آئے آفتابِ خوش ضیایکہِ پرْتو آفگن مرِ
مردہ دلم زندہ نما یاشیخ حمزہ ؒ پیرِیماہ
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق فرمائی اور انکی ہدایت و راہنمائی کیلئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام معبوث فرمائے جنہوں نے انسانیت کو اللہ وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں سرنگوں کیا اور انکے ظاہر و باطن کو ہرطرح کی آلود گیوں سے پاک فرمایا۔ اور نبوت کاسلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو اور خاتم النبینؐ پر اختتام پذیر ہوگیا۔ بہرحال انبیائے علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین اور اولیا ئے کرام رحیم اللہ تعالیٰ نے خلق خدا کی رہنمائی کرکے انہیں علوم سے مزین کرنے اور انکی اصلاح نفس کے کام سرانجام دئے ۔جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا ، اصلاح نفس کے طریقوں میں بھی تبدیلیاں آتی گئی۔بزرگان دین نے تحریر و تقریر اور ہر ذریعہ سے لوگوں کی اصلاح کی۔بار ہا سیاسی طور پر اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا مگر مذہبی اعتبار سے اسلام مغلوب نہ ہو سکا۔اسکی وجہ یہی تھی کہ صوفیائے کرام رحیم اللہ تعالیٰ کی اصلاح نفس والی تحریک کے اثرات لوگوں کے دلوں میں موجود تھے ،انہی بزرگان دین کی کا وشوں کا نتیجہ ہے کہ آج بھی گلشن اسلام ہر ابھرا ااور لہلہاتا نظر آرہا ہے۔ ہمارا کشمیر بھی عرصہ دراز سے اولیا اللہ ، صوفیوں اور صاحب دلوں کا مسکن رہا ہے۔یہ بات درست ہے کہ علم الحدیث ،تفسیر،فقہ وغیرہ سب کے سب باضابطہ طورپر بعد میں وجود میں آئے۔کیونکہ خلافت راشدہ کے بعد عالم اسلام میں جونہی ملوکیت داخل ہوئی تودین کی روح مجروح ہونی شروع ہوئی۔اس کے نتیجہ میں صوفیائے کرام کا پہلاطبقہ وجود میں آیا جس کے سرخیل حضرت حسن بصریؒ ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔وادی کشمیر میں اگرچہ اسلام کی بنیاد حضرت بلبل شاہؒ نے ڈالی جب رنیچن(سلطان صدرالدین) کادورِاقتدار تھا۔ اور حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کی تشریف آوری سے وادی کشمیر کا ذرہ ذرہ اسلام کے نور سے منور ہوگیا ہے۔ سرزمین کشمیر نے آمد اسلام کے بعد بے شمار اولیاء اور علمائے ربانی پیداکئے۔ جنہوں نے اپنی تمام تر صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر اللہ کی وحدانیت اور کلمتہ الحق کے لئے اپنی زندگی وقف کرکے دنیا کی کھیتی میں ایسے ثمر دار اشجار اور شیرین باغ لگائے جن سے رہتی دنیا تک لوگ مستفید ہوتے رہیں گے۔ تقویٰ، پرہیز گاری اور عبادات و ریاضات میں وہ حق پرست لوگ اتنے کامل تھے کہ انسانیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہوگئے۔ ان ہی برگزیدہ شخصیات میں سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخددم رحمتہ اللہ علیہ ہے۔جنہوں نے سید الانبیا ؐ کے شریعت کو زندہ اور روشن رکھ کر آپؐکی نیابت کا پورا حق ادا کیا۔ حضرت شیخ حمزہ مخددم رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 900ھ کو تجر سوپور میں ہوئے ،(الرجال فی القری۔مردان حق دیہاتوں میں پائے جاتے ہیں)آپ ؒکا اسم مبارک حمزہ رکھا گیا۔حمزہ عربی میں شیر کوکہتے ہیں۔حضرت سلطان العارفینؒنے اپنے داد اسے قرآن پاک کی تعلیم پائی اور اس دور کے رواج کے مطابق گلہ بانی بھی کرتے رہے۔ گلہ بانی چوں کہ پیغمبروں کی سنت رہی ہے، لہٰذا حضرت مخدوم ؒجیسے ولی اللہ کو بچپن میں ہی اس سنت پر عمل کرنے کا موقعہ ملا۔ اسّعیدمن سعدفی بطن اْمہ( نیک بخت اپنی ماں کے بطن سے ہی نیک بخت ہوتا ہے) اس کے بعد آپؒ کو سری نگر لایا گیا اور حضرت بابا اسماعیل زاہد ؒ کے سْپرد کرکے خانقائہ دار الشفاہ میں داخل کیا گیا۔اس وقت خانقاہ میں بابا فتح اللہؒ، اخوندملاّ درویشؒ حافظ عربی اور اخوند ملاّ لطف اللہ درس دیتے تھے۔یہ اپنے اس دور کے مشہور ومعروف بزرگ تھے۔حضرت مخددم پاکؒنے علم تجوید، فقہ، حدیث، تفسیر ،ادب ود ینیات اور عربی وفارسی کی پوری مہارت حاصل کی تھی۔اور آپؒ نے کچھ عرصہ خانقاہ شمس چیک واقع کمانگر پورہ متصل جامع مسجد گزارا۔ اسی دور یعنی 932ھ میں حضرت سیدجمال الدین دہلوی البخاریؒ کشمیر تشریف لائے اور خانقاہ ملک احمد یتو میں قیام فرمایا،یہی پر حضرت شیخ حمزہ مخددم ؒکی روحانی تربیت فرمائی ،کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد حضرت شیخ حمزہ مخددمؒ کو شجرہ وارشاد نامہ کے علاوہ طاقیہ مبارک عنایت کرنے کے بعد یہاں سے رخصت ہوئے۔اس کے بعد حضرت مخددم پاک ؒ نے کچھ عرصہ مخدوم منڈو پر گزارا۔پھر کشمیر کے مختلف مقامات کا دورہ کرکے اقامت دین اوراشاعت اسلام کا فریضہ انجام دینے لگے۔اس راہ میں حضرت مخدوم پاک ؒ کووقت کے حکمران اور مفاد پرست افراد سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،لیکن آپؒنے بلند ہمتی اور عزم وثبات سے کام لے کر کسی بھی مخالفت کی پروانہ کی اور اپنا مقدس مشن جاری رکھا۔ اس کے بعد آپ ؒنے کوہِ ماراں (ہاری پربت) کا جنوبی حصہ تبلغ دین کیلئے پسند فرمایا۔یہاں پر لوگ آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر ظاہری و باطنی تربیت و فیض حاصل کرتے جاتے تھے۔حضرت سلطان العارفین ؒکے ہم عصر اولیا اللہ میں حضرت شیخ یقوب صرفی ؒ، حضرت سید احمد کرمانیؒ، حضرت خواجہ طاہر رفیقی ؒ اور حضرت مخدوم حاجی احمد قاریؒ وغیرہ بزرگ ہیں۔ اور آپ ؒ کے خلفاء میں حضرت ابوحنیفہ ثانی شیخ بابادائود خاکی ؒ ، حضرت ہردی باباریشی ؒ(ریشہ مالوصاحب)،حضرت میر حید رؒ تولہ مولہ،خواجہ حسن قاریؒ اور ملااحمد چاگلیؒ وغیرہ ہیں۔
حضرت شیخ حمزہ مخددم رحمتہ اللہ علیہ ایک پاکباز عارف اور صاحب نظر ولی تھے اور انکا طریق تصوف، مسلک درویشی اور مشرب عرفان ومعرفت تھا۔آج ہم اسی ولی کامل حضرت شیخ حمزہ مخددم ؒ کا ذکر خیر کر تے ہیں۔ولی اللہ بننے کے لئے اللہ عزوجل اور اس کے حبیبؐ کی رضا حاصل کرنا پڑتی ہے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خالصتاً اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولؐ کا بننا پڑتا ہے۔ولی ہونا آسان نہیں۔یہ گدی نشین دنیا کی ہر نعمت کو ٹھکرادیتے ہیں۔یہ ایسے فقیر ہوتے ہیںجن کی خانقاہوں میں بادشاہ وقت برہنہ پا حاضر ہوتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی دعائوں سے حاجت مندوں کی جھولیاں دعائو ں سے مرادوں سے بھر دیتا ہے۔ان کے ہاتھ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دوسروں کے لئے پھیلتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو شکر کی ایسی کیفیت کو جانتے ہیںجو نعمتوں کو دوام بخشتی ہے۔یہ شکر اور صبر جیسی عظیم نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔یہ زندگی کی کسی منزل اور ماحول کی کشمکش بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خوشنودی کی شاہراہ سے ڈانواں ڈول نہیں ہونے دیتے۔انہیں کوئی نعمت دی جاتی ہے تو اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کرتے ہیں اور کوئی آزمائش آتی ہے تو صبر کرتے ہیں۔یہاں تبرک کے طور پر ورد المریدین سے چند اشعار نقل کیے جاتے ہیں۔
