حافظ میر ابراہیم سلفی
گزشتہ کئی مہینوں سے وادی کشمیر میںمختلف حادثات میں معصوم بچوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ کہیں پر درندوں کے حملوں کا شکار ہورہے ہیںاور کہیں پر غرق آب ہوکر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ کہیں پر بجلی کرنٹ کے ذریعے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیںتو کہیں ٹریفک حادثوں میں فوت ہوجاتے ہیں۔روز بہ روز اِن حادثات کی شرح بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے لیکن شریعت اسلامیہ ہمیں عقول و اذہان استعمال کرنے کا درس دیتی ہے۔تبھی تو شریعت مطہرہ نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے۔بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان حادثات کو دیکھ کر بھی والدین اپنی ہی دنیا میںمحو اور مشغول ہیں۔غفلت کی بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن اتنی غفلت عقل و سمجھ سے باہر ہے۔ والدین اپنی ذمہ داریوں سے یکسر غافل ہوچکے ہیں اور یہی غفلت اور لاپرواہی اُن کے بچوں کے لئے سم قاتل ثابت ہورہی ہے۔اگر والدین بذات ِ خود اپنا جائزہ لیں اور اپنا احتساب کرلیں تو انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ اُن کے بچوں میں اتنی بے حسی، ضد ،تکبر یا اَنّا جیسی صفات کہاں سے آگئی ہیںکہ وہ اپنے والدین کی کسی ہدایت یا تنبیہ پر عمل نہ کرکے اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔پوری دنیا کے معاشرے میں والدین کا رشتہ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ باپ ایسا چاہنے والا رشتہ ہے کہ اولاد کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ کر ہمیشہ خوش و مسرور ہوتا ہے، والدین کا ہی ایثار ہے کہ اپنی ضروریات کے باوجود بھی اکثر اولاد کی چاہتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ غریب ہو یا امیر، اپنی کُل کائنات اولاد کے قدموں میں رکھ کر بھی مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کی مزید آسائشوں اور راحتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔اپنی اولاد کے لئےتکلیف خود سہہ لیتے ہیںاوراپنی اولاد کو زمانے کی تمام سرد و گرم ہوا سے محفوظ رکھتے ہیں۔الغرض ایک انسانی جان خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، طبقے، فرقے سے ہو، وہ ہر خاندان کے لیے عظیم سرمایہ حیات ہوتی ہے، اس کاالمناک حالت میں فوت ہوجانا نہایت درد ناک سانحہ ہوتا ہے۔خصوصاً والدین کے لئےایسے سانحات انتہائی درد ناک اور ناقابل برداشت ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ معصوم، نابالغ ،کمسن بچے عقل سے بھی کمزور ہوتے ہیں اور تجربے میں بھی ناپختہ ہوتے ہیں ۔انہیں اچھے بُرے،سچ جھوٹ،نیک و بَد،صحیح وغلط،دین و دنیا ،تعلیم و تربیت، آگے بڑھنے کی ہمت اور زمانے سے ٹکرانے کا حوصلہ والدین ہی سکھاتے اور بتاتے ہیں۔لیکن ہمارے یہاں تو مسئلہ یہ ہے کہ ان معاملوں میں یہاں زیادہ تر والدین ہی عقل سے محروم نظر آرہے ہیں۔ حالانکہ شریعت مطہرہ نے ہمیں سات سال کے بعد بچے کی دینی تربیت کی ذمہ داری رکھی ہے، اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ سات سال تک بچے کو اپنے پاس رکھنا ہے، اسکی عقل کو پختہ بنانا ہے۔انہیں زندگی کے نشیب و فراز سکھانے ہیں،انہیں حادثات سے بچنے کی راہیں بتانےہیں تاکہ سات سال کے بعد انہیںزندگی کے اصل مقاصد،دنیاوی معاملات اور شرعی احکامات کی معرفت حاصل ہوجائیں۔
فرمان نبویؐ ہے کہ،’’جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو‘‘(مسند احمد، سندہ حسن)
وادی کے مختلف اطراف و اکناف سے خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ مختلف ندی نالوں میں بچے نہانے کی غرض سے جاتے ہیں لیکن وہاں سے ان کی لاشیں برآمد ہورہی ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ جب یہ معلوم ہے کہ ان ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے، تو پھر والدین کیوں قصداً انہیں وہاں جانے دیتے ہیں؟ انسان سب کچھ بچوں کے لئے ہی کرتا ہے، حلال و حرام کے درمیان فرق نہیں کرتا، جائز و ناجائز کو بھول جاتا ہے لیکن صد افسوس کہ عین موقع پر غفلت کرکے اپنی خوشیوں کو مٹا رہے ہیں۔ اولادوں کی طرف دھیان دینے کی بات ہو تو رسول کریمؐ کا اسوہ حسنہ مطالعہ کیجئے۔ عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا: ’’بیٹے! قریب ہو جاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ‘‘(سنن ترمزی، سندہ صحیح) حدیث مبارک سے واضح ہوجاتا ہے کہ نبی کریمؐ بچوں کے معاملے میں نہایت ہی سنجیدہ رہتے تھے۔ جہاں موقع ملتا وہاں انہیں آداب زندگی سکھاتے تھے۔ جہاں بچے غلطی کرتے وہاں انہیں ٹوکتے تھے تاکہ بچپن سے ہی ان کی اصلاح ہوجائے۔ ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی ،’’ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہیں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسا مت کہو، اس لئے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا‘‘۔(صحیح بخاری،سنن ابن ماجہ)ہمارے بچے اگر غلطی بھی کریں، کسی کو گالی بھی دیں، کسی کے ساتھ بدکلامی بھی کریں، ہم یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں ’’یہ تو بچے ہیں، سدھر جائیں گے‘‘۔یہ جملہ صراحتاً نبوی ؐ تعلیمات کے خلاف ہے۔
