سرینگر//سرکاری اداروں کو جوابدہ اور انکی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے حق اطلاعات قانون کو اہم و موثر ہتھیار قرار دیتے ہوئے سینٹرل یونیورسٹی کے وایس چانسلر پروفیسر معراج الدین نے کہا کہ عوام اپنے مسائل کو سرکاری محکموں میںحل کرنے کیلئے آر ٹی آئی کا بہترین طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کی طرف سے نوگام میں تدریسی بلاک میںفروغ ہنر ورکشاپ منعقد ہوا جس کا اہتمام یونیورسٹی کے شعبہ قانون نے دولت مشترکہ انسانی حقوق پہل(سی ایچ آر آئی) کی شرکت سے کیا گیا تھا۔سینٹرل یونیورسٹی کے وایس چانسلر پروفیسر معراج الدین نے صدارتی خطے کے دوران کہا کہ سرکاری محکموں میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے حق اطلاعات قانون شہریوں کے ہاتھوں میں ایک اہم ہتھیار ہے۔انہوں نے کہا’’ حق اطلاعات قانون وکلاء کے ہاتھوں میں بھی ایک بہترین ہتھیار ہے،جو کسی بھی عوامی فنڈ حاصل کرنے والے سرکاری محکمے ،ادارے و ایجنسی سے حقیقت پر مبنی اطلاعات حاصل کر سکتے ہیں،تاکہ وہ عدالت میں اپنے کیس کی پیروی پیشہ وارانہ انداز سے کریں۔انہوں نے تاہم کہا کہ حق اطلاعات قانون کو مفاد خصوصی رکھنے والے کچھ لوگ اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کیلئے استعمال میں لا سکتے ہے۔پروفیسر معراج الدین میر نے کہا کہ سینٹرل یونیورسٹی نے پہلی بھی حق اطلاعات قانون کے فوائد اور طلاب کو جانکاری حاصل کرنے کیلئے سمینارو کا انعقاد کیا ہے۔ اسکول آف لیگل اسٹڈئز کے ڈین و شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر شیخ شوکت حسین نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حق اطلاعت ،آزادی اظہار رائے کا ایک حصہ ہے۔ ڈاکٹر شیخ شوکت نے کہا کہ حق اطلاعات قانون کے نفاذ کے بعد تمام سرکاری محکموں نے اپنی رابطہ گاہوں پر تمام طرح کی تفصیلات کو مہیا رکھا ہے،تاکہ شفافیت کا ماحول پیدا ہوسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ حق اطلاعات نے عوامی زندگی اور تعلیم کے میدان میں ایک موثر آلہ کے طور پر کام کیا ہے۔بعد ازاں جموں کشمیر حق اطلاعات قانون کے بارے میں جانکاری فرہم کی گئی جبکہ اس بات کے طریقہ کار پر بھی روشنی دالی گئی کہ اس قانون کی رئو سے کس طرح مطلوب انفارمیشن کا حصول کیا جاسکتا ہے۔ تقریب میں جموں کشمیر آر ٹی آئی مومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر شیخ غلام رسول،سی ایچ آر آئی کے پروگرام آفیسر شکھا چبر،کارڈی نیٹر ونکٹیش نائک کے علاوہ شعبہ کے ممبران اور محققیں طلاب سمیت دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔ شعبہ قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر،ہلال احمد کے علاوہ گل افروز جان بھی موجود تھی۔