بیت المقدس// اسرائیلی پولیس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے بعد سیز فائر پر جشن منانے والے فلسطینی نوجوانوں پر دھاوا بول دیا۔ مسجد الاقصی میں ہزاروں فلسطینی نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جنگ بندی کا جشن منارہے تھے کہ اسرائیلی فورسز نے چڑھائی کردی۔ اسرائیلی فورسز نے مسجد کے ملحقہ صحن میں گھس کر نمازیوں پر شیلنگ کی اور ہوائی فائرنگ کی، تاہم نوجوان منتشر نہ ہوئے تو اہلکاروں نے ربڑ کی گولیاں برسادیں اور گرنیڈ پھینکنا شروع کردیئے۔ اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے، جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سب کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔دوسری جانب سیز فائر کے بعد فلسطین میں بے گھر ہونے والے خاندان واپس اپنے تباہ حال گھروں کو لوٹ رہے ہیں، کئی عمارتوں کو چادروں کی دیوار سے رہنے کے قابل بنایا گیا تاہم یہاں کھانے پینے کی اشیائکا فقدان ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے 11 روز سے مسلسل جاری بمباری کو روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیز فائر کا اعلان کیا تھا ۔بین الاقوامی سطح پر 10 مئی سے جاری خون خرابے کو روکنے کے لیے دباؤ کے بعد اس جنگ بندی کے لیے مصر نے مذاکرات کیے تھے جس میں غزہ کا دوسرا طاقتور عسکری گروہ اسلامی جہاد بھی شامل تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی سمجھوتے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ ہمارے پاس ترقی کرنے کا حقیقی موقع ہے اور میں اس کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہوں' ساتھ ہی انہوں نے سمجھوتے کے لیے مصر کی کوششوں کو بھی سراہا۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتین یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی کابینہ نے تمام سیکیورٹی حکام کی جانب سے مصر کے غیر مشروط باہمی جنگ بندی کے منصوبے کو قبول کرنے کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔
عمارت کے ملبے سے 6لاشیں برآمد
غزہ //اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے تباہ ہونے والی ایک عمارت کے ملبے سے کل 3 سالہ بچی سمیت 9 لاشیں نکالی گئی ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 66 بچوں سمیت 243 ہوگئی۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان 11 روز کے دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں 66 بچوں سمیت 243 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں جنگجو بھی شامل تھے جبکہ 1900 کے قریب زخمی ہوئے۔حماس حکام کے مطابق اسرئیلی حملوں کے نتیجے میں عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہونے کی وجہ سے ایک لاکھ 20 ہزار افراد در بدر ہوئے۔دوسری جانب حماس کے راکٹس کے نتیجے میں اسرائیل میں ایک فوجی اور 2 بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک بھارتی اور 2 تھائی لینڈ کے شہری شامل تھے۔
اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کیلئے امریکی سینیٹ میں قرار داد
واشنگٹن: سابق صدارتی امیدوار برنی سینڈر نے اسرائیل کو 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش کردی۔برنی سینڈر ایک آزاد رکن ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔ان کی قرار داد کے بعد دیگر نمائندوں الیگزینڈریا اوکیسیو کورٹیز، مارک پوکین اور رشیدہ طالب کی جانب سے ایک اقدام متعارف کروایا گیا جس کے دیگر 6 اسپانسرز تھے ان میں ایوان کے انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹس قانون ساز شامل ہیں۔مذکورہ اقدامات کی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ سے منظوری کا امکان نہیں ہے جہاں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت کو روایتی طور پر خاصی حمایت حاصل ہوتی ہے۔امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ 'ایسے وقت میں کہ جب امریکا کے بنائے گئے بم غزہ میں تباہی پھیلا رہے ہیں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کررہے ہیں، ہم کانگریس کی بحث کے بغیر آسانی سے اسلحے کی ایک اور بڑی فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے۔خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو رواں برس 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے اسلحے کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی اور باضابطہ نظرِ ثانی کے لیے اسے کانگریس کو بھجوایا تھا۔