ہر زمانے میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ایسے نفوسِ قدسیہ کو اس دنیا میں بھیجا ہے جنہوں نے اپنی جد و جہد اور مسلسل کوششوں سے راہِ حق کے متلاشیوں کی رہنمائی کی، صراطِ مستقیم سے بھٹک جانے والوں کو سیدھی راہ دکھائی اور آنے والے انسانوں کے لئے نقوشِ قدم چھوڑ گئے۔ ان کی زندگی ہمیشہ اعلائے کلمتہ الحق میں گزری۔انہوں نے اپنا سب کچھ راہِ حق میں قربان کر دیا اور اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کر کے میدانِ عمل میں سرگرم رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی سے بڑی طاقتیں ان کی زبان کو حق گوئی اور ان کی ذات کو حق کی حمایت سے نہ روک سکیں۔
تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ الحدیث ،تفسیر،فقہ وغیرہ سب کے سب باضابطہ طورپر بعد میں وجود میں آئے۔کیونکہ خلافت راشدہ کے بعد عالم اسلام میں جونہی ملوکیت داخل ہوئی تودین کی روح مجروح ہونی شروع ہوئی۔اس کے نتیجہ میں صوفیائے کرام کا پہلا طبقہ وجود میں آیا جس کے سرخیل حضرت حسن بصری ؓہیں اور حضرت ابراہیم بن ادھم ؓاورحضرت فضیل بن عیاض ؓخاص طور پر قابل ذکرہیں۔ اگرچہ یہ بزرگ زیادہ وقت یادالٰہی ، استغفاراور مخلوق خدا کا روحانی رشتہ ان کے خالق ومالک کے ساتھ جوڑنے میں صرف کرتے اورجب بھی موقعہ ملتاتو حاکم وقت کو انکی غلطیوں پر ٹوکتے تھے۔پھر دوسرا طبقہ حضرت بایزید بسطامیؒ، حضرت جنیدبغدادی ؒاور حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ کا ہے۔ اس طرح دسویں صدی عیسوی میں تصوف نے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی۔اور گیارہویں صدی عیسوی میں حضرت داتاگنج بخش ؒاور دیگر صوفیاء نے تصوف کو موضوع بناکر گراں قدر کتابیں تصنیف کیں۔سیدنا حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی ؒ نے بعد میں رشدوہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔اس طرح علم تصوف میں بے مثل اضافہ کیا۔صوفیائے کرام دین کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ اسی طرح برصغیر میں ان گنت صوفیائے کرام ،علمائے دین ،مفکراسلام ،بے انتہامقبول اور ہردلعزیز واعظ نے عام وخاص کو صوم وصلوٰۃ کا پابند اور سنت نبویؐ کا پیروکاربنایا ہے۔
برصغیر میں اسلام کا فروغ صوفیائے کرام اور مشائخ عظام کی محنت کا نتیجہ ہے ،بزرگان دین نے تحریر و تقریر اور ہر ذریعہ سے لوگوں کی اصلاح کی۔بار ہا سیاسی طور پر اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا مگر مذہبی اعتبار سے اسلام مغلوب نہ ہو سکا۔اسکی وجہ یہی تھی کہ صوفیائے کرام رحیم اللہ تعالیٰ کی اصلاح نفس والی تحریک کے اثرات لوگوں کے دلوں میں موجود تھے۔انہی بزرگان دین کی کا وشوں کا نتیجہ ہے کہ آج بھی گلشن اسلام ہر ابھرا اور لہلہاتا نظر آرہا ہے۔ ہمارا کشمیر بھی عرصہ دراز سے اولیا اللہ ، صوفیوں اور صاحب دلوں کا مسکن رہا ہے۔ان صوفیائے کرام میں حضرت شاہ قاسم حقانی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی شمار ہوتاہے جنہوں نے راہِ حق سے بھٹکے ہوئوں کو حق کی شناخت کرائی اور رب حقیقی کی بارگاہ میں جھکایا۔ اور کشمیر میں رہنے والے لوگوں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ یہی اللہ رب العزت کے نیک و صالح بندے ہوتے ہیں جن کا ایمان کمال انتہا کو پہنچا ہوتاہے،اور ایمان انہی کا مضبوط اور کمال تک پہنچتا ہے ۔یہ اصحاب عشق رسولؐ پر کھرے اترتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط اور صاف وشفاف رکھتاہے اور ان کی روحانی طاقت و توانائی میں اضافہ فرماتاہے اور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔
