عاقب شاہین۔ دوحہ قطر
مطالعہ انسانوں اور تہذیبوں کی تعمیر اور فکر، سوچ اور ہنر کی نشوونما میں بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں نئی مفید معلومات اور منفرد، خالص علم حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعے ذہن کو فائدہ مند علم کی روشنی سے منور کیا جاتا ہے۔ ایک مانند شمع جو خود تو جلتی ہے مگر دوسروں کے لئے روشنی فراہم کرتی ہے۔ قرآن کی پہلی آیت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ، ’’پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘ یہ ہمارے لئے علم ،کی فضیلت ،اہمیت،اور عظمت کا ثبوت ہے۔علم حاصل کرنے اور ذہنی صلاحیتوں اور مختلف مہارتوں کو بڑھانے کا سب سے اہم ذریعہ مطالعہ ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی میں زبردست ترقی کے باوجود کتابیں اب بھی اپنی تمام شکلوں میں علم کے حصول کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔کیا خوب کہا کسی نے :
The dearest place in the world is a swimming saddle… and the best companion in all time is a book .
کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہے کیونکہ جب کوئی شخص کوئی کتاب پڑھتا ہے تو دماغ ایک ہی وقت میں بہت سی معلومات پر کارروائی کرتا ہے، اور اس سے اس شخص کے لیے مختلف نقطہ نظر کھلتے ہیں جو اس کا ذہن جذب کر سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر وہ کوئی پراسرار اور دلچسپ کتاب پڑھ رہا ہو، جیسا کہ فرد کا ذہن تب مسلسل واقعات کا اندازہ لگانے اور اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے اور کسی واقعے کو جوڑتا ہے، آخر میں، نتیجہ اور معنی تک پہنچنے کے لیے کوشش کرتا ہے اور یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ سب کچھ ذہن کو تیز کرنے اور تجزیاتی اور تنقیدی سوچ دونوں کی مہارتوں کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔
مطالعہ ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کے لیے نظریات، سائنس اور علم کے حصول کے لیے نئے افق کھولتا ہے۔ کیونکہ یہ انسانی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے اور اسے دور کے قریب لاتا ہے کیونکہ یہ علم اور سائنس کا سب سے زیادہ قابل رسائی ذریعہ ہے۔ قوموں کی ترقی اور ترقی کے لیے یہ ایک لازمی ضرورت ہے اور تخلیق کاروں کی تشکیل اور تخلیقی صلاحیتوں، مفکرین، موجدوں اؤر ادیبوں کے ظہور کا واحد راستہ یہی ہے اور یہ ذہنوں کو توہمات، پسماندگی اور جہالت سے نجات دلاتا ہے۔
مطالعہ ذہنی اور اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ بن جاتا ہے ۔ہم جو کچھ پڑھتے ہے وہ ہمارے دل و دماغ جسم و جاں میں بس جاتا ہے اور پھر ہماری عملی میں صورت میں نمایاں ہوتے ہیں ۔مطالعہ غم اور بے چینی کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور ذہنی پریشانی کو کم کرتا ہے ۔مطالعہ کی عادت انسان کو بہت ساری منفی ،بے فائدہ،فضول، لغو کاموں سے بچا لیتی ہے۔ مطالعہ کی عادت شخصیت کو نکھار تی ہے، وقت کو با مقصد بنا دیتی ہے ۔مطالعہ علم حاصل کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے اور اس سے خاموش رہنے کی عادت پڑتی ہے جو کہ بذاتِ خود بہت ساری خوبیوں کا سر چشمہ ہےاور فایدہ مند ہے ۔مطالعہ انسان کے حافظہ کو تیز کرتا ہے اور انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہموار کرتا ہے ۔مطالعہ کرنے سے تاریخ انسانی کے بڑے بڑے مفکر، فقہاء ،محدثین، شاعر و ادیب فلسفی وغیرہ کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔مطالعہ کرنے سے سکون قلب اور راحت کا سامان مہیا ہوتا ہے ۔بقول شاعر ؎
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں
مطالعہ کتب صرف ذہنی تسکین ہی مہیا نہیں کرتا بلکہ انسانی قلب و دماغ کو بھی منور کرتا ہے۔عمر گزرنے ساتھ ساتھ انسان چیزیں بھولنے لگتا ہے۔لیکن مطالعہ سے دماغ تیز ہوتا ہے اور بھول جانے کی عادت سے بھی چھٹکارا مل جاتا ہے ۔انسان کوزیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انسان کا قلب و ذہن۔ہمیشہ تازہ رہے ۔
امام بخاری ؒ سے پوچھا گیا کہ حفظ کی دوا کیا ہے آپ نے فرمایا کتابوں کا مطالعہ ۔بقول حسن بصریؒ کہ مجھ پر چالیس برس ایسے گزرے کہ سوتے جاگتے کتاب میرے سینے پر رہتی تھی۔امام ابو حنیفہ کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ رات کا اکثر حصہ مطالعہ کتب میں گزارتے تھے ۔ایک بزرگ ابو جعفر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس چالیس لاکھ کتابیں تھی ۔
خلاصہ کلام یہ کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی وحی بھی یہی تھی، پڑھ یا رسول اللہؐ یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش کی انتہا تھی ۔
اگر آپ کے پاس عالیشان گھر ہو، بینک بیلنس ہو اور ذاتی کتب خانہ نہ ہو تو میں سمجھ سکتا ہو مفلوق الحال شخص ہوگا ۔
بقولِ شاعر ؎
حصولِ علم ہے ہر اک فعل سے بہتر
دوست نہیں ہے کوئی کتاب سے بہتر
[email protected]