محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اُس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ "سانحۂ کربلا "کے نام سے یادکرتی ہے۔دس محرم الحرام کومیدان کربلا میں تاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردِلوں کوہلاکررکھ دینے والاسانحہ رونماہوا۔یزیدیوں نے نواسۂ رسول ؐ ، اور سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓو شیرخداحضرت علی المرتضیٰؓکے لختِ جگر، نورِ نظر حضرت امام حسین ؑ کواُن کے اعزّہ و اقارب اوردیگرساتھیوں سمیت انتہائی مظلومیت کے عالم میں شہیدکیا۔تاریخ اسلام میں اوربھی بہت سی جانیں اللہ کی بارگاہ میں قربان ہوئی ہیں۔ ہرشہادت کی اہمیت وافادیت مْسلّم ہے مگرشہادت ِ سیدناامام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کی دوسری شہادتوں کے مقابلے میں اہمیت وشہرت اس لئے بڑھ کرہے کہ کربلاکے میدان میں شہیدہونے والوں کی آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ؐسے خاص نسبتیں ہیں۔یہ داستانِ شہادت گلشنِ نبوتؐکے کسی ایک پھول پرمشتمل نہیں،یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے کسی دورمیں بھی امت ِ مسلمہ کربلاکی داستان کوبھول نہیں سکتی۔ بقول علامہ ابوالکلام آزاد :’’ تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین ؑکی شخصیت جو اہمیت رکھتی ہے، محتاج بیان نہیں۔ خلفائے راشدینؓکے عہد کے بعد جس واقعہ نے اسلام کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ ان کی شہادت کا عظیم سانحہ ہے۔ بغیر کسی مبالغہ کے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی کے اس قدر آنسو نہ بہے ہوں گے، جس قدر اس حادثہ پر بہے ہیں۔… امام حسین ؑ کے جسم اطہر سے دشت ِ کربلا میں جس قدر خون بہا تھا، اس کے ایک ایک قطرے کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک ایک سیلاب بہا چکی ہے‘‘۔
حضرت امام حسین ؑکے فضائل و خصائص کے باب میں بہت سی احادیث منقول ہیں،جن میں نبی کریم ؐنے اپنے چہیتے نواسے کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت و شفقت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اْن کی عظمت ورفعت کو بھی بیان کیا ہے۔یہاں پر اِن میں سے چند احادیث کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
(۱) سنن ابن ماجہ، المقدمہ، ج : 2 : 1، ص : 51،( رقم : 143)کی حدیث ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا:’’جس نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی ، اْس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے حسنین ثقلین سے بغض رکھا، اْس نے مجھ سے بغض رکھا‘‘۔
(۲) جامع ترمذی، ابواب المناقب، ج : 5 ص : 660 (رقم : 3779)پر درج ہے :’’سر سے سینہ تک حضرت حسن رضی اللہ عنہ، مصطفی کریم ؐ کی شبیہ تھے اور سینے سے قدموں تک حسین رضی اللہ عنہ، مصطفیٰ کریم ؐکی شبیہ تھے۔ مشابہت ایسی تھی کہ الگ الگ دیکھو تو حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ دکھائی دیں، اور ملاکے دیکھو تو مصطفی کریم ؐ نظر آجائیں۔
(۳)مجمع الزوائد میںحضرت ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت امام حسن و حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو حضور اکرم ؐنے خود ان دونوں کے کانوں میں اذان دی۔
(۴)ابودائود شریف میںحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐ نے خود امام حسن ؑاور امام حسین ؑکی طرف سے عقیقے میں ایک ایک دْنبہ ذبح کیا۔
(۵)ابن کثیرنے لکھا ہے :حضرت مفضل سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن اور حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا، یہاں تک حضور اکرمؐ نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔اس سلسلے میں مشہورروایت ہے کہ حضوراکرم ؐ کو خبر ملی کہ بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیٹا ہوا ہے،چنانچہ اْن کے گھرتشریف لے گئے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ شیر خدا سے پوچھا :’’علی کیا نام رکھا ہے‘‘؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ذوقِ طبع کے مطابق عرض کیا : یارسول اللہؐ ! میں نے نام ’’حرب‘‘ رکھا ہے، فرمایا : لا بل حسن، نہیں اس کا نام حسن ہوگا، پھرحضرت حسین کی ولادت کے دِن خبر ہوئی ،دوسرا بیٹا ہوا ہے،تشریف لے گئے،پھرپوچھا : علی کیا نام رکھا ہے؟ عرض کیا : یا نبی ؐ ’’حرب‘‘ نام رکھا ہے۔ فرمایا : لابل حسین، نہیں،نام حسین ہوگا۔(احمد بن حنبل، المسند، ج : 1 ص : 118)
