غزہ //اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ گزشتہ ماہ 21 مئی کو ہونے والی جنگ بندی کی خلاف وزری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جنگی طیاروں سے غزہ میں متعدد حملے کیے ہیں۔گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر فلسطین پر جنگی طیاروں سے حملے شروع کردیے۔ اسرائیل نے غزہ اور خان یونس کے علاقوں میں بمباری کی تاہم ان حملوں میں کسی جانے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ فلسطینی گروہوں کی جانب سے جنوبی اسرائیل کی جانب چھوڑے گئے آتشی غباروں کے ردعمل میں فضائی حملے کیے گئے۔مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی قوم پرستوں کی ریلی اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کاروں میں حالیہ کشیدگی کی وجہ بنی۔اسرائیلی ریلی اور فلسطینیوں کے احتجاج کے بعد بیت المقدس میدان جنگ بن گیا، اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر شیلنگ جس کے نتیجے میں متعدد نوجوان زخمی ہوئے اور بعض کو گرفتار کیا گیا۔اسرائیلی قوم پرستوں کی ریلی کے خلاف فلسطینیوں کے بیت اللحم اور غزہ میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 10 سے 21 مئی تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 66 بچوں سمیت 248 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 948 زخمی ہو گئے تھے۔ادھرفلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی درخواست پر نئی اسرائیلی حکومت سے ڈیل کرنے کے لئے مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک اعلی عہدیدار نے کہا ہے کہ PA نئی اسرائیلی حکومت کے ساتھ بات چیت کے دوران اسرائیلی فوج کی فلسطین مخالف جارحیت کو روکنے اور مغربی کنارے سے متعلق تنازعے کو ختم کرنے پر زور دے گی۔پی اے نے یہ بھی کہا حساس علاقوں میں جہاں سیکورٹی کے مسائل درپیش ہیں وہاں پی اے کے اختیارات کا دائرہ وسیع کرنے اور باہمی اعتماد پیدا کرکے دو ریاستی نظریے کے نفاذ پر بھی ٹیم نئی اسرائیلی حکومت سے بات چیت کرے گی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے سے قبل ہی وائٹ ہاؤس نے فلسطینیوں کی مذاکراتی ٹیم تشکیل دینے کا کام شروع کردیا تھا۔