سید مصطفیٰ احمد
قوم اور معاشرے کی پہچان ان کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور اقدار سے ہوتی ہے۔ عید الاضحی کے مبارک تہوار کے موقعے پر جہاں خوشگوار مناظر دیکھنے کو ملے وہیں کچھ ناگوار تصویریں بھی سامنے آئیں،جن سے یہی تاثر ملا کہ عہد ِحاضر میں ہماری نوجوان نسل اپنی تہذیب اور اقدار کے بنیادی اصولوں سے غافل ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے ہماری تہذیب اور اقدار تنزلی کا شکار ہے۔ہر قوم کی تہذیب و تمدن میں خاندان کے بزرگوں کا اہم کردار ہوتا ہے، وہ اپنے ادوار کے معاشرتی ،سماجی معاشی مسائل اور رسم و رواج کے حساب سے زندگی کے تمام رموز کو دیکھتے ،پرکھتے ہیں، اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں نئی نسل کو آگہی دیتے ہیں لیکن آج کے اس جدید دور میں ہمارے نوجوانوں کے پاس والدین اور گھر کے بزرگوں کےلئے وقت نہیں ہوتا۔بس ہیلو، ہائے، اور ہائے بائے تک کا رشتہ ہے۔نوجوان خواہ کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، اُنہیںاپنے والدین اور دیگر بزرگوں کے ساتھ احترام اور تعظیم کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ اُن کے مخلص مشوروں پر عمل بھی کرنا چاہئے تاکہ صحیح سمت کی طرف گامزن ہو سکیں۔آج کل کے نوجوانوں میں خودسری ،ضد، اَناپسندی، طنزیہ گفتگو، اور تلخ لہجہ جیسے رویے کچھ زیادہ نظر آتے ہیں، انہوں نے اپنی ذات پر ایسا خول چڑھایا ہوا ہے کہ صرف ’’میں‘‘ کی گِرد ہی ان کی شخصیت گھومتی نظر آتی ہے۔ دوسرے کیا کہتے ہیں اُس کی انہیں پرواہ نہیں ۔ چھوٹے تو چھوٹے بڑوں کو بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ان کا انداز تکلم بہت زیادہ پست ہوتا جا رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُلجھنا بگڑنا اور لڑنا شروع کر دیتے ہیں، گھر سے باہر اُن کا انداز گفتگو بالکل ٖغیر مہذبانہ ہوتا ہے۔کسی کو قائل کرنے کے لئے دلائل دینے کے بجائے چیخ و پُکاراور گالم گلوچ کررہے ہیں۔ والدین اور بزرگوں کے ساتھ اُن کے مرتبے اور رُتبے کے لحاظ سے گفتگو کرنے سےنا بلد ہیں ۔ انداز اور الفاظ سے بے خبراُن کی دل آزاری کرتےنظر آرہے ہیں۔حالانکہ انداز گفتگو ہی ہمارے معاشرے میں تہذیب اور اقدار کی پہلی سیڑھی ہے۔نوجوان نسل کو وقت کی اہمیت کا بالکل احساس نہیں، اسی لئے ان کی زندگی میںتوازن نظر نہیں آتا۔ ہر کام میں بے قاعدگی ،کوئی کام وقت پر نہیں کرتے جبکہ وہ نوجوان جو وقت کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں اور اپنی معمولاتِ زندگی میں نظم وضبط کے ساتھ ہر چیز کا تعین کرتے ہیں، وہ زندگی میں ترقی کرتے ہیں۔ماضی کے نوجوان جو آج کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، انہوں نے اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے وقت کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے مطابق اپنے اصول واضح کئے لیکن آج کا نوجوان اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ رات کو دیر سے سوتے اور دیر سے اُٹھتے ہیں۔خاندان کے بڑوں اور والدین کی دخل اندازی انہیں برداشت نہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ نوجوان نسل اپنی زندگی میں نظم وضبط پیدا کریں اور وقت کی قدر کریں۔
دنیا کی تمام تہذیبوں،ثقافت اور اقدار میں علم کی آمیزش اور عکس نمایاں نظر آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے نوجوانوں نے علم کی سچائی کو سمجھا اور اپنے اپنی زندگی کا حاصل بنایا۔ لیکن ہمارے یہاںکی ترقی کی رفتار سے ظاہر ہورہا ہے کہ ہم دوسروں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ نوجوان نسل کو علم کی اہمیت ،اس کی حرمت کی پہچان نہیں۔جب طلبا امتحانی مراکز سے باہر آتے اور فاتحانہ، فخریہ انداز میں نقل کے پھروں کو جیبوں سے نکال کر فضا میں اُڑاتے ہیں گویاہماری قوم کی تعلیم کی قدر بکھری بکھری نظر آتی ہے۔ ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کو علم کی اہمیت اور اس کی افادیت کو سمجھنا چاہئے۔یاد رکھیئے۔علم کی جتنی عزت کریں گے آپ کو بھی اتنی ہی عزت ملے گی کیونکہ یہ آپ کی تہذیب ،ثقافت اور اقدار کا ایک ایسا ستون ہے جسے آپ ہی اس کی بنیادوں کو مضبوط اورقوی کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی سوچ بدلنا ہو گی، اپنی پہچان اور شناخت بنانی ہوگی، اور اپنی تہذیب و اقدار سے دوسروں کو متاثر کرنا ہوگا۔
(رابطہ۔7889346763)