دنیا پھر ایک مرتبہ جنگ کے دہانے پر آ گئی ہے۔ یوکرین پر روس کے جارحانہ حملے گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری ہیں۔ صورت حال دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کی سیکورٹی کونسل بھی روس کے جارحانہ حملوں کو روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کوروس نے ویٹو کر دیا ہے۔ ناٹو ممالک بھی یوکرین کی مدد کے لئے آ گے نہیں آئے۔ یوکرین ، ناٹو کا رکن نہیں ہے، اس لئے آزمائش کی گھڑی میں امریکہ اور اس کے حلیف ممالک یوکرین کا ساتھ دینے میں مصلحتوں کا شکار ہو گئے۔ یوکرین کو ہندوستان سے امید تھی کہ وہ غیر جانبدار تحریک کا لیڈر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سیکورٹی کونسل میں اس کے حق میں ووٹ ڈالے گا۔ لیکن ہندوستان نے روس سے اپنی روایتی دوستی کی بنیاد پر ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہتے ہوئے روس سے حقِ دوستی نبھانے میں اپنی عافیت سمجھی۔ جب کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے وزیر اعظم نریندرمودی سے سلامتی کونسل میںحمایت کی درخواست کی تھی۔ یہ قرارداد امریکہ نے یوکرین پر روسی حملے کے خلاف پیش کی تھی۔ ہندوستان نے اپنی غیر حاضری کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ تنازعہ کا فریق بننا نہیں چاہتا ۔ وہ امریکہ اور روس سے مساوی دوستانہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف پر خود اندرونِ ملک شدید تنقید ہورہی ہے۔ اپوزیشن قائدین کا کہنا ہے کہ یہ وقت غیر جانبدار رہنے کا نہیں ہے بلکہ ایک واضح موقف اختیار کرنے کا ہے۔ اگر روس ، ہندوستان کا دوست ہے تب بھی دوست کو صحیح مشورہ دینا دوستی کا تقا ضا ہے۔ روس نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے۔ اس کے اس غیر منصفانہ اقدام کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ انصاف کا تقاضا تھا کہ روس کے اس ظالمانہ کارستانی کے خلاف ہندوستان سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قراداد کی تائید کرتا۔ اس سے دنیا کو بھی یہ پیغام جاتا کہ ہندوستان ظلم اور ناانصافی کے معاملے میںاپنے دوست کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتتا۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی حکومت روس کا ساتھ کسی بھی حال میں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان اور دیگر کے ممالک کے غیر مجہول رویہ نے روس کو اور مضبوط کر دیا ہے ۔ چناچہ وہ اب یوکرین کے رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کر رہا ہے۔ معصوم اور بے گناہ عوام کی ہزاروں جانیں اب تک جا چکی ہیں۔ جنگ کو روکنے اور مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے کے بجائے پوری دنیا میں خونریزی کو پھیلانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں ۔ امریکہ بھی اس جنگ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ تو بہت پہلے ہی بے دست و پا کر دیا گیا ہے۔ آگ و خون کی عالمی نمائش تو اس وقت سے شروع ہو چکی ہے ،جب روسی فوجیں افغانستان داخل ہوئیں تھیں۔ سوویت یونین نے 1979 میںایک غریب اور مفلوک الحال ملک کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے اپنی افواج کو افغانستان میں داخل کر دیے تھے۔ یہ افغانیوں کا عزم و حوصلہ تھاکہ انہوں نے پہلے سوویت یونین کو اور بعد میں امریکہ بہادر کو ایسی خاک چٹوائی کہ اب خواب میں بھی افغانستان پر حملہ کرنے کے بارے یہ سوپر پاور ممالک سوچ نہیں سکتے۔ امریکہ اور روس کی رعونت کو ٹھکانے لگانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ ممالک یک طرفہ اور جارحانہ کاروائیوں کا ایک ریکارڈ رکھتے ہیں۔ روس نے آج یوکرین پر حملہ کر دیا ہے تو ساری دنیا تلملا اٹھی ہے۔ سوویت یونین نے وحشیانہ حملے کرتے ہوئے افغانستان کو تباہ وبرباد کر دیا تو دنیا کا ضمیر اس وقت نہیں جاگا تھا۔ وہ حملے یوکرین پر ہونے والے حملوں سے کچھ کم نہیں تھے۔
