ریاسی جموں کے کسی بد بخت کی جانب سے حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جانے پر اس کو جرم کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے کیونکہ مسلمان حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں اور اس طرح کے واقعات سے ملک میں امن وامان کے بجائے افراتفری، عدم رواداری میں اضافہ ہی ہوگا جس سے ملک میں ترقی کے بجائے عدم استحکام پیدا ہو گا لوگوں میں نفرت اور عداوت پیدا ہوگی۔
پوری دنیا کے ارباب علم ودانش کا موقف ہے کہ کسی شخص کی توہین وتحقیر کرنیکی اظہارِ آزادیٔ رائے سے کوئی تعلق نہیں۔تقریباً ہر ملک میں شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ہتک ِعزت کی صورت میں عدالت سے رجوع کریںاور ہتکِ عزت کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دلوائیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی شخض کی ہتک عزت کرنے والے کوقانوناً جرم تسلیم کیا جاتا ہے، تو مذاہب کے پیشواوں اور خاص طور انبیائے کرام کے لئے یہ حق کیوں تسلیم نہیں کیا جارہا ہے اور مذہب کے راہنمائوں کی توہین وتحقیرکو رائے کی آزادی کہہ کر جرائم کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں کیسے شامل کیا جارہا ہے؟ یہ آزادیٔ رائے نہیں بلکہ صرف اور صرف اسلام مخالف تنظیموں اور حکومتوں کی انتہا پسندی اور فکری دہشت گردی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ دنیا میں امن وسلامتی قائم کرنے کی کی دعوت دی ہے۔ جس کی زندہ مثال ہندوستان کے احوال ہیں کہ مختلف ہندوتنظیمیں ملک کے امن وامان کو نیست ونابود کرنے پرتلی ہوئی ہیں مگر مسلمانان ِ ہنداپنے جذبات پر قابورکھ کر یہی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں چین اور سکون باقی رہے۔ پوری امت مسلمہ متفق ہے اور دیگر مذاہب بھی اس کی تردید کرتے ہیں کہ حضرات ابنیاء کرام کی توہین وتحقیرسنگین ترین جرم ہے۔ اس لئے کہ اس میں مذہبی پیشوائوں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ قرآن وسنت اور دیگرمذاہب میں اس کی سزا موت ہی بیان کی گئی ہے کیونکہ اس سے حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کے احترام کے تقا ضے پورے ہوتے ہیں اور ان کے کروڑوں پیرو کاروں کے مذہبی جذبات کی جائز حد تک تسکین ہو پاتی ہے۔
حال کی ہی بات ہے کہ موت کی سزا دینے والی اتھارٹی صرف حکومت وقت کو ہی حاصل ہے کیونکہ عام آدی کے قانون کو ہاتھ میں لینے سے معاشرہ میں لاقانونیت اور افراتفری کو ہی فروغ ملے گا۔ لہٰذا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ توہین وتحقیر کی عمل کوسنگین جرم قرار دے کر مجرموں کے خلاف ضروری کاروائی کرے۔
امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص کوقتل کیا جائے گا۔ قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں تفصیلی بحث کی ہے۔ غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسالت کے مرتکب کوقتل کرنے کام حضور اکرم ؐنے دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔کسی نے حضورؐسے عرض کیا: آپؐ کی شان میں توہین کرنے والا ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اْ سے قتل کردو (صحیح بخاری)یہ عبداللہ بن خطل وہ مرتد تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شعر کہہ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین کرتا تھا۔ اس نے دوگانے والی لونڈیاں اس لئے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضوراکرمؐ کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور اکرم ؐنے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہرنکال کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ِابراہیم اور زمزم کے کنوئیں کے درمیان اس کی گردن اڑا دی گئی(فتح الباری)
رابطہ ۔ امام وخطیب
جامع مسجد ملک صاحب صورہ
موبائل نمبر۔ 7006826398