سرینگر// حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں پر غیر قانونی سرگرمیوں کے (روک تھام) ایکٹ کے تحت پابندی لگانے کا امکان ہے جو 3 دہائیوں سے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک کی قیادت کر رہی ہیں۔خبر رساں ایجنسی کے این ایس کے مطابق پاکستان میں کئی تعلیمی اداروں کی طرف سے کشمیری طلباء کو ایم بی بی ایس نشستیں دینے کی حالیہ تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کچھ تنظیمیں جو حریت کانفرنس کا حصہ تھیں ، خواہش مندطلبا سے جمع کی گئی رقم کوجنگجوتنظیموں کی فنڈنگ کیلئے استعمال کررہی تھیں۔عہدیداروں نے کہا ہے کہ حریت کے دونوں دھڑوں پر غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ ، یا یو اے پی اے کے سیکشن 3 (1) کے تحت پابندی لگائی جا سکتی ہے ، جس کے تحت 'اگر مرکزی حکومت کی رائے میں کو انجمن یا ایسوسی ایشن غیر قانونی سرگرمیوں میں پائی جائیں تو سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے ایسی ایسوسی ایشن کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز مرکز کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنسکے مطابق پیش کی گئی ہے۔حریت کانفرنس 1993 میں 26 گروپوں کے ساتھ وجود میں آئی تھی جس میں پیپلز کانفرنس اور میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں عوامی ایکشن کمیٹی بھی شامل تھی۔علیحدگی پسند پلیٹ فارم 2005 میں دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا جس میں میرواعظ کی قیادت میں اعتدال پسند گروپ اور سید علی شاہ گیلانی کی سربراہی میں سخت گیر گروپ تھے۔اب تک مرکز نے جماعت اسلامی اور جے کے ایل ایف پر یو اے پی اے کے تحت2019 میں پابندی عائد کی ہے۔ عہدیداروں نے کہا کہ ’’جنگجوتنظیموں کی مالی معاونت کی تحقیقات میں علیحدگی پسند اوران کے رہنماؤں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے ، بشمول حریت کانفرنس کے ارکان اور کارکنان جو ممنوعہ جنگجوئوںتنظیموں حزب المجاہدین (ایچ ایم) دختران ملت اور لشکر طیبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیڈروں نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اورجنگجوئوں یانہ سرگرمیوں کے لیے ملک اور بیرون ملک سے مختلف غیر قانونی چینلز بشمول حوالہ کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمع شدہ فنڈز سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ ، اسکولوں کو منظم طریقے سے جلانے ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور بھارت کے خلاف جنگ لڑنے کے ذریعے وادی کشمیر میں خلل پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔یو اے پی اے کے تحت حریت کانفرنس کے دو دھڑوں پر پابندی لگانے کے معاملے کی حمایت کرتے ہوئے ، عہدیداروں نے جنگجوئوں کی مالی معاونت سے متعلق کئی مقدمات کا حوالہ دیا ، جن میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے زیر تفتیش مقدمہ بھی شامل ہے جس میں جماعت کے کئی کارکن گرفتار اور جیل گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں دھڑوں کے دوسرے درجے کے کئی کارکن 2017 سے جیل میں ہیں۔جیل میں رہنے والوں میں گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ بھی شامل ہیں۔ تاجر ظہور احمد وٹالی گیلانی کے قریبی ساتھی ایاز اکبر ، جو سخت گیر علیحدگی پسند تنظیم تحریک حریت کے ترجمان بھی ہیں۔ پیر سیف اللہ، شاہد الاسلام ، اعتدال پسند حریت کانفرنس کے ترجمان معراج الدین کلوال نعیم خان اور فاروق احمد ڈار عرف ‘بٹہ کراٹے’شامل ہیں۔ بعد میں ، جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک ، ڈی ایم کی سربراہ آسیہ اندرابی اور پاکستان نواز علیحدگی پسند مسرت عالم کا نام بھی جنگجوئوں کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں ضمنی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا۔ ایک اور کیس جس کا حوالہ حریت کانفرنس کے دو دھڑوں پر پابندی کے لیے دیا جا سکتا ہے وہ پی ڈی پی کے نوجوان رہنما وحید الرحمان پرہ کے خلاف ہے ، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گیلانی کے داماد کو 5کروڑ روپے ادا کئے تھے۔ حکام نے بتایا کہ 2016 میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہنگامہ آرائی ہوئی۔جموں و کشمیر پولیس کے سی آئی ڈی ڈیپارٹمنٹ کی ایک شاخ کاؤنٹر انٹیلی جنس (کشمیر) نے گزشتہ سال جولائی میں ایک معلومات درج کی تھی کہ کچھ حریت رہنماؤں سمیت کچھ لوگ پاکستان کے کالجوں میں داخلے اورایم بی ایس سیٹوں کوفروخت کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں کم از کم چار افراد بشمول سالویشن موومنٹ چیئرمین محمد اکبربٹ عرف ظفر بٹ کو گرفتار کیا گیا ہے جو اعتدال پسند حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔ان پریہ الزام ہے کہ حریت کانفرنس کے حلقے پاکستان میں ایم بی بی ایس کی نشستیں کشمیری طلبا کو بیچ رہے تھے اور جمع کی گئی رقم کو کم از کم جزوی طور پر جنگجوئوںکی حمایت اور فنڈنگ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔حکام نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ انفرادی حریت رہنماؤں کے پاس اپنی نشستوں کا کوٹہ تھا جو ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو کسی نہ کسی طریقے سے فروخت کررہے تھے۔عہدیداروں نے کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 10 لاکھ اور 12 لاکھ روپے کے درمیان فی نشست فروخت ہوتی رہی۔کچھ معاملات میں ، حریت رہنماؤں کی مداخلت پر فیس کم کی گئی۔