ممبئی ہائی کورٹ نے 12ستمبر2020کے روز کہا کہ آئین کے تحت فراہم کردہ تقریر اور اظہار رائے کی آزادی لامحدود حق نہیں ہے۔مذکورہ عدالت نے یہ مشاہدہ ممبئی پولیس کی جانب سے مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور ان کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف ٹویٹر پر مشتعل تبصرے کرنے کی ملزم خاتون کو گرفتاری سے عبوری تحفظ دینے سے انکار کرتے ہوئے کیا۔عدالت کا ماننا تھا کہ حق اظہار کوئی لامحدود حق نہیں ہے۔
ماہرین مانتے ہیںکہ حق اظہار اصل میں ایک اصول اور ایک نظریہ ہے جو ایک فرد اور ایک کیمونٹی کو ایک مہذب طریقے سے کسی ڈر اور خوف کے بغیر اپنی آراء پیش کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔البتہ فطری طور ہر حق اپنے ساتھ فرائض بھی لے آتا ہے اس لئے سماج کے ہر فرد اور ہر کیمونٹی پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق کا استعمال کرتے وقت دوسروں کے جذبات کا خیال رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی شخص کی تذلیل نہ ہو اور کسی خاص نظریہ کے حامل لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔
بعض یورپی ممالک ، جنہیں ترقی یافتہ جمہوری مملکتیں ہونے کا دعویٰ ہے، میں حق اظہار پر حدود وقیود کی ایک باقاعدہ فہرست کے بجائے کچھ رہنما اصول مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ یعنی کسی شخص کے حق اظہار کو صرف اس وقت محدود کیا جا سکتا ہے جب اس کا کوئی معقول جواز موجود ہو، اور ایک آزاد اور جمہوری معاشرے میں اس جواز کی معقولیت کسی عدالت میں ثابت کی جا سکتی ہو۔ ترقی یافتہ جمہوری نظام کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ حق آزادی رائے تقریبا ًلا محدود ہے۔ ان کے مطابق اس پر پابندی کا سوال خال خال اور بہت ہی غیر معمولی حالات میں اٹھایا جاتاہے۔ اگر یہ سوال کھڑا بھی ہو تو اس کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے۔ مثلا نسلی یا مذہبی نفرت وغیرہ۔ اگر کہیں کوئی سوال کھڑا ہوتا بھی ہے تو اس کے حل کے لئے آزادنظام عدالیہ ہوتاہے۔ جہاں تک نفرت انگیز تقاریر یا مواد کا تعلق ہے، تو اس کے لیے مقامی ضابطہ فوج داری میں مناسب قوانین بھی موجود ہوتے ہیں۔ ان طے شدہ قوانین، اورر وایات کی موجودگی میں عام شہری ریاست یا سماج کی طرف سے کسی قسم کے دباؤکے بغیر اپنا حق آزادی استعمال کر سکتا ہے۔
اس کے بر عکس اکثر ممالک میں اگرچہ ان چیزوں کی فہرست موجود ہے، جن پرریاست ایک شہری کاحق آزادی محدود کر سکتی ہے ، لیکن اس فہرست میں دئے گئے موضوعات پر اظہار خیال کرنے کے لیے کیا حدود ہیں؟ ان پر کون سی بات کرنا مناسب ہے، اور کون سی نا مناسب؟ ان باتوں کی تشریح اور تعبیر پر اتفاق موجود نہیں ہے جس کی ضرورت ہے۔
گویا اس میدان میں ایک الجھاؤ اور تذبذب ہے۔ اس کی وجہ سے ایک شہری محض الزام کی بنیاد پر دوسرے شہری کو بغیر کسی ثبوت و کارروائی کے مجرم تصور کر لیتا ہے۔ یہی طرز عمل بسا اوقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا، یا محض الزام کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا یا پھر ملزم کو ہراساں کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ریاست ملزم کو قانونی عمل سے گزارنے کی پابند ہے اور اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ یہ طریقہ خود قانون نے متعین کیا ہے۔ اس کے لئے طے ہے کہ کوئی شکایت آنے یا رپورٹ درج ہونے پر پولیس ضابطے کی کارروائی کرے۔ تفتیش کے بعد معاملہ ثبوتوں سمیت عدالت میں پیش کر ے، وغیرہ۔
بیشتر ماہرین کے مطابق کسی کے متعلق ، کہیں بھی کچھ بھی کہنے کا نام اظہار رائے کی آزادی ہے تاہم ناقدین اس طرح کی آزادی کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اس پر دوسروں کے جذبات اور شخصیات کے احترام کی پابندی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ان ناقدین کی حمایت مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے وہ افراد بھی کرتے ہیں جن کا ماننا ہے کہ لامحدود اظہار رائے کی آزادی سے عقائد میں مداخلت اور عقائد سے متعلق جذبات کا احترام یقینی نہیں بنتا ہے۔