حضرت حقانی ؒ کی ایک عظیم کرامت آج بھی نر کی شکل میں موجود ہے اور یہی وجہ کہ علاولدین پورہ عرف عام میں ’’ نرپرستان ‘‘ کہلاتا ہے، عقیدت مند دیوانہ وار آتے ہیں اور برکات سے جھولیاں بھرکر جاتے ہیں ،سکون قلب حاصل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ قاسم حقانی رحمتہ اللہ علیہ کے جدا مجد حضرت میر شمس الدین شامیؒ کے متعلق پیر حسن کھویہامی ؒتاریخ حسن میں رقم طراز ہیں؛
حضرت شاہ حقانی میر شمس الدین شامیؒ کی اولاد میں سے تھے جو حضرت امیر کبیر میر سید ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ کشمیر آکر یہاں ہی سکونت پذیر ہوگئے۔ شاہ صاحبؒ کو کچھ لوگ ملاقاسم اور کچھ لوگ حاجی قاسم کہتے تھے۔ علم وہنر دونوں میں عجیب مہارت رکھتے تھے۔نیک کام کرنے اور بْرے کاموں کو چھوڑنے کیلئے بڑی کوشش کرتے تھے۔اس زمانے میں میر محمد خلیفہؒ سماع اور ، وجد میں سرمست رہتے تھے۔شاہ صاحب ؒ ان سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کے مریدوں میں سے ایک ایک کو سو سو دُرے ماروں گا۔ انہی ایام میں حضرت شیخ یعقوب صرفی ؒ اکبر آباد میں تھے۔ خلیفہ کو وہاں ہی سے لکھا کہ ملا قاسمؒ آپ سے باز پرسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔انثاء اللہ قید میں ایسا پھنس جائے گا کہ دوسروں کو عبرت ہوگی۔ایک دن میر محمد خلیفہؒ نے پانپور میں محفل سماع منعقد کی۔ملاقاسم ؒ غصے میں مجلس میں گئے۔جونہی خلیفہ کے چہرے پر نظر پڑی، تھرتھر کا پننے لگا۔ خلیفہ نے شیخ یوسف شوقی کو اشارہ کہا کہ شکار کا وقت ہے ، یوسف نے شعر پرنم کے ساتھ پڑھنا شروع کیا:۔ خنجر کشیدہ برسر قتلم شتاب چیست۔ خود کشتہ میشو یم وترا اضطراب چیست۔ ترجمہ۔ (میرے قتل کیلئے خنجر نکالنے میں جلدی کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم خود ہی قتل ہوجائیں گے۔تجھے کس بات کی بے چینی ہے؟۔) ملا قاسم وجد میں آکر بے ہوش ہوکر گرے ۔جب ظہر کی نماز کا وقت نزدیک آیاتوشیخ یوسف نے یہ بیت پڑھنی شروع کی: اے گرفتار وصالش تابہ کے گردی بروں۔ اندر آتا گویمت اسرار راز دروں۔ترجمہ( اس کا وصل چاہنے والے کب تک باہر پھرتے رہوگے۔اندر چلے آئو تاکہ تمہیں چھپے ہوئے بھیدوں سے واقف کردیا جائے) ۔مزید لکھتے ہیں کہ حضرت شاہ قاسم حقانی رحمتہ اللہ علیہ حج کو روانہ ہوئے۔راستہ میں بڑے اولیا ء اللہ سے ملے۔صوبہ اْجین میں شیخ فیض اللہ قادریؒ نے ان کے مجاہدہ کو دیکھا۔ان کو سلسلہ قادریہ کی اجازت عطا کی ،اور حضرت غوث الاعظم ؒ کا ایک جامہ مبارک اور حضرت شاہ ہمدانؒ کاایک خرقہ اور تسبیح تبرک کے طور پر ان کو بخش دی۔حضرت خواجہ جمال الدین المعروف خواجہ دیوان ؒسے ملے تو انہوں نے سلسلہ نقشبندی کی اجازت دی اور حضرت خواجہ بہائوالدین نقشبندؒکا کمربند اور رومال عطا فرمایااور حضرت شیخ سلیم چشتیؒسے ملاقات ہوئی۔انہوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی پگڑی تبرک کے طور پر بخش دی۔یہ اس خاندان کے پاس آج بھی موجودہیں۔پھر ان عنایات کے حصول کے بعد حضرت شاہ قاسم حقانی ؒ کشمیر واپس آئے اور راہ حق دکھانے میں مصروف ہوگئے۔سینکڑوں بندگان خدا کو تعلیم و تلقین فرمائی ،اور درجہ شہود پر پہنچادیا… تاریخ حسن ‘‘
ان عظیم المرتب بزرگوں نے اپنی پوری زندگی راہ حق میں قربان کی اس لئے جب ہمیں کسی ولی کامل کے متعلق بات کرتے ہیں،توہمیں یہ بات یاد ر کھنی چاہے کہ ولایت کا مقام اعلیٰ و ارفع درجے کا حامل ہے ،صوفیاء نے ولی کے بارے جو وصف بیان کی ہیں،ان کی روح سے ولی قناعت پسند ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی حالت میں کسی سے شکوہ نہیں کرتا، جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے۔ جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی آخرت میں جنتی ہے اور جس کا دل ہر وقت شکوے، شکایتوں، حسد، کینہ، بغض، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے۔ فرائض کی پابندی کیجئے، کبائر سے اجتناب کیجئے، حال پر خوش رہئے، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیا ں پیدا کیجئے اور وہی وقت کا ولی ہوتا ہے۔کیونکہ جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے۔جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے اور ولی وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ بکھیر دیتاہے اور ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے۔ کیونکہ خدا کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ صاحب حال ہوتا ہے۔ نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ اپنے حال پر خوش اور شکر گزار رہتا ہے۔ جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی آخرت کا غم بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہو جائے، وہی وقت کا ولی ہے۔
حضرت شاہ قاسم حقانی رحمتہ اللہ علیہ عظیم صوفی بزرگ اور روحانی شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے ساری زندگی مخلوق خدا کی خدمت کی اور انہیں صرا ط مستقیم پر گامزن کر تے گزاری۔ وہ علم و عمل کے پیکر اور سچے عاشق رسولؒتھے۔ حضرت جنید بغدادیؒ کا بڑے واضح الفاظ میں اعلان ہے کہ اس راہ کو وہی پاسکتا ہے جو کتاب اللہ کو داہنے ہاتھ میں اور سنت رسول ؐکو بائیں ہاتھ میں لیے ہواور ان دونوں چراغوں کی روشنی میں راہِ سلوک طے کرے تاکہ گمراہی اور بدعت کی تاریکی میں نہ گرے۔یہ وہ علم ہے جس کے ذریعہ سے نفس کے تزکیہ ،اخلاق کی صفائی اور باطن وظاہر کی تعمیر (کے اسباب وطرائق) کی معرفت حاصل ہوتی ہے تاکہ ہمیشہ کی سعادت حاصل ہو۔نیز اس سے نفس کی اصلاح ،معرفت ورضائے خداوندی کاحصول ہوتاہے۔اس تعریف سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ تصوف ایک مقدس علم ہے جوسالک کووصول الی اللہ جیسی عظیم نعمت سے نوازتاہے۔
حضرت شاہ قاسم حقانیؒ قلندرانہ طرزِ حیات اور عارفانہ اندازِ فکر کی شہرت دوردور تک پھیل گئی اور اس عہد کے بڑے بڑے علما، فقراء آپکی زیارت کیلئے آنے لگے۔آپکی دعا کی تاثیرکا چرچا ہرطرف پھیل گیا۔ ہر وقت ایک حم غفیر آپ سے دعائیں لینے کیلئے موجود ہوتاتھا۔حضرت شاہ قاسم حقانی ؒوہ باکمال بزرگ تھے جنکی بات بات میں علم و فرقان کی حلاوت تھی ،جنکی ہر حرکت میں تعبد کی شان جلوہ گر تھی، جنکے ہر عمل میں عزیمت اور حسن کاری کا بانکپن نمایاں تھا۔ الغرض اس مردِ قلندر کی حیات طیبہ ایمان و ایقان ، علم و عرفان ، مجاہدات و مراقبات، عشق و مستی اور خلوص و وفا کا ایسا حسین و جمیل مرقع تھی کہ دل بے اختیار مائل ہوتا، احترام و عقیدت کے جذبات خود بخود ابھرتے اور انکی عظمت کے نقوش گہرے سے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔حضرت شاہ قاسم حقانی ؒانسانیت ، تصوف اور کردار وعمل کی وہ عظیم المرتب ہستی ہے جو تقریباً چار سو برس گذرنے کے بعد بھی لوگوں کے دل میں زندہ ہے۔’’ تواریخی شواہد سے ثابت ہے کہ حضرت شاہ قاسم حقانیؒ 29 ماہ رجب مطابق 1551ء پیدا ہوئے۔از حضرت پیر عزیز اللہ حقانیؒ نے لطایف الحقانی میں حضرت حقانی ؒ کے زندگی کے حالات بیان کئے ہیں۔
اس دْنیا میں کس کو ہمیشہ رہنا ہے اور اس طرح یہ آسمان تصوف کے درخشندہ آفتاب ،اسلام کے جان نثار مبلغ اور اعلیٰ رتبے کے رہنما،شریعت کے علمبردار ،طریقت ومعرفت کے رہبر ،مجلس روحانی کے سردار 29ربیع الثانی 1033 ہجری کشمیری 29پھاگن میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ بعد میں آپؒ کے جسدخاکی کونرپرستان فتح کدل سری نگر میں سپرد خاک کیا گیا جہاں ان کا آستانہ عالیہ موجود ہے،جو آج تک اپنے زندہ جاوید کردار سے راہ حق کی سمت رہبری کرتا رہا اور آئند بھی کرتا رہے گا۔انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہد ؒکے فیوض حیات بخش کو تاقیام قیامت جاری رکھے۔آمین
پتہ۔اوم پورہ، بڈگام کشمیر
فون نمبر۔ 9419500008