔9419952597
ای میل ۔[email protected]