جب ظلم اور ناانصافی کو جانچنے کے پیمانے الگ الگ ہوجاتے ہیں تو دنیا میں امن و انصاف کا قیام ناممکن ہوجاتا ہے۔ آج دنیا جس تشویشناک دور سے گزر رہی ہے، اس کا تجزیہ اس پہلو سے بھی ہونا ضروری ہے کہ اگر طاقتور ممالک کی چیرہ دستیوں پر پہلے سے ہی لگام دے دی جا تی تو آج یوکرین میں بے قصوروں کے لاشے نظر نہ آ تے۔ عالمِ انسانیت کو رنگ، نسل، علاقہ اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے والوں کے خلاف پہلے سے ہی ایک زبردست محاذ تشکیل دیا جاتا تو آج روس کی توسیع پسندانہ پالیسی یا امریکہ کے نئے عالمی نظام کی دھجیاں اُڑادی جا تیں۔ ان دو بڑی نام نہاد طاقتوں نے دنیا کے ٹکڑے کر دئے اور جو کوئی ملک ان کو آنکھیں دکھاتا ہے، اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی ہے۔ یوکرین پر روسی جا رحیت کو اسی پسِ منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ حملہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے، روس گزشتہ کئی مہینوں سے یوکرین کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس بات کے اشارے مل رہے تھے کہ روسی دبابے کسی بھی وقت یوکرین کے فوجی اڈوں کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ روس کے ان عزائم کے خلاف کسی بھی جانب سے اس کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی۔ یوکرین کو اپنے قبضہ میں لینا یہ روس کا شروع سے منصوبہ رہا ہے۔ یوکرین کو خوف زدہ کرنے کے مختلف طریقے روس اختیار کر تا رہا۔ یوکرین نے عالمی برادری کو بھی روس کے اس گیم پلان سے واقف کرانے کی پوری کوشش کی۔ لیکن ہر بڑے ملک کے کچھ مفادات ہوتے ہیں ۔ اس لئے بندر بانٹ کا کھیل عالمی سیاست میں ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ جب روس نے گز شتہ 24 ؍ فروری کو یوکرین پر حملہ کر دیا، اس کے بعد ہر طرف سے روسی جارحیت کے خلاف آوازیں اٹھنی لگیں ۔ لیکن حملہ کے ایک ہفتہ بعد بھی اس بات کے کوئی امکانات نہیں پیدا ہوئے ہیں کہ روس اب مزید حملوں سے باز آجائے گا۔ اس کے بر خلاف روس نے تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ تادمِ تحریر صورتِ حال غیر واضح ہے ۔ معلوم نہیں کہ حالات اور کتنے خطرناک ہو تے چلے جائیں گے۔ بہت اہم اور نتائج کے اعتبار سے دور رس اثرات پیدا کرنے والے ان نازک حالات میں جنگ کے خوشہ چینوں کو سوچنا چاہئے کہ اگر ایک مرتبہ جنگ کا یہ دائرہ بڑھ جائے تو حالات کس قدر دھماکو رُخ اختیار کرلیں گے۔ روس کی جارحانہ کاروائیوں کا اثر عالمی سطح پریقینی طور پر پڑے گا اور پوری دنیا جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہوجائے گی۔ اس لئے اشتعال انگیزی اور ہیجان پیدا کرنے والے ہر عمل کی مذمت کی جائے۔ تنفر آمیز رویہ نفرتوں کا سبب بنے گا اور اس سے امن کا دائرہ تنگ ہوتا جائے گا ۔ جس سے ہلاکت خیزی کا ایسا بازار گرم ہوگا کہ اسے روکنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ روسی جارحیت سے اب تک لاکھوں یوکرینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ روس پر عائد کی جانے والی تحدیدات کا بھی اس پر کوئی اثر نہیںہوا ہے۔ روس نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ یہ تحدیدات سے روس کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے۔ روس کی اس جارحانہ کاروائی کا مقصد کیا ہے؟ اس کا ہدف بس یہی ہے کہ وہ یوکرین کی خودمختاری کو ختم کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ یوروپ کے نقشہ کو ایک نئے انداز میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ 1991 میں سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد روس جس بیگانگی کا شکار ہو گیا ،وہ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے بے چین ہے۔ سوویت یونین کے بکھراؤ نے امریکہ کی چودھراہٹ ساری دنیا میں قائم کردی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے اپنی دست درازیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کردیا۔ عراق، افغانستان اور دیگر ممالک میں اس نے ماضی قریب میں جو خون آشام تباہی مچائی، اسے دنیا نے اپنی سَر کی آنکھوں سے دیکھا۔ اب روس اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو حاصل کرنے کا خواب لے کر دنیا میں دندناتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یوکرین اس کی جارحیت کا پہلا نشانہ بنا۔