پھر انسان کے ذاتی احترام کے وکلاء بھی اظہار رائے کی لامحدود آزادی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی شخص ،خواہ وہ بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو یا عام زندگی گذار رہا ہو،عزت و احترام کا حق رکھتا ہے۔کسی بھی دوسرے شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اُس کی تذلیل کا ارتکاب کرے۔با الفاظ دیگر کسی بھی شخص یا ادارے کے خیالات کیساتھ اختلاف کی آزادی ایک مسلمہ حق ہے لیکن اس کے اظہار کا طریقہ مہذب ہونا چاہئے۔یعنی اختلاف رائے کا حق ہمیںدوسرے شخص کی تذلیل یا اُس کی بے عزتی کی اجازت نہیں دیتا ہے بلکہ ہم پر دوسروں کے جذبات اور دوسروں کی عزت نفس نیز زندگی کا خیال رکھنے کی اضافی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
اظہار رائے کے حق کی تعریفیں کرتے ہوئے کسی کا قول ہے ’’اظہار خیال انفارمیشن حاصل کرنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے‘‘۔ہاں،ایسا کرتے ہوئے دوسروں کے جذبات اور عزت نفس کا احترام نیز تحمل لازم ہے تاکہ بحث و تمحیص تکرار کی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔ایسا کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ متضاد نقطہ نگاہ مسلمہ اصولوں اور عقائد کیخلاف بھی نہ ہو بصورت دیگر ایسا سماجی فتنہ برپا ہونے کا خدشہ ہے جو تشدد پر ختم ہوسکتا ہے۔ان باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی بعض ماہرین اس بات کے قائل ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی لا محدود نہیں ہے۔
ہمارے یہاں آج کل سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کے حساس موضوعات پر گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ ان مباحثوں میں اکثر گرم گفتاری پر ختم ہوتے ہیں جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شرکاء دلائل اور حقائق کے بجائے جذبات کا سہارا لیتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے نظر آتے ہیں۔یہ انتہائی افسوسناک بلکہ تشویشناک بات ہے کہ ہم میں قوت برداشت قابل ذکر حد تک کم ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ہمیں اکثر سنجیدہ نوعیت کے موضوعات پر بھی گرم گفتاری اور بعض اوقات فتویٰ بازی دیکھنے کو ملتی ہے۔
حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بعض مذہبی علماء بھی ان مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور وہ یہ امر بھول جاتے ہیں کہ مذہبی معاملات کو سوشل میڈیا ، جو خرافات سے بھر پڑا ہے ،پر زیر بحث لانا کتنے خطر ناک نتائج بر آمد کرسکتا ہے۔ نیز ایسا کرنے سے مذہبی عقائد کی خدمت بھی انجام نہیں پاتی ہے بلکہ اس کے برعکس ان کو نقصان پہنچنے کا ہی خدشہ ہے۔پھر ہمارے یہاں کے مخصوص حالات کے پیش نظرحساس معاملات کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کرنا بھی ممکن نہیں ہے اس لئے بھی بہتر یہی ہے کہ کم سے کم مذہبی موضوعات پر مباحثوں کو سوشل میڈیا سے دور ہی رکھا جائے۔حالانکہ یہاں کے حالات میںسیاسی معاملات پر آزادانہ بحث بھی ممکن نہیں ہے تاہم مذہبی معاملات کی حساسیت کے پیش نظر ان سے متعلق مباحث کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا ہر ذی حس شہری کی ترجیح ہونی چاہئے۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر شر انگیز مباحثوں کو روکنے کے اقدامات کرے لیکن اس کی آڑ میں لوگوں کے حق اظہار کی آزادی کو ہی غیر قانونی قرار دینا حکومت کے آمرانہ طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔آئے دنوں متعلقہ حکام کی جانب سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ پیشہ ور صحافیوں کو بھی طلب کرکے اُن سے پوچھ تاچھ کرنا اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہاں حق اظہار پر پہرے بٹھائے گئے ہیں۔لوگوں کی اس طرح سراغرسانی کرنا ایک ایسے سماج کو جنم دیتا ہے جو محض رد عمل کی راہوں پر ہی سوچتا ہے اور اس کے کتنے بھیانک نتائج بر آمد ہونے کے امکانات ہیں، یہ ماہرین اچھی طرح جانتے ہیں۔ حکومتی سطح کے ذمہ داروں کو اس بات پر سنجیدہ غور کرنا چاہئے کہ حق اظہار کو سرے سے ہی کچلنے کے نتائج کتنے مہلک ہوسکتے ہیں۔بدقسمتی سے وہ مختلف اصطلاحات کا سہارا لیکر ایک ایسا ماحول تیار کررہے ہیں جو نفرت پر آکر رکتا ہے اور نفرت کی چنگاریاں جب شعلے بن جاتے ہیں تو خاکستر اُس کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