اس وقت جو خبر ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، وہ روس اور یوکرین جنگ کی ہے۔ کورونا وبا سےپوری دنیا کی توجہ ہٹا کر اب اس جنگ کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ عجب کھیل ہےعالمی سیاست کی نگری کا؟ 2019میں کووِڈ۔19 نے جس طرح اچانک ہماری زندگیوں میں دستک دی، ٹھیک اُسی طرح اس جنگ کی گونج سےکورونا وباء رخصت ہوئی، جیسے کہ کہیںاس بیماری کا کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ گویا اب وباء کے خاتمے کے ساتھ ہی ساری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی تباہ کُن وباکی طرف دھکیلنے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔یعنی جن لوگوں کو وباء نے چھوڑدیا ہے ،اب اُن کو جنگ کی ہولناکیوں مار کھا رہی ہے۔ ایک انجان اندھیرے سمندر سے نکل کر اب دُنیا اُس تباہ کُن گہرے سمندر میں داخل ہو رہی ہے، جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں،ناممکن سا دکھائی دے رہاہے۔ جس کو محسوس کرکے ایک عام انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر جنگیں کیوں ہوتی ہیں۔ ہاں!یہ الگ بات ہےکہ وہ خود بھی کئی جھگڑوں کا موجد ہوتا ہے جیسے کہ زَر،زمین،جائیدادکی ہوس اور حصول ہوتا ہے۔اور پھررنگ و نسل ،ذات پات ،مسلک ،مذہب اور منصب بھی لڑائیوں میں کارفرما رہتا ہےاور اُس کے بعد اَنّا ،طاقت اور ضرب وحرب کےہتھیاربھی شامل ِ کارہوجاتے ہیںاور نتیجتاًجنگ کی نبوت آجاتی ہے۔ اب اگرسوچیں کہ عالمی سطح پر جنگیں کن وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں؟تو اس میں ایک گھر کی ہی صورت حال شامل ہوتی ہے۔ کیا یہ جنگیں زمین کی ہوس، نظریاتی اختلافات، مذہبی جنون، طاقت کا دکھاوا،انسانی پاگل پن کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر محض ساری دنیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی غرض سے ہوتی ہے؟اس بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں ہوسکتی ہیں۔کچھ بھی ہو، جنگیں ایسے ہی نہیں لڑی جاتی ہیں۔ان میں بھی فوائد ومقاصد کا حصول ہوتا ۔ چند وجوہات کا ذکر مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔مادیت: زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول ایک ملک کو دوسرے ملک پر حملہ کرنے پر اُکساتا ہے۔جس میں زمین ، معدنیات اور پیسوں کی ہوس ہوتی ہے،جو ایک انسان کو درندہ بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہوس ایک ایسا مرض ہےجہاں اخلاقیات کا کوئی بھی عمل دخل نہیں رہتا ہے۔ انسان اپنی ناجائز چاہت پورا کرنے کے لئے کسی پر بھی چڑھ دوڑتا ہے۔۲۔ مذہبی جنونیت: کسی بھی مذہب میں یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ دوسرے انسان بے گناہ مارا جائے۔ ہاں! اس وقت یہ جائز ہے جب ایک انسان انسانیت کے لئےفتنہ و فساد کا باعث بن جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی انسان کو مارنا دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی بھی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ انسان مذہب کو کچھ مخصوص زاویے سے دیکھ کر مذاہب کو ہی لڑائی اور فسادات کاذریعہ بناتا ہے۔ اسی کے نام پر معصوم لوگوں کو مارا جاتا ہے، ان کے گھروں کو تباہ کرنا خدا کو خوش کرنے کے مترادف مانا جاتا ہے۔۳۔ چودھراہٹ: اصل میں اس کی جڑ خیالی برتری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کوئی ملک اپنے آپ کو دوسروں سے الگ پیش کرتا ہے۔ اپنے آپ کو اوروں سے اعلیٰ سمجھتا ہے۔ اپنی تاریخ، تہذیب و تمدن، رہن سہن، وغیرہ دوسروں سے الگ رکھتا ہے،وہ باقیوں کوانسان نما جانور سمجھتا ہے، اُن پر حکومت کرنا اپنا حق مانتا ہےاور اُن کو غلام بنا کے رکھنااپنی اَنا بناتا ہے۔یہی سوچ قاتلانہ ہوتی ہےاور یہی سوچ جنگوں کو فروغ دینے میں حد سے زیادہ رول ادا کرتی ہے۔۴۔ جاہل حکمران : ایسے حکمران جانے انجانے میں ایسا کچھ بول جاتے ہیں جس کی وجہ منافر ت پھیل جاتی ہے، جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیںاور انجام تباہی ہوتا ہے۔ بناسوچے سمجھے بولنا اور غلط کو سچ بناناہی تباہی کا سبب ہوتا ہے۔
ایک انسان ہونے کے ناطے ہم بہت حد تک ان جنگوں کو روک سکتے ہیںاور باہمی اختلافات کو ہم سازگار ماحول میں دور کرسکتے ہیں۔ مذہبی جنونیت کو کم کرنے کے لئے ہمیں مذاہب کا پھر سے مطالعہ کرنا چاہئے۔ پوری دنیا کو یہ سمجھانا چاہیے کہ مذہب کا بنیادی مقصد ہے امن و امان کا قیام ہے۔ اسلئے دانا افراد کو حکمران بنانا چاہئے۔ دانا افراد ہی حق و انصاف کا مظاہر ہ کرسکتے ہیں۔ مزید براں مادیت سے پرہیز کیا جائے۔کیونکہ مادیت ایساخوفناک سانپ ہے جو مر کر بھی ڈس لیتا ہے۔ مادیت کی ہوس تباہی کا مسکن ہے۔ اس سے پرہیز کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہر کوئی اس کارخیر میں آگے بڑھ کر اپنا رول نبھا سکتا ہے۔ اس میں محنت تو درکار ہے، مگر اس کے دوررس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ورنہ معصومین کا خون ہوتا رہے گا،لوگ گروہوں میں بٹتے رہیں گے، انسانیت کا قتل ہوتا رہے گا اور خدا کی زمین ہر روز لال ہوتی رہے گی۔کیا اسی مقصد کے لئے خدا نے ہمیں بنایا ہے؟
(حاجی باغ، زینہ کوٹ، سرینگر،رابطہ۔7889346763)