پچھلے مضمون بتاریخ 23؍ ستمبر کو ہم نے عوامی خدمات کی مختصر تاریخ پیش کرتے ہوئے اِس بات کو سمجھ لیا تھا کہ عوامی خدمات کی موجودہ صورتحال حقوق کی بنیادوں(Rights based) پرمبنی ہیں ، جس کی واضح مثال Public Services Gurantee Acts (PSGA) ہیں۔ یہ قوانین واضح طور پر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عوامی خدمات تک رسائی ہر ایک شہری کو ہونی چاہیے اور اس میں جو بھی اڈچنیں پیش آرہی ہیں اُن کو دور کیا جائے۔ اس سلسلے میںPSGA 2011 میں درج محکمہ مال کی جانب سے پہنچائی جارہی خدمات میں سے ایک خدمت کو بطور مثال کے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگر کسی شہری کومخصوص زمرہ کی سند (Reserved Catagory ) حاصل کرنی ہو تو اُسے ایک درخواست اپنے تحصیلدار کے دفتر میںجمع کرنی ہوگی۔ تحصیلدار پابند ہے کہ درخواست پر پندرہ دنوں کے اندر اندر کاروائی کرے۔ اگر تحصیلدار کاروائی کرنے سے قاصر رہا تو اُس کے خلاف ایڈیشنل ڈی سی کے پاس عرضداشت دائر کی جا سکتی ہے۔ اب اگرایڈیشنل ڈی سی نے بھی کوئی کاروائی نہیں کی تواِس قانون کی رُو سے ڈی سی صاحب کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔آخر میں اگر یہ پایا گیا کہ کسی بھی آفیسر نے واقعی میں سہولیت پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا تو اِسی قانون کی رُو سے متعلقہ آفیسر پر پانچ ہزار تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
ابھی تک اس قانون کے تحت 24 ؍محکمہ جات کو لایا گیا ہے۔ اس میں دسیوں عوامی خدمات کا تذکرہ کر کے لوگوں کے دروازوں تک پہنچانے کی ضمانت دی جا چکی ہے۔ عوامی خدمات کے ضمن میں جو حقوق عام شہری کو دئے گئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
٭عوامی خدمات تک آسان رسائی۔
٭طے کئے گئے وقت کے درمیان عوامی خدمات کی بہم رسانی۔
٭صاف اور شفاف طریقے سے عوامی خدمات کی دستیابی۔
٭عوامی خدمات کی بروقت اور معیاری رسائی۔
٭بروقت اور معیاری نہ ہونے پر متعلقہ آفیسر کی جوابدہی۔
٭کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے پر متعلقہ دفتر سے طلبِ معاوضہ۔
عوامی خدمات کی فرہمی کو لے کر ایک عام مشکل جو پیش آتی ہے وہ عام لوگوں کی عوامی خدمات اور سرکار کی طرف سے پہنچائی جارہی مراعات کے متعلق عدم انفارمیشن(lack of information) ہے۔ JKPSGA کے اندر اس مشکل کا یہ حل بتایا گیا ہے کہ ہر محکمہ دیوار پر ایک پوسٹر کے ذریعے سے اُس محکمے کی طرف سے پہنچائی جارہی خدمات کا تعارف دے اور اُن خدمات کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے، اُس کا بھی نمایاں الفاظ میں تذکرہ ہو۔اس کے ساتھ ساتھ اس قانون کے ذیل میں لائے گئے اداروں کو ذرائع ابلاغ کا خاطر خواہ استعمال کرتے ہوئے عام لوگوں تک بھی انفارمیشن پہنچانی ہوگی ۔ اتنا ہی نہیں ، اس قانون میں ایک الگ ذیلی محکمے عوامی خدمات کی انتظامی سیل (Public Services Management Cell) کا قیام بھی عمل میںلایا گیا ہے۔ اس سیل کا مقصدJKPSGA کی مکمل عمل آوری کو یقنی بنانا ہے۔
جیسا کہ اس بات کا تذکرہ پچھلے مضمون میں کیا جا چکا ہے کہ اگر اس قانون کو واقعی میں عملایا جائے تو عوامی خدمات کی فرہمی کو لے کر ایک انقلاب آ سکتا ہے۔ کیوں کہ اس قانون میں صرف عوامی خدمات کی فراہمی کو نہ صرف آ سان بنایا گیا ہے ، بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو لے کر پیش آرہی مختلف اڈچنوں کا اِزالہ بھی کیا گیا ہے۔ حالانکہ ان اڈچنوں کا برا ہ راست نام نہیںلیا گیا ہے، لیکن مقصد وہی ہے کہ اڈچنوں کو دور کیا جائے۔
ان اڈچنوں میں ایک عام اڈچن کرپشن(Corruption) ہے۔ کرپشن ہمارے معاشرے کا ایک حرفِ عام بن چکا ہے۔ کرپشن اُس ایک عمل کا نام ہے جس میں کسی شخص یا دفتر کو خدمات پہنچانے کے عوض اُس کے فرضِ منصبی کے ہوتے ہوئے کوئی فائدہ پہنچائے جائے۔ یہ فائدہ بذاتِ خود ناجائز ہے۔ کیوں کہ اُس فرض منصبی کی انجام دہی کے صلے میں متعلقہ شخص کو اپنی جائز مراعات پہنچائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی سرکاری دفتر میں ایک اہلکار کو لوگوں کی خدمت کے لیے مامور کیا جاتا ہے، جس کے بدلے میں سرکار اسے باضابطہ تنخواہ اور یگر مراعات بھی دیتی ہے۔ لیکن اِس کے ہوتے ہوئے اہلکار لوگوں سے کام کی انجام دہی کے مقابلے میں کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کرے یا اسے خود پہنچایا جائے، اس عمل پر کرپشن کی اصطلاح کا اطلاق ہوگا ۔ بعض اوقات کرپشن کو طے شدہ معاہدے اور لکھے گئے قانون کے خلاف عمل کرنے کے معنوں میں بھی لیا جاتا ہے۔ JKPSGA کا اصل میں مقصد یہی تھا کہ کرپشن کو دور کیا جائے۔ لیکن اس کے ہوئے ہوئے بھی کرپشن نہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ وجہ بس یہی ہے کہ قانون کو اوراق کی زینت بڑھانے میں ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ بالفعل قانون کہیں موجود ہی نہیں ہے۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں۔ ای میل۔ [email protected])