ہندوستان کے حوالے سے یوکرین کے موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو تشویش اور بڑھ جاتی ہے۔ روس سے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر ہندوستان نے سلامتی کونسل میں روس کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے موقع پر غیر حاضر رہ کر روس کو ناراض تو نہیں کیا ،لیکن اس وقت ہندوستان کے جو طلباء یوکرین میں انتہائی پریشان ہیں ،ان کو وطن لانے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کئے؟ حصولِ تعلیم کے لئے جو ہندوستانی بچے یوکرین میں قیام پذیر ہیں ،انہیں ان خطرناک حالات میں وہاں سے نکالنا حکومتِ ہند کی اولین ذ مہ داری ہے۔ ملک کے کم و پیش پچیس ہزار طلباء و طالبات یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ طلباء سوشیل میڈیا کے ذریعہ باربار التجا کر رہے ہیں انہیں جلد از جلد اپنے وطن واپس لایا جائے گا۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ ان بچوں کو کوئی گزند پہنچے بغیر ہندوستان لایا جائے گا۔ لیکن وہاں بچے اور بچیاں روتے ہوئے شکایت کر رہے ہیں کہ ان کاوہاں کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ وہ بھوکے پیاسے بنکروں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانے کے عہدیدار بھی ان کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں۔ اسی دوران کرناٹک سے تعلق رکھنے والے نوین کی موت ہوگئی۔ یہ لڑکا راشن لینے کے لئے قطار میں کھڑا تھا کہ روسی افواج کی بمباری شروع ہوگئی اور وہاں موجوددوسرے افراد کے ساتھ یہ نوجوان بھی ہلاک ہوگیا۔ اس کی موت کے ذ مہ دار کون ہیں؟اگر حالات کے اس قدر بگڑنے سے پہلے ہندوستانی طلباء کو وطن واپس لانے کے انتظامات کئے جاتے تو نوین کی اس طرح بے بسی سے موت نہ ہوتی۔ روس کی دوستی کا تو خیال رکھا گیا لیکن اپنے ہی بچوں کو جو پڑھنے کے لئے ایک دور دراز ملک گئے تھے ہماری حکومت انہیںواپس لانے میں ناکام ہو گئی ۔ نجانے جنگ کے ختم ہونے تک اور کتنے ملک کے نوجوانوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں گی۔ افسوس کی بات ہے کہ حکمران پارٹی کے بعض قائدین نے یہ چھچھورا ریمارک کیا کہ یہ بچے نیٹ میں ناکام ہو کر میڈیکل تعلیم کے لئے یوکرین گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ملک میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع ہیں تو وہ کیوں ایسے ممالک کو گئے ،جہاں جنگ کے خطرات منڈلارہے تھے۔ یہ کس قسم کا بھونڈا مذاق ہے جو قوم کے نونہالوں سے کیا جا رہا ہے۔ کیا کسی بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا جرم ہے۔ کسی بیرونی ملک میں پڑھنے والے بچوں کی حفاظت کی ذ مہ داری حکومت پر نہیں ہے؟ آزمائش کی اس گھڑی میں ان بچوں کو حوصلہ دینے کے بجائے ان پر فقرے کسنا ،کوتاہ ذہنی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ ان طلباء کے والدین پر کیا گزررہی ہوگی، جن کے بچے یوکرین میں موت کے منہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے اضطراب اور بے چینی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت ہمارے ملک کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ جو طلباء یوکرین میں موجود ہیں، ان کی بحفاظت وطن واپسی ہو۔ اس کے لئے جنگی خطوط پر حکومت کو اقدامات کر نے ہوں گے۔ اگر روس کے حملے رہائشی علاقوں میں بڑھ جائیں گے تو ہندوستانی طلباء کی وطن واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ نوین کی طرح اور طلباء بھی خدانخواستہ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے، تو تاریخ مودی حکومت کو معاف نہیں کرے گی۔ جنگ کے شعلوں کو بجھانے کے لئے بھی ہندوستانی حکومت کو اپنا اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ یہ وقت غیرجانبدار رہنے کا نہیں ہے بلکہ ظلم اور جبر کے خلاف آواز اٹھانے کا ہے۔ دنیا کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جنگ، نفرت، تعصب اور بدامنی کو پھیلاتی ہے اور یہ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ساحر لدھیانوی ؔنے سچ کہا کہ ؎
جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
(رابطہ۔9885210770)