(۶)حضرت یحییٰ بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ؐنے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا رونا سنا تو آپؐپریشان ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: بیشک اولاد آزمائش ہے، میں بغیر غور کرنے کے کھڑا ہوگیا ہوں۔امام حسین ؑکے ساتھ نبی کریم ؐکی والہانہ محبت کے یوں تو بہت سے واقعات ہیں،یہاں پر ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔روایات میں آیا ہے کہ ایک دن نبی کریم ؐ اپنے فرزندارجمند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو گود میں لئے بیٹھے تھے کہ جبرئیل امین آئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ؐ! اللہ نے آپ ؐ کی طرف سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اِن دونوں میں سے ایک رکھ لیں اور ایک دے دیں۔ ایک کو دوسرے سے فدیہ کرلیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریمؐنے ایک نگاہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ایک نگاہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ چشمان ِ مقدس سے آنسو رواں ہوگئے۔ جبرائیل علیہ السلام کو تکتے رہے اور فرمایا کہ جبرائیل! اگر ابراہیمؓ کو دیتا ہوں تو صرف میں رئووں گا اور اگر حسین رضی اللہ عنہ کو دیتا ہوں تو میرے ساتھ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بھی روئے گی، اپنا رونا تو برداشت کرلوں گا مگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا رونا برداشت نہیں ہوگا، فرمایا! ابراہیم (رضی اللہ عنہ) کو دیتا ہوں، چنانچہ آپ ؐنے حضرت ابراہیم ؑ کودیا،جواس واقعہ کے تیسرے ہی دن رحلت فرماگئے۔
(۷)حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐ نماز ادا فرما رہے تھے تو حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپؐکی پشت مبارک پر سوار ہوگئے تو لوگوں نے ان کو منع کیا ،لیکن آپ ؐنے فرمایا :ان کو چھوڑدو، ان پر میرے ماں باپ قربان ہیں۔
(۸)حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐنے فرمایا کہ جس نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی، اْس نے مجھ سے محبت کی۔(ابن ماجہ)
(۹)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐ نے حضرت علی و فاطمہ و حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرف دیکھا اور فرمایا: جس نے تم سے جنگ کی، اْس نے مجھ سے جنگ کی۔
(۱۰) جامع ترمذی، ابواب المناقب، ج : 5 ص : 658 (رقم : 3775) میں یہ مشہور حدیث موجود ہے:’’حسینُ مِنِّی وَاَنَا مِنہْ،یا ایک دوسری روایت میں وانا من حسین یعنی:’’حسین (رض) مجھ سے ہیں، اور میں حسین (رض) سے ہوں‘‘۔جن دوسریاکابرین نے اِس روایت کو نقل کیا ہے،اْن میں ابن ماجہ ، ابوہریرہ ، نسائی ، ابن اثیر ، سیوطی ، امام احمد بن حنبل اور طبر ی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اس حدیث شریف میںنبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسین ؑکے خونی رشتے کے علاوہ دونوں کے روحانی اور معنوی روابط کی صراحت ملتی ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ دین اسلام، جس کی تکمیل اللہ نے اپنے آخری نبیؐ کے ذریعے کی، اْس کا تحفظ حضرت امام حسین ؑنے کیا۔ بعض ماخذ میں اس جملے کے ساتھ دیگر جملے بھی نقل کئے گئے ہیں ،جن میں حضرت امام حسین ؑکے ساتھ حضور اکرم ؐکی شدید محبت کا اظہار ہوتا ہے۔چنانچہ آپؐکا یہ قولِ مبارک متعدد روایات میں موجود ہے،جس میں آپؐنے فرمایاکہ ’’جس نے حسین ؑسے محبت کی ،اس نے اللہ سے محبت کی ‘‘۔نیز فرمایا :یا اللہ !جس نے حسنین ؑیعنی حسن ؑاور حسین ؑسے دشمنی کی، میں بھی اْس کا دشمن ہوں۔ بعض روایات میں ایسے الفاظ بھی اس حدیث کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضوراکرمؐ اْن لوگوں سے صلح وآشتی چاہتے ہیں ،جو حضرات حسنین کریمینؑ کے ساتھ امن وسلامتی سے رہیں ،اور اْن کے ساتھ آپؐ نے جنگ کا اعلان کیا ہے ،جو حسنین ثقلین کے ساتھ جنگ وجدال کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔
ایک معروف مصنّف کے الفاظ میں:’’یہاں جو بات توجہ طلب ہے ،وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ؐبابا ہیں اور حسین رضی اللہ عنہ بیٹے ہیں، بیٹا بابا سے ہوتا ہے، حسینْ منی، حسین رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے، نواسہ، بابا سے ہوتا ہے، شاخ، درخت سے ہوتی ہے، پھل، شاخ سے ہوتا ہے، جز، کل سے ہوتا ہے، حسین رضی اللہ عنہ کا مصطفی کریم ؐسے ہونا سمجھ میں آتا ہے مگر مصطفی کریم ؐ حسین رضی اللہ عنہ سے کیسے ہوئے؟–اس کے ایک معنی تو وہ ہیں، جو اہل علم نے بیان کیے ہیں، کہ مصطفی کریم ؐمصدرِ حسین ؓہیں اور حسین رضی اللہ عنہ مظہر ِمصطفیؐ ہیں۔ بتانا مقصود یہ تھا ،کہ جو کچھ حسین رضی اللہ عنہ کا ہے، اس کا کمال مجھ سے ہے اور جو کچھ میرا ہے ،اس کا ظہور حسین رضی اللہ عنہ ہے۔ پیدائش سے لے کر کربلا تک حسین رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گود سے کربلا تک حسین رضی اللہ عنہ مصطفی کریمؐ سے تھے، مگر کربلا سے لے کر آج تک مصطفی کریمؐ کے دین کا پرتو حسین رضی اللہ عنہ سے ہے۔
حضرت امام حسینؓ کی عظمت اور حضور اکرم ؐکی اْن سے فرطِ محبت کا اندازہ اْس روایت سے بھی کیا جا سکتا ہے،جو ابن عبد البر قرطبی نے حضرت ابو ہریرہؓسے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:’’میںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا ہے ،کہ پیغمبرکریمؐامام حسین ؓکے دونوں ہاتھوں کو تھامے ہوئے تھے۔ اور امام حسینؓ کے دونوں پائوں پیغمبر اکرمؐکے پائوںپرتھے ، آپؐ نے فرمایا :اوپر آمیر ا بیٹا، امام حسین ؑ اوپر چلے گئے ،اور پیغمبرکے سینۂ مبارک پر پائوں رکھا ، اْس وقت آپ ؐنے فرمایا :حسین منہ کھولو ، اس کے بعد حضوراکرمؐنے امام حسین ؓکو چوما اورفرمایا : پروردگار! اِس سے محبت کر ، اس لئے کہ میں اِس کو چاہتا ہوں۔ایسی متعدد روایات موجود ہیں،جن میںاِس سے ملتے جلتے واقعات کا بیان ہے۔
کئی مشہور محدثین ومؤرخین کی روایات ایسی ہیں،جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسنین کریمین ؑسے دوستی مومنین پر واجب ہے اوران سے محبت کے بغیر کسی شخص کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا، اور ان سے مقابلہ کرنے والا یا بغض رکھنے والااللہ اوراس کے رسولؐ کا دشمن قرار پاتا ہے۔ ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن حضر ، امام احمد بن حنبل ، حاکم ، ابوبکر سیوطی ، ابو سعید خدری ، سبط ابن الجوزی ، خلیفہ ہارون الرشید ، مؤ رخ طبری وغیرہ نے عبداللہ بن عمر ،یعلی بن مرہ ، سلمان فارسی وغیرہ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیھم اجمعین کے حوالے سے ایسی احادیث نقل کی ہیں ،جن کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرمؐنے اْن لوگوں سے محبت ودوستی کا اظہار فرمایا ہے، جو حسنین کریمین ؑسے محبت ودوستی رکھتے ہیں ،اور اْن لوگوںکے ساتھ نفرت وعناد کا اعلان فرمایا ہے ،جو امام حسن ؑوامام حسین ؑسے دشمنی رکھتے ہیںاور بغض کا اظہار کرتے ہیں۔
نیز ان احادیث ِ مبارکہ میںاْن لوگوں کے لئے جنت ِ نعیم کی بشارت دی گئی ہے، جو حسنین کریمین ؑسے محبت کرتے ہیں ،اور ان لوگوں کے واصلِ جہنم ہونے کی خبر دی گئی ہے، جو اِن دونوں سے بغض وعناد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے بعض حوالوں میں حضرت امام حسین ؑکے والدین گرامی قدر کا بھی ذکر ہے اور یہ ارشادِ نبوی نقل کیا گیاہے کہ ’’جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں (یعنی حسنین )اور ان کے ماں باپ سے محبت کی ، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے پہلو میں مقام پائے گا۔ ‘‘
مذکورہ احادیث ِ نبویؐکی روشنی میںیہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل بیت ِ رسولؐ کے ساتھ دشمنی رسول کریمؐ کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے ،اور ان سے محبت کا مطلب اللہ ورسو لؐ سے محبت کا اظہار ہے۔ ان احادیث کے مفاہیم کوایمان کے اصول وشرائط کے تحت پرکھنا چاہئے ، کیوںکہ تکمیل ایمان کی شرط انتہائے محبت ِ رسولؐہے، جس کے بغیر مسلمان اْخروی فلاح نہیں پا سکتا۔اسی طرح آلِ محمد ؐسے عشق ومحبت کے بغیر محبت ِ رسولؐنامکمل ہے ،اورمحبت ِ رسولؐکے بغیرایمان نامکمل ہے۔
(مضمون نگار مدیر:ماہنامہ "الحیاۃ"اور"جہانِ حمدونعت" ہیں۔رابطہ۔9419403126 / 9906662404)