رواں ماہ کی ۳ تاریخ کو امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی فتح کو کئی تجزیہ نگار وں نے اپنے اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کی ہے اور کئی ایک نے اس جیت کو آنے والے کل کے لئے خوش آئند قرار دیا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کی طرف سے امریکہ کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک کے رشتوں کو نئی دِشا مِلنے کی اُمید جتائی جا رہی ہے ۔ بھارت اور پاکستان کے علاوہ کشمیری قوم بھی ان انتخابات پہ نظریں ٹکائے بیٹھی تھی۔ شاید اس لئے کیونکہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ کافی حد تک دوستانہ تعلقات بڑھائے تھے اور بارہا کشمیر مسئلے میں مصالحت کی پیش کش بھی کی تھی جو بھارت کی طرف سے بار بار ٹھکرائی بھی گئی۔ چند لوگ اس گمان میں بھی ضرور ہوں گے کہ جو بائیڈن کی آمد سے فلسطین کے متعلق امریکی پالیسی میں کسی حد تک لچک آسکتی ہے۔ لیکن اکثر تجزیہ نگار ایک نہایت ہی بنیادی بات کو نظر انداز کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کے انتخابات میں چہرے کِتنے بھی بدلیں اُن کی خارجہ پالیسی پر بالخصوص فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان ، شام اور ایران کی مناسبت سے مرتب کی گئی پالیسیوں میں کسی قسم کی لچک آئے، اس کے امکانات نہ کے برابر ہیں کیونکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر براہِ راست اسرائیلی پالیسی سازوں کا عمل دخل رہتا ہے۔بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ امریکہ اسرائیل کے اشاروں پہ ناچنے پر عاجز ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ جس کا اشارہ اسلام کے مشہور اسکالر ڈاکٹر اسرار صاحب نے اپنے بیشتر بیانات اور تصانیف میں دیا ہے ۔ مرحوم ڈاکٹر اسرار صاحب اس بات کا اشارہ دیتے وقت اکثر علامہ اقبال صاحب کا ایک شعر دہرایا کرتے تھے۔
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجہ ٔیہود میں ہے
اس سے قبل کہ امریکہ کی خارجی پالیسیوں پر جوبائیڈن کی جیت کے اثر پہ کسی بھی قسم کی پیشنگوئی کی جائے ،جوبائیڈن کی شخصیت کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔ جوبائیڈن ،جن کا اصل نام Joseph Robinette Biden Joniorہے، نے70 کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا تھا جب وہ 29 سال کی عمر میں امریکہ کے چھٹے سب سے جوان سینیٹر بنے تھے۔ اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں جو بائیڈن کئی اونچے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔وہ Senate Judiciary Committeeکے رُکن بھی رہے ہیں اور Senate Foreign Relations Committee کے رکن اور چیئر مین بھی رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بائیڈن حالیہ انتخابات کے علاوہ بھی دو مرتبہ صدارتی امیداوار رہے ہیں ۔ لیکن انہیں اپنے مہم کے دوران پیدا ہوئے تضاد کے چلتے اپنی صدارتی مہم کو دونوں مرتبہ روکنا پڑا تھا اور اپنی نامزدگی کو چنائو سے قبل ہی واپس لینا پڑا تھا۔ ایک بار انہیں صدارت کے لئے اپنی نامزدگی اس لئے واپس لینی پڑی تھی کہ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی مہم کے دوران تقریر کے چند اقتباس برطانوی لیبر پارٹی کے راہنما Neil Kinnock کی تقریر سے چُرائے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے شعبہ قانون میں گریجویشن کی ڈگری کے دوران اپنی ریسرچ کے لئے بھی چند مضامین سے اقتباس چُرائے تھے۔ Plagiarismکے یہی الزامات اُن کے صدارت کے تخت تک کے راستے میں رکاوٹ بن کے حائل ہوئے تھے اور جوبائیڈن صدر بننے سے چُوک گئے تھے۔
