راجوری //ہند پاک افواج کے مابین حد متارکہ پر ہوئے امن معاہدے کو چار ماہ ہوگئے ہیں جبکہ سرحدی ضلع راجوری کے مکینوں نے خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کو مذکورہ معاہدے کو قائم رکھنا چاہئے تاکہ سرحدی علاقوں کی عوام امن و سکون کی زندگی بسر کرسکے ۔سرحدی علاقوں کے رہائشی لوگوں نے جموں کے ٹیکنکل ائیر بیس پر ہوئی ڈران حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔سرحدی گائوں منکوٹ کے 57سالہ چندر موہن نے بتایا کہ وہ ترکنڈی علاقہ میں ٹھل پھڑا گائوں میں رہ رہے تھے تاہم ملی ٹینسی کی وجہ سے 20برس قبل وہ مذکورہ گائوں سے ہجر ت کر گئے تھے ۔مذکورہ بزرگ نے بتایا کہ ان کے دیگر تین بھائی ڈھونگی علاقہ میں رہائش پذیر ہیں جبکہ انہوں نے منکوٹ گائوں میں تھوڑی سی زمین خرید لی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ ان کا سابقہ گھر ایک پہاڑی پر واقعہ ہے اور ان کے گھر سے ترکنڈی حد متارکہ صاف دیکھائی دیتی ہے ۔محمد ذاکر نامی ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مابین ہوئی معاہدے کے بعد گزشتہ چار ماہ سے انہوں نے حدمتارکہ پر کسی گولہ باری کی آواز نہیں سنی ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی عرصہ سے دونوں ممالک کے مابین ہونے والی گولہ باری کے دوران عام لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے ۔سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں کی عوام نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ سے انہوں نے امن و سکون کی زندگی بسر کی ہے ۔انہوں نے گزشتہ دنوں جموں میں ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذکورہ معاہدہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور حد متارکہ کے نزدیکی علاقوں کی عوام امن کی زندگی بسر کرنے میں کامیاب ہونگے ۔