ایجنسیز
بیروت// جنوبی لبنان میں ہفتہ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔یہ حملے اْس وقت کیے گئے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے نو دیہات کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی نئی وارننگ جاری کی۔اسرائیلی فوج اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان 17 اپریل سے جاری جنگ بندی کے باوجود دونوں جانب سