سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں ویب پورٹلس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر دکھائی جانے والی فرضی خبروںپر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ایک طبقے میں دکھائی جانے والی خبروں میں فرقہ وارانہ رنگ ہونے سے ملک کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمعیتہ علمائے ہند کی فرضی خبروں کی اشاعت پر روک کے لئے عرضی اور کئی دیگر عرضیوں کی سماعت چیف جسٹس این وی رمن کی سبراہی میں ایک ڈویژن بنچ کر رہی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ سوشل میڈیا ، ٹویٹر ، فیس بک عام لوگوں کو کہاں جواب دیتے ہیں وہ کبھی جواب نہیں دیتے ، وہ عام آدمی ، اداروں یا ججوں تک کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم نے یہی دیکھاہے اور یہی ہمارا تجربہ ہے۔ان کا آگے کہنا تھا کہ ویب پورٹلس اور یوٹیوب چینلوں پر فرضی خبر وں اور چھینٹا کشی پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اگر آپ یو ٹیوب دیکھیں گے تو پائیں گے کہ کیسے فرضی خبریں آسانی سے نشر کی جا رہی ہیں اور کوئی بھی یو ٹیوب چینل شروع کر سکتا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران بھی اشتعال انگیز ٹی وی پروگراموں پر روک نہ لگانے کو لیکر مرکزی حکومت کی سرزنش کی جا چکی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے فرقہ وارانہ رنگ دیکر خبریں چلائے جانے کو لیکر جس تشویش کا اظہار کیا ہے اسے لیکر حکومت کو کوئی تشویش ہو، ایسا ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ عوام کو فرقہ پرستی میں الجھا کر وہ جواب دہی سے بچے رہتے ہیں۔
خبروں میں فرقہ واریت کا آغاز سوشل میڈیا سے ہوا ہو، ایسا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔صدیوں سے ساتھ رہتے رہتے ہندو اور مسلمان زبان میں لباس میں ، طور طریقوں میں ہم آہنگ ہو چکے تھے۔ہزاروں گائوں ، قصبوں میں ان کے گھر ملے ہوئے تھے، دل بھی ملے ہوئے تھے۔ ملک کے طول و عرض میں آباد مسلمانوں کی غالب اکثریت ان کی تھی جن کے اجداد نے سماجی ناہمواریوں کے باعث یاعہدوں اور جاگیروں کے لئے مذہب تبدیل کر لیا تھا۔ لیکن سماجی روایتیں برقرار رہیں تھیں ۔ تیوہار اور میلے سب کے ہوتے تھے۔ اس ہم آہنگی پر پہلا تیشہ چلایا فرنگیوں نے۔ انہوں نے قرونِ وسطیٰ کے راجائوں اور بادشاہوںکی اقتدار اور دولت کے لئے ہونے والی جنگوں کو ہندو اور مسلمان کے درمیان ہوئی جنگیں بنا کر پیش کیا۔ بغیر اس وضاحت کے کی ہندو راجائوں رانا پرتاپ ، شواجی وغیرہ کی فوج میں بڑی تعداد میں مسلمان سپاہی اور اکبر اور اورنگزیب کی فوج میں بڑی تعداد میں ہندو راجپوت ہوا کرتے تھے۔ مسلمان بادشاہوں کے ظلم و جبر اور مندروں کی مسماری کی داستانیں مبالغہ کے ساتھ عام کی گئیں۔ مقصد یہی تھا کہ اکثریت انگریزوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھے۔ اس طرح ایک ایسا حلقہ وجود میں آ گیا جو اس تاریخ سے متاثر تھا۔ ان لوگوں نے تنظیمیں قائم کیں اور ہندو و مسلمان کے بیچ خلیج وسیع ہونے لگی۔ انجام کار ملک کی تقسیم کا سانحہ رونما ہوا۔ ملک آزاد ہوا۔ آزادی کے بعد تعلیم کے دروازے ہر کسی پر وا ہو گئے۔ اور ملک میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اسکے ساتھ ہی خبروں کی ترسیل میں تیزی آنے لگی۔ جو بات پہلے چند لو گوں تک پہونچائی جا سکتی تھی وہ عوام کے بڑے حلقوں تک پہونچنے لگی۔اخباروں کی اشاعت بڑھتی گئی۔کسی خاص مقصد یا ذہنیت کو لیکر کتابیں تصنیف کرنے یا پمپلیٹ تقسیم کرنے کا چلن عام ہونے لگا۔ ایک زمانے تک صحافت کا معیار برقرار رہا۔تنازعات کے متعلق خبروں میں ’دو فرقے کے لوگوں میں تصادم ‘ یا دو ’گروپوں میں پر تشدد جھڑپ‘ جیسے الفاظ استعمال کئے جاتے۔ فرقے اور ذاتوں کا نام لینے سے احتراز کیا جاتا کہ ماحول اور زیادہ خراب نہ ہو۔ یہ روش شروع میں ریڈیو اور ٹی وی( دوردرشن) میں بھی برقرار تھی۔پرنٹ میڈیا میں فرقہ واریت کے اچھال کا زمانہ رام جنم بھومی کے لئے چلائی گئی تحریک کے دوران سب سے زیادہ نمایاں ہوا۔ میڈیا کے بے لگام ہونے کا دور سیٹلائٹ ٹی چینلوں کے شروع ہونے کے بعد تیزی سے آیا۔ سماجی ہم آہنگی کے مقصد سے برتی جانے والی تمام احتیاط بالائے طاق رکھ دی گئی۔ خبروں کے نام پر اشتعال انگیز مواد پیش کیا جانے لگا۔ چینل نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی تار تار کرنے لگے بلکہ جنتر منتر ، جادو ٹونا اور دھرم کے نام پر ضعیف الا عتقادی پھیلانے کاذریعہ بھی بن گئے۔ بحث کے نام پر وہ طوفان بد تمیزی برپا کیا جانے لگا کہ خدا کی پناہ۔ حکومت کے وفادار چینل آقائوں کی خوشنودی کے لئے مخصوص ایجنڈ ے کے تحت خبریں چلاتے ہیں اور اشتعال ا نگیزی میں مصروف رہتے ہیں۔ اور آگ میں گھی ڈالنے کا کام سوشل میڈیا کررہا ہے۔ جو کہ فیک نیوز کے پروڈکشن اور ڈسٹربیوشن کا مرکز بن چکا ہے۔ قلیل وقت میں جھوٹی خبریں ملک کے طول و عرض میں پہنچ جاتی ہیں لوگ خبریں اور اشتعال انگیز مواد ٹویٹر، واٹس ایپ اور فیس بک جیسے پلیٹ فارموں پر شیر کرتے چلے جاتے ہیں بغیر یہ جانے ہوئے کہ خبر کی اصلیت کیا ہے اور اسے کس مقصد کے تحت پوسٹ کیا گیا ہے۔ ان میں سیاسی نوعیت کی خبروں کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت چلائی جانے والی خبریں یا دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف پرپگنڈے پر مبنی مواد کی بھرمار ہوتی ہے۔ گاندھی اور نہرو تک میڈیا کی شر انگیزی سے محفوظ نہ رہ سکے۔
آج کے سماج میں بڑھ رہے فرقہ وارانہ نفرت کے زہر کا سب سے بڑا سبب میڈیا ہے۔ ہندوستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنے اور معاشرے کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کے ذمہ دار بھی الیکٹرانک میڈیا اور سو شل میڈیا ہیں۔ حالیہ چند برسوں کے حالات ظاہر کرتے ہیںکہ میڈیا کا ایک حصہ مسلمانوں کے خلاف مہم میں شامل ہے جہاں تک ملک کے اندر کے معاملات ہیں ، طلاق ثلاثہ کے متعالق قانون بنانے،بین ا لمذاہب شادیوں کو لو جہاد قرار دئے جانے اور اسکے لئے قانون سازی کا معاملہ ہو ، بڑھتی ہوئی آبادی ، تعداد ازواج، ہر معالے میں مسلمانوں کو مطعون کرنے کی ذمہ داری میڈیا اٹھائے ہوئے ہے۔ بلکہ اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں ہونے والے وا قعات اور تبدیلیوں کو بھی یہاں کی اقلیت کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تازہ معاملہ افغانستان میں طالبان کے حکومت پر قابض ہونے کا ہے۔جس کولے کر ہندوستان کے مسلمانوں کو طالبان کا طرفدارکہہ کر مطعون کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کے پھیلائے گئے زہر کے نتیجے میں ہجومی تشدد کے معاملات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جس سے ملک کی شبیہ سارے عالم میں داغدار ہو رہی ہے۔اس طرح سے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر خبروں کے نام سے پیش کیا جانے مواد ملک کی ایکتا ،گنگا جمنی تہذیب اور سا لمیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اگرچہ حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں اس بارے میں بے حس ہیں مگر عدالت عظمیٰ کی سختی دیکھتے ہوئے امید ہو چلی ہے کہ شاید حالات میں تبدیلی آئے اور نیوز چینل اور ویب پورٹل ہر معاملے میں ہندو مسلم اینگل تلاش کر کے نفرت پھیلانے کا کام بند کر دیں اور ایسی خبروں سے ہمارا سابقہ نہ پڑے جنہیں دیکھ کر دل کہتا ہے’ کہ کاش ہم بے خبر ہوتے‘۔
فون نمبر۔ 9450191754