کربلا اور جناب فضہؓ:
حضرت فضہؓ نے اہلبیت کے مسکینوں ، غریبوں، یتیموں ،بیوائوں ،مسافروں کے تئیں جود و سخااورایثار و ہمدردی کا شیوہ نہ صرف بارہابنفس نفیس دیکھا بلکہ اس گھر میں تھوڑی دیر رہ لینے کے بعد اسے یہ بات بھی بہت جلد معلوم ہوئی کہ اس عظیم گھرانے کے افرادانتہا درجے کی کفایت شعاری بلکہ فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔یہ محتاجوں کی خاطر خود کو سخت سے سخت تر زحمت میں ڈالنے کے لئے ہمہ وقت آمادہ و تیار رہتے ہیں۔چنانچہ حسنینؓ سمیت جناب علی مرتضیٰؓ اورفاطمتہ الزہراؓ کا تین دن تک روزہ رکھنے اور افطاری کے وقت اپنی قلیل اور معمولی غذا کا سائلین کو مسلسل تین دن تک پوری کی پوری دینا اور خود محض پانی سے افطاری کرنے کا واقعہ کافی مشہور ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سخاوت و ایثار کے اس لامثال مظاہرے میں حضرت فضہؓ بھی شریک رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت فضہؓ نے کسی عیش و عشرت کے ماحول میں زندگی کے یہ یادگار ایام نہیں گزارے بلکہ ایک عظیم تر ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اس نے حضرات اہلبیت ؑکی طرح سخت کوشی اور فقرو فاقہ کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔اور یہ طرز زندگی کسی جبرا ورزبردستی کے بجائے محض رضائے الٰہی کی حصولیابی کے لئے شعوری طور اپنایا۔اس نے راہ خدا میں تمام تر مشکلات کو جھیلنے کی بارہا مشق کی تھی ۔ اور اسی مشق کا اثر تھا۔ کہ حضرت فضہؓ تربیت یافتہ مجاہد کی طرح راہِ مجاہدت میں ثابت قدم رہیں۔
چنانچہ واقعہ کربلا میں حضرت فضہؓ کا کردار پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔حضرت فضہ ؓنے جو تربیت خانہ فاطمہؑ میں حاصل کی تھی وہ تربیت کربلا میں کام آگئی۔ یقینا خانہ نبوت حسنینؑ اور زینب و کلثومؑ کے ساتھ ساتھ حضرت فضہؓ کیلئے ایک ایسی تربیت گاہ تھی کہ جہاں ان ذواتِ مقدسہ کو مصائب و شدائد کی آندھیوں کے سامنے ڈٹے رہنے کی تربیت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام حسین ؑعازم کربلا ہوئے تو حضرت فضہ ؓ بھی محذرات عصمت و طہارت کی معیت میں عشقِ اہلبیت ِ رسول ؐکاامتحان دینے نکل پڑیں۔ حضرت فضہؓ نے وادیٔ عشق میں جگہ جگہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ وہ اس عظیم سانحہ میں بھی اہلبیت کرام ؑکے شانہ بہ شانہ ظلم و تعدی کے خلاف لڑتی رہیں۔ مقاتل نگاروں نے حضرت فضہؓ کو واقعہ کربلا کے ہر پڑا ؤپرایک فعال کردار کے طور پیش کیا ہے۔
حضرت فضہؓ ان تمام مظالم کی چشم دید گواہ ہے جو اہلبیتؑ کرام پر ڈھائے گئے۔ غور طلب بات ہے کہ رشتہ ٔازدواج میں منسلک ہونے اور صاحب اولاد ہونے کے بعد بھی حضرت فضہؓ نے درِ اہلبیتؑ سے اپنا ناطہ استوار رکھا۔کوئی نہ کوئی خاص بات ضرور تھی کہ جس نے اس عظیم خاتون کو مودت ِ اہلبیتؑ کامجسم نمونہ بنایا۔ نیزجتنے بھی مصائب اہلبیت ؑنے جھیلے یہ عظیم خاتون بھی بہ رضاو رغبت ان مصائب کا مقابلہ کرنے میں اہلبیت کی شریک ٹھہری ۔ یہاں پر یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ دراصل یہ رسول کریمؐ کی غلاموں اور کنیزوں کے تئیں شفقت و مروت اور حضرت فاطمہ ؓ اور خانہ زہرا کے دیگر افراد کا حسن سلوک ہے کہ جس نے محترمہ فضہؓ کو ایک عظیم قربانی کے لئے آمادہ کیا ۔ اگر خدا نخواستہ حضرت فضہؓ کے ساتھ بھی وہی رویہ روا رکھا گیا ہوتا تو کیا وہ مصائب و آلام کے روح فرسا مراحل میں اولاد ِ فاطمہؓ کا ساتھ دیتی؟اس کا مصیبت کی ہرگھڑی میں پیش پیش رہنا ہی اپنے آپ میں ناقابل تردید دلیل ہے کہ اسے اہلبیت ؑکے کردار و اخلاق نہایت ہی متاثر کیا تھا۔اور اہل ِ بیت کے حسن سلوک نے اس کے دل میں مودت کی جوت جگائی تھی ۔اور ہر اس گزر گاہ کو روشن کیا جس پر حضرت فضہؓنے اپنے دور حیات میں قدم رکھا اور اب بھی ان کامرقد مقدس مودت ِ اہلبیتؑ کی زندہ علامت ہے۔
حضرتِ فضہؓ نے بھی کربلا میں تین دن کی بھوک و پیاس برداشت کی۔ کشت و خون اور ماردھاڑ بچشمِ سر دیکھا۔ تاراجی خیام میں اپنی ضعیفی کے باوجود طفلانِ کربلا کو جلتے ہوئے خیموں سے نکالنے میں حضرت زینبؑ کی ممدومعاون بنیں۔ الغرض بڑی مستعدی کے ساتھ روز عاشورہ کئی ایک محاذوں پر مختلف ذمہ داریوں کو نبھایا۔سانحہ کربلا کے بعد خانوادہ ٔرسالتؐ کے ساتھ ساتھ حضرت فضہؓ عزم و استقلال کا مجسم نظر آئیں۔ انہوں نے تحریکِ کربلا کا اصل ہدف اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ لہٰذا کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اس نے قیدخانے کی سخت تر ین صعوبتیں جھیلیں۔ بھرے بازارمیں اپنی شہزادیوں اور اپنے تئیں بے حرمتی کے مناظر دیکھے۔ دیار بہ دیار سفر کی اعصاب شکن مشکلات کو عظیم تر مقصد کی خاطر گلے لگایا۔ دربار ابن زیاد اور دربارِ یزید میں درسگاہِ نبوت ؐسے حاصل کردہ تکلم کے جوہر دکھائے۔ خاص طور سے دربار یزید میں حضرت فضہؓ کی جرأتمندی سنہرے حروف میں اوراق تاریخی میں موجود ہے۔ یزید نے جب رسول زادیوں کی جانب اپنی پلیدنگاہ اٹھائی تو سن رسید حضرت فضہؓ یزید اور خاندانِ نبوت کی ان شہزادیوں کے درمیان حائل ہوگئیں۔ یزید نے برہمی کے عالم میں حضرت فضہ ؓ کو سامنے سے ہٹ جانے کو کہا لیکن وہ اس کی دھمکی آمیز لہجے سے مرعوب نہ ہوئیں۔ یزید نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ فضہؓ کو درمیان سے جبراً ہٹائیں۔ یہ دیکھ کر حضرت فضہ ؓدربار یزید میں مسلح حبشی غلاموں سے مخاطب ہوئیں۔ ان انہیں یہ غیرت دلائی کہ کیا تمہارے ہوتے ہوئے بھی تمہاری ملک و قوم کی بیٹی کے ساتھ بھی کوئی دست درازی کا کرسکتا ہے؟ یہ سننا تھا کہہ ان حبشی غلاموں نے تیوریاں چڑھائی۔ ان کی غیرتِ قومی جوش مارنے لگی۔ یہاں تک کہ یزیدکوحالات کی نزاکت کے پیش نظراپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔
یہ تھا حضرتِ فضہؓ کا کمالِ تدبر جس سے یزید جیسا ظالم و جابر بھی مات کھا گیا۔ نیز حضرت فضہؓ کا وہ جذبہ عقیدت بھی آشکارہوا جو اس کے دل میں خاندانِ عصمت و طہارت کے لئے تھا۔ اصل میں یہی جذبہ عقیدت ہے کہ جس نے اس گمنام کنیز کو ایک مشہور و معروف شہزادی بنادیا۔ صدیاں گزر گئیں لیکن آج بھی ہزاروں زبان و قلم اس کنیز نما شہزادی کی تو صیف تعریف میں رطب اللسان ہیںاور ان ذکر ِ خیر تا ابد ہوتا رہے گا۔
رابطہ۔ 7006889184
(نوٹ: اس مضمون کی شایع شدہ گزشتہ قسط میں کتاب الانساب کے مولف کا نام غلطی سے عبدالکریم بن محمد سمعانی کے بجائے ابن حجر عسقلانی درج ہوا ہے۔ہم ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب( اننت ناگ ) اور شہنواز احمدصاحب (بجبہاڑہ) کے نہایت ہی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس جانب متوجہ کیااور تصحیح فرمائی )