حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ سنہ 900ھ میں زینہ گیر کے ایک گائوں تجر شریف میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والدِ محترم کا اسم گرامی حضرت بابا عثمان رینہؒ تھا۔ آپؒ اُس خاندان کے چشم و چراغ تھے جو علم و عمل اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا۔ والدِ محترم نے آپؒ کو حسبِ روایات اپنے گائوں کے قرآنی مکتب میںقرآن شریف پڑھنے کے لئے بھیجا۔ ایک سال پیر طریقت حضرت بابا فتح اللہؒ کی خدمت میںرہ کر قرآن کریم کی تعلیم پوری کی۔ اُنہی کے اشارہ سے آپؒ نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسۂ دارالشفاء میں داخلہ لیا۔ اس میںتصوّف، سلوک، معارف کے علاوہ علمِ فقہ، حدیث، تفسیر، ادب، منطق اور فلسفہ کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی۔ آپؒ خانقاہ شمسی چک میںجاکر اذکار و عبادت اور سلوک و معارف کا درس حاصل کرتے تھے۔
مولانا قاری سیف الدّین صاحب لکھتے ہیں:’’تحصیلِ علوم کے ساتھ ساتھ حضرت مخدوم علیہ الرحمہ کو ریاضت و عبادات کا زبردست شوق تھا اور اسی عشق کی وجہ سے آپؒ کو ہمیشہ مربی و مرشد کی تلاش رہتی تھی۔ یہاں کہ سنہ 932ھ میںحضرت جمال الدّین دہلوی البخاری قدس اللہ سرہ العزیز کشمیر تشریف لائے اور خانقاہِ ملک احمد یتو میں قیام فرمایا۔ حضرت سیّد نے اپنے جدّامجد حضرت سرورِ کائنات فخر موجودات جناب محمد الرّسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے باطنی حکم کے تحت حضرت مخدومؒ کی روحانی تربیت فرمائی اور کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد حضرت مخدوم پاکؒ کو شجرہ وار شاد نامہ کے علاوہ طاقیہ مبارک عنایت کرنے کے بعد یہاں سے رخصت ہوئے۔‘‘(اردو دستور السالکین، متاع نور، صفحہ: ۲۰)
حضرت مخدوم پاک رحمۃ اللہ علیہ نے سنہ 984ھ میں وفات پائی۔ آپؒ کی وفات کے تقریباً چودہ سال بعد شہنشاہِ ہند جلال الدّین اکبر نے آپؒ کا روضہ تعمیر کیا۔ پھر1821ء میں حافظ عطا محمد خان نے زیارت گاہ کو از سر نو تعمیر کیا جو آج تک محفوظ وموجود ہے۔ (حوالہ: ایضاً)
علامہ سیّد محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:’’نیک اور انصاف پسند باشعور گروہ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ حضرت سلطان العارفین زبدۃ الاولیاء محبوب العالم شیخ حمزہ مخدومی قدس اللہ سرہٗ اولیائِ کشمیر میں ایک خاص مقام اور ممتاز درجہ رکھتے ہیں کیونکہ آپؒ نے عبادت و ریاضت اور غار نشینی پر ہی اکتفاء نہیںفرمایا بلکہ آپؒ نے اپنے پُر آشوب زمانہ کے ناسازگار حالات میںدینِ اسلام کی جو عظیم الشان خدمت انجام دی اور اپنی تبلیغ و روحانیت سے مخالفینِ اسلام اور اعدائِ سنّت کے ساتھ جو عملی اور روحانی مقابلہ کیا وہ آپؒ کا طرۂ امتیازہے۔ اور جن لوگوں نے دینِ حق کے حسین چہرہ پر بدنما داغ دھبے لگانے کی کوشش کی تھی، حضرت محبوب العالم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی مذموم کوششوں کو نہ صرف ناکام و نامراد بنایا بلکہ اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں اور تبلیغ و روحانیت سے دینِ اسلام کو سر نو زندگی اور تازگی عطا کرکے اپنے مخلصوں، معتقدوں، مُریدوں اور سارے مسلمانوں کو اس بات کی عملی تعلیم دی کہ سب سے بہترین دینداری اور تقویٰ شعاری یہ ہے کہ کتاب و سنّت اور مسلم پیشوایانِ دین اور عامّۂ سلفِ صالحین کی اتباع و پیروی کی جائے۔‘‘(سیرتِ حضرت سلطان العارفینؒ، صفحہ: ۱۱۔۱۲)