1۔’’ان کی روح کے پرندے نے عالم ملکوت اور عالم جبروت کی سیر کی، پھر عالم لاہوت میں آ کر بہت سیر کی۔
2۔ان کا حال ایسا ہے کہ ان کے دم میں بھی ہوش ہے اور انجمن میں بھی خلوت کی کیفیت ہے، وہ خلوت میں بھی اور صحبت میں بھی مربی؟ ( کے طور پر) داخل ہوئے ہیں۔
3۔برسوں ہوئے انہیں ارشاد و بیعت کی اجازت ملی تھی لیکن وہ شیخ اور لنگر کے بابا بننے سے معترض ہی رہے ہیں۔
4۔وہ برسوں صبح غسل لازما ًکرتے رہے، اسی وجہ سے ان کا قلب اور روح ستر پاک رہے ہیں۔
5۔حضرت عیسیٰ سے ان کی نسبت صحبت اس لیے قوی ہے کہ وہ بھی عصمت کے لحاظ سے عیسیٰ علیہ کی مانند ماں کے شکم سے پیدا ہوئے۔
6۔توبہ و زہد، توکل، قناعت اور خوش خلقی جیسی صفات کے وہ مالک تھے۔ گوشہ تنہائی میں توفیق حق سے انہوں نے بہت ذکر کیا۔
7۔توجہ باطنی میں معروفیت کے باعث ان کا صبر شیریں ہو گیا۔ مراقبوں میں وہ ثابت قدم رہے اور رضا میں بہت زیادہ شکر کرنے والے تھے۔
8۔اسی طرح واقعہ خواب میں بھی، خدا کے فضل سے ہر لحظہ بڑے بڑے اور با وقار اولیاء سے ان کی صحبت رہی۔
9۔انہوں نے ہر کسی سے ذکر و دعا کی کیفیت حاصل کی، اسی وجہ سے وہ رہبری کے رموز میں دانشور بنے۔
10۔جب ان کے عشق کی تجلیات کی آتش شعلہ کش ہوتی ہے تو وہ اس آتش کو مزاح اور ہنسی سے ٹھنڈا کر دیتے ہیں۔
11۔ان کی کشف قلب اور کشف قبر ایسی کرامات ان کے مخلصین کے سامنے ہر لحظہ رہتی ہیں۔
12۔ ان کی نشر وقت اور ’’ طی حرف‘‘ قسم کی کرامات کا بھی ان کے مخلص ہمدموں کو اکثر تجربہ ہوا ہے۔
13۔شرعی ممانعت کی وجہ سے انہیں چنگ دنے کے سماع سے کراہت تھی، اگرچہ ذکر خدا کا سننا تار اور ممر ہی سے ہو۔
14۔ان کی قبولیت کی حامل دعا سے بہت سے اندھے اچھے ہو گئے، خاص طور پر وہ اندھا جو فتح اللہ کا چرنامی تھا۔
15۔ان کی یہ خصلت نہیں کہ وہ محفل میں حقائق بیان کرتے پھریں، اگرچہ وہ اذخر (ایک گھاس) کے ڈھیر کی مانند حقائق سے پر کیوں نہ ہوں۔
16۔ان کا ظاہر تو ہنستا ہوا ہے لیکن ان کا دل خدا کے خوف سے روتا رہتا ہے ان کی حالت بید کے اس پتے کی صورت ہوتی ہے جو باد صر صر سے لرزتا رہتا ہے۔’’ واقعات کشمیر‘‘
جب تک یہ دنیا قائم ر ہے گا ،ریاست جموں کشمیر کی دوعظیم المرتب شخصیات اپنے منفرد ، مخصوص اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ جڑی رہیں گی۔وہ ہیں حضرت شیخ العالم رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت محبوب العالم رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ اس مردِ خدا اور شریعت ومعرفت کے بے بدل رہنما حضرت سلطان العارفینؒنے تجرسے سرینگر تشریف لا کرکوہِ ماران کے دامن میں سکونت پذیر ہوئے اور لوگوں کی جس قدرتربیت کی ،وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضرت رسول اللہ ؐ کی اطاعتِ اور آخرت کی سرخروئی کے لئے تھی۔ حضرت مخدومؒکے وصال کی تاریخ حضرت شیخ دائودکے ان اشعار سے نکلتی ہے۔شیخ حمزہ مرشد والا گہر٭فوت شد دربست و چارم از صفر٭رفت اکمل یافت فضل کردگار٭عاقبت درنہ صد دہشتاد و چار(بلند مرتبہ مرشد شیخ حمزہ صفر کی 24 کووصال پا گئے۔ وہ کمال پا کر گئے اور آخر984 (23اپریل1576ء) میں فضل کاردگار سے بہرہ ور ہوئے)۔ا سی عقیدت کے ساتھ یہ دعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہدکے فیوض حیات بخش کو تاقیام قیامت جاری رکھے اوروادی کشمیر کے تمام لوگوں کو ہر پریشانیوںاور مصیبتوں سے آزاد کردے۔
رابطہ۔اوم پورہ بڈگام
موبائل نمبر۔ 9419500008