رسول کریمؐ سفر میں ہوتے اور کوئی بچہ ساتھ ہوتا تو نبی کریمؐ سفر میں بھی موقع ملتے ہی بچوں کو نصائح سے نوازتے تھے۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ تاجدار حرم بچوں کی تربیت و پرورش کے بارے میں کتنا محتاط رہتے تھے۔ بچپن کے ابتدائی سات سال تربیت کے لحاظ سے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ انہیں سالوں میں بچے کو سچ، جھوٹ کا فرق سکھانا ہے، آداب و اخلاق کا درس دینا ہے، عقائد و عبادات کی طرف بچے کو مائل کرنا ہے۔ بچے کو بُرے ہم نشینوں سے بچانا ہے۔نیز اسی طرح بچوں کی طبی،ماحولیاتی، ذہنی تبدیلیوں کا خیال رکھنا ہے۔اسی ضمن میں ایک حدیث ملاحظہ کیجئے۔عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں’’میں ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا: ’’اے لڑکے! میں تمہیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو، اور اس بات کو جان لوکہ اگر تمام مخلوق بھی تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے، توتمہیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے، جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمہیں اتنا ہی نقصان پہنچاسکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے‘‘۔(جامع ترمذی)
والدین ِاُمت! اپنے بچوں کے تئیں محتاط رہیے۔ موت کا بازار گرم ہے۔اپنے گلشن کی حفاظت کیجئے۔
عید کا دن بھی گزر گیا لیکن عید کے موقع اس قوم کے کچھ بھیانک چہرے نظر آئے۔ یہ عید تو درس اسماعیل دیتی ہے کہ کس طرح سیدنا اسماعیل نے اپنے اباجان کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اپنی جان کی قربانی پیش کی۔ لیکن ہمارے اولاد فحاشی، عریانی کا بازار گرم کرتے ہوئے نظر آئےاور پٹاخوں و آتش بازیوںاور دیگر کئی خرافات میں مگن رہے۔ شہر کی پارکوں اور مختلف سیاحتی مقامات پر قوم کے زوال کے مناظر خوب دیکھنے کو ملے اور اس ملت کے والدین خواب خرگوش کی نیند میں سوئے ہوئے تھے۔والدین پر واجب ہے کہ اپنے اولادوں کو زر کثیر سے دور رکھیئے۔ بچے کے ہاتھ میں تیس چالیس ہزاریا ایک ایک لاکھ کا سمارٹ فون دے کر، بیس بیس لاکھ کی گاڑیاں دے کر،دو تین لاکھ کی موٹر بائیک تھماکر، جیب میں ہزاروں روپے رکھ کر ،والدین خود اپنے بچوںکو تباہی کے دہانے پر لے جانے کے سامان مہیا کررہے ہیں۔ابھی وقت ہے۔۔۔۔ سنبھالئے اپنے گھروں کو،اپنی اولاد کو۔
فرمان ربانی ہے کہ ’’اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواُس آگ سے بچاؤ ،جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ،اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘(القرآن)
اور ایک اہم مسئلہ ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس معاملے میں سخت سے سخت قانونی کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض والدین اپنے کم سن نابالغ بچوں کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھمادیتے ہیں، جس کا برا نتیجہ قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آئے دن اس لاپرواہی سے ٹریفک حادثات وجود میں آتے ہیں۔ریاستی حکومت کو چاہیے کہ ایسے والدین کے خلاف قانونی کاروائی کریں کیونکہ اس سے پوری ملت متاثر ہورہی ہے اور خاص کر اس معاملے میں traffic police کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ وادی کشمیر میں روز اول سے ہی traffic police پر کافی ذمہ داریاں عائد ہوتی آرہی ہیں اور الحمد للہ کافی حد تک وہ احسن طریقے سے اپنا کام کررہے ہیں۔ والدین کے لئے لازم ہےکہ وہ اس حدیث سے سبق حاصل کرنا چاہیے جس میں والدین کو کہا گیا کہ شام ہوتے ہی اپنے بچوں کو گھروں میں روکا کرو۔ یعنی ہر وہ چیز جو آپکے بچوں کے لئے شر اور ضرر رساں ثابت ہو، ایسی چیزوں سے اپنے بچوں کو دور رکھیئے۔ فرمان نبویؐ ہے کہ، ’’رات کا اندھیرا شروع ہونے پر یا رات شروع ہونے پر اپنے بچوں کو اپنے پاس (گھر میں) روک لو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ پھر جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو (چلیں پھریں) پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو، اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ بجھا دو، پانی کے برتن اللہ کا نام لے کر ڈھک دو، اور دوسرے برتن بھی اللہ کا نام لے کر ڈھک دو (اور اگر ڈھکن نہ ہو) تو درمیان میں ہی کوئی چیز رکھ دو۔‘‘(صحیح بخاری)
پھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالےہیں
رُلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں
ایسی صورتحال میں تین طبقات پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ والدین، اساتذہ اور حکومت وقت۔ لیکن زیادہ اور اصل ذمہ داری والدین کی ہی ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دینی شعور عطا کرے اور ہمارے بچوں کو دینی فکر سے مالا مال کرے۔ آمین
(مدرس :سلفیہ مسلم انسٹیٹیوٹ پرے پورہ)
رابطہ نمبر 6005465614
[email protected]