امام اعظم ثانی شیخ الاسلام حضرت بابا دائود خاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد حضرت سلطان العارفین رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں چار سو سے زائد اشعار پر مشتمل قصیدہ ’’وردُ المریدین‘‘ تحریر فرمایااور پھر ’’دستور السالکین‘‘ کے نام سے اس کی مدّلل شرح تحریر فرمائی۔ جناب قاری سیف الدّین صاحب کے مطابق ’’دستورالسالکین میں ۲۰۰ سے زائد اسلامی کتب کے حوالہ جات پائے جاتے ہیں اس سے حضرت خاکیؒ کے علم کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘‘
دستور السالکین میںحضرت علامہ خاکی رحمۃ اللہ علیہ ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں:’’ایک موقعہ پر جناب مخدوم علیہ الرحمہ سری نگر سے کم و بیش تیس میل دور نادی ہل (بانڈی پورہ) میںتعمیر مسجد شریف کے سلسلے میںمصروف تھے اور ادھر سرینگر میںاپنے خادم ملا اللہ داد کو ہدایت دے گئے تھے کہ سرما کے موسم میں اس کمرے میں، جس میںگائے گھوڑے کے لئے گھاس چارہ رکھا گیا ہے، چراغ ساتھ لے کر نہ گھس جانا۔ ایک رات ملا نے بھول کر چراغ اپنے ساتھ لیا اور چارہ گھوڑے کے سامنے رکھا کہ کسی نے پیچھے سے مکّا مارا اور چراغ اندر لے جانے پر ملامت کی۔ ملا نے کسی انسان کو ظاہر میںنہیں دیکھا مگر آواز اپنے پیر و مرشد حضرت مخدومؒ کی محسوس ہوئی!…… اُدھر سرینگر میںیہ واقعہ پیش اور ادھر نادی ہل (بانڈی پورہ) میںاپنی قیام گاہ پر حضرت مخدوم پاکؒ نے جناب یوسف کو یہ واقعہ سنایا۔ کچھ مدت کے بعد جناب یوسف سری نگر چلے آئے تو ملا اللہ داد نے قصّہ سنایا اور کہا کہ یہ واقعہ میں نے اُسی صبح کو بہت سے دوستوں سے بیان کیا ہے۔ جناب یوسف نے فرمایا کہ مجھے بھی پیر کاملؒ نے اسی وقت اس واقعہ سے آگاہ فرمایا۔………. حضرت مخدوم پاکؒ کی کرامت بالا سنت فاروقی رضی اللہ عنہ کے تحت ظہور میںآئی۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مدینہ پاک ہی سے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو ’’یا ساریۃ الجبل الجبل‘‘ فرما کرسینکڑوں میل دور جنگ میں رہنمائی فرمائی۔‘‘(اردودستور السالکین، متاع نور، ترجمہ: مولانا قاری سیف الدّین صاحب، صفحہ: ۶۱۔۶۲)
چوں خدا علم لُدنی کرد تعلیمش زمہر
بہر اسرار الٰہی عالم امہر شد است… (وردُ المریدین)
(جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو اپنی عنایت و مہربانی سے علم لدنی عطا فرمایا تو آپؒ کے سینۂ بے کینہ کو اسرارِ الٰہی کا منبع اور مصدر بنایا اور علم کشف میں آپؒ کو بہت بڑے عالم خاذق ہوگئے۔)
دورِ حاضر میںجبکہ مادّیت کا غلبہ ہے اورہم روحانیت سے دور ہوتے جارہے ہیں، سکونِ قلب کے حصول کے لئے کیا کچھ نہیںکیا جاتا، لیکن پھر بھی سکون حاصل نہیںہو تا۔ اس دور کا انسان اگرواقعی سکونِ قلب کاخواہاں ہے تو اس کے لئے اولیائِ کاملینؒ کے ساتھ منسلک ہونا ناگزیر ہے۔ یہی وہ دَر ہیں جہاں دلوں کے زَنگ دور ہوتے ہیں اور جن کی صحبت سے انسان واقعی انسان کہلانے کے لائق بن جاتے ہیں۔
فرمانِ نبویﷺ ہے: ’’سوائے نیک لوگوں کے اور کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تیرا کھانا صرف متقی شخص ہی کھائے۔‘‘ (سنن الترمذی)
صحبتِ تُرا صالح کند صالح کند
صحبتِ تُرا طالح کند طالح کند
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اولیائِ کاملینؒ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
رابطہ۔ناربل، بڈگام،9796525191