سرینگر//جونائیل جسٹس کمیٹی کے چیئرمین جسٹس علی محمدماگرے نے کووڈ- 19کی وجہ سے یتیم ہوئے بچوں اور عام لوگوں کی مدد کیلئے نگہداشت کرنے والے اوردیگراداروں کی ہیلپ لائن قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔وہ یہاں جوئنائل جسٹس بورڈ کے جموں کشمیر اور لداخ مرکزی زیرانتظام علاقوں کے پرنسپل مجسٹریٹوں کی ویڈیو میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔ جسٹس ماگرے نے ادویات،ویکسینیشن ،خوراک اور صحت سہولیات کیلئے اداروں کی نگرانی کرنے پربھی زوردیا۔انہوں نے نگرانی اداروں میں کووِڈسے متاثر بچوں کی نقشہ کشی کرنے پر بھی زوردیا اوران کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے تمام پرنسپل مجسٹریٹوں پرزور دیا کہ ہیلپ لائنوں کوکووڈ کی وجہ سے موصول ہوئی تمام تکلیف سے متعلق کالوں پرتیزی سے کارروائی ہونی چاہئے اوراوبزرویشن ہوموں میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی طرف سے جاری رہنما خطوط پر عملدرآمدہوناچاہیے۔ جسٹس ماگرے نے حیدرپورہ میں چلڈرنزولیج کے شلٹرہوم کا بھی معائنہ کیا۔ان کے ہمراہ جوائنٹ رجسٹرارجوڈیشل عبدل باری اور سیکریٹری ڈی ایل ایس اے بڈگام فوزیہ پال بھی تھیں۔اس موقعہ پرجسٹس ماگرے نے شلٹر ہوم کی لڑکیوں سے تبادلہ خیال بھی کیا۔