بہر کیف Senate Foreign Relations Committeeکے رُکن اور بعد ازاںسربراہ کے طور جو بائیڈن نے 1999میں یوگوسلاویہ پر NATOکی طرف سے بمباری کی حمایت اور2001میں افغانستان پر حملے کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ عراق پر حملے اور صدام حسین کو ختم کرنے کی بھرپور وکالت کی تھی۔ ایک انگریزی میگزین The Guardianمیں 18فروری 2020کو Mark Weisbrot کا ایک مضمون چھپا تھا جس کا عنوان تھا ،"Joe Biden championed the Iraq war. Will that come back to hanut him now?" ۔ اس مضمون میں Mark Weisbrotلکھتے ہیں ، "Biden did vastly more than just vote for war. Yet his role in bringing about that war (Iraq war) remains unknown or misunderstood by the public " ۔مذکورہ مضمون نگار کی مانیں تو2002میں جس وقت عراق جنگ پر سینیٹ میں بحث ہوئی اس وقت جو بائیڈن سینیٹ فارِن رِیلیشنز کمیٹی کے سربراہ تھے اور انہی کی موجودگی میں اُس وقت کے صدر جارج بُش کو یہ Authority مِلی تھی کہ وہ عراق میں فوجی طاقت کا استعمال کریں ۔ عراق میں امریکی فوجی طاقت کا استعمال کرنے کے لئے جواز پیدا کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ القاعدہ نامی تنظیم کو عراق کے اُس وقت کے صدر صدام حسین کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ نیز اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا کہ عراق کے پاس Weapons Of Mass Destruction اور میزائیل موجود ہیں جو کسی بھی وقت دنیا بھر کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ حالانکہ بعد ازاں جارج بُش نے 2005میں خود اس بات کا اعتراف کیا کہ Weapons Of mass destruction کی اطلاعات بے بنیاد تھیں ۔ اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عراق جنگ امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی ، نہ صرف اس لئے کہ امریکہ کو ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوانوں کو گنوانا پڑا یا لاکھوں عراقی جانیں تلف ہوئیں بلکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید ابتر ہونے لگے۔ Mark Weisbort کی مانیں تو عراق -امریکہ جنگ ہی ISIL(Islamic State Of Iraq and Levant ) کے پنپنے کی بنیادی وجہ بن گیا جس کا اعتراف خود سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے کیا تھا۔ دراصل امریکی پالیسی ساز نہیں چاہتے تھے کہ عراق کُویت پر قبضہ جمائے اور دنیا بھر کے خام تیل کے وسائیل میں 20% کا اِکلوتا وارث بنے لِہٰذا اُن کے لئے عراق کو پست کرنا لازمی تھا۔
امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن نے افغانستان جنگ کی بھی خوب حمایت کی تھی ۔ افغان جنگ امریکہ کی طرف سے لڑی جانے والی سب سے طویل جنگ مانی جاتی ہے جہاں امریکہ کو کروڈوں ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا اور اب تک بھی واضح نتائج سے کوسوں دور ہے۔New Republic نامی ایک میگزین میں24 ستمبر2009 کو "Why Joe Biden flipped on Afghanistan" عنوان سے ایک مضمون شایع ہوا تھا جس میں تجزیہ نگارMichael Crowlyنے جو بائیڈن کے بارے میں لِکھا ہے کہ وہMilitary Invasionکی خوب وکالت کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ جو بائیڈن نے ایک مرتبہ اس بات پہ زور دیا تھا کہ القاعدہ کو ختم کرنے کے لئے عراق نہیں بلکہ افغانستان کو اپنا ہدف بنایا جانا چاہئے۔ حالانکہ2001میں جس وقت طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد حامد کرزائی نے افغان صدارت کا تخت سنبھالا، اس وقت جو بائیڈن اُن سے ملنے کابل پہنچ گئے اور واپسی پر جوبائیڈن نے یقین جتایا تھا کہ حامد کرزئی امریکی حمایت کا صحیح امیدوار ہے لیکن جلد ہی حامد کرزئی کے متعلق جو بائیڈن کے خیالات بھی بدل گئے اور افغان ڈپلومیسی کے بارے میں جوبائیڈن کا موقف بھی۔
اِن تمام تر واقعات کی روشنی میں مسلم دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تئیں جو بائیڈن کا موقف واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن اب بھی کئی سوالات ہمارے اذہان میں گردش کر رہے ہیں جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ جوبائیڈن کو 2008میںحکومتِ پاکستان کی طرف سے نِشانِ پاکستان نامی ایک بہت بڑا اعزاز ملا تھا، اس لئے اس بات کا خیال کئی تجزیہ نگار ظاہر کر رہے ہیں کہ شاید جو بائیڈن کا جھُکائو پاکستان کی طرف زیادہ ہے جِس کا سیدھا اثر مسئلہ کشمیر کی ہیئت اور اسِ کے متعلق امریکی موقف پرپڑھ سکتا ہے ۔ اس دعوے کو اگرچہ مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن اِس کی واضح تصدیق کرنا بھی قبل از وقت ہوگا۔ در اصل جوبائیڈن کو یہ اعزاز عاصف علی زرداری کی حکومت کے دوران ملا تھا جب سینیٹر جوبائیڈن اور سینیٹر Richard Lugar نے پاکستان کے لئے سالانہ1.5بلین ڈالر کی امریکی امداد منظور کرائی تھی لیکن اس سے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ امریکی رشتے میں کوئی فرق آئے، اس کے امکانات نہ کے برابر ہیں کیونکہ اولاًکسی بھی ملک کی خارجی پالیسی میں زیادہ تغیر و تبدل کی گنجایش نہیں ہوتی، جیسا کہ راقم نے مضمون کے آغاز میں ہی عرض کیا کہ چہرے کتنے ہی بدلیں خارجہ پالیسی میں نمایاں فرق نہیں آسکتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ-چین معاشی کشاکش کے چلتے مشرقِ وسطیٰ میں چین کے مدِ مقابل امریکہ کو اپنے جس حمایتی کی تلاش تھی وہ ہندوستان کی صورت میں اُسے مِل چُکا ہے۔ اِتنا ہی نہیں بلکہ ہِندوستان ایک بہت بڑی بین الاقوامی سطح کی منڈی مانی جاسکتی ہے ۔ یہ دونوں وجوہات کافی ہیں برسوں سے چلے آرہے ہند-امریکی دوستانہ تعلقات کے لئے۔ دوسری جانب افغان جنگ میں ہار کے باعث امریکہ کو پاکستان کی بھی ضرورت ہے جو گزشتہ سال دوحہ قطر میں شروع ہوئے افغان -امریکہ بات چیت سے اور اس میں پاکستان کے رول سے بالکل واضح ہو گیا۔ اس تناظر میں جس طرح گزشتہ امریکی صدور نے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کو Balanceکیا تھا،2020 میں چُنے گئے جو بائیڈن بھی اُسی Balance کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے،ما سوا اس کے ، مشرق وسطیٰ سے لے کر فلسطین تک امریکہ کا موقف بھی جوں کا توں رہنے والا ہے ۔ اگرچہ اس سے صرفِ نظر کرنا قطعی زیادتی ہوگی کہ جوبائیڈن کی فتح کا اثر امریکہ کے داخلی معاملات بالخصوص امریکہ کی اقلیتوں پرضرور پڑھ سکتا ہے لیکن جو بائیڈن کی جیت کو کسی دوسرے مُلک کی جیت سے مُترادِف سمجھنا ایک تجزیہ نگار کے لئے نا سمجھی اور نادانی ہو سکتی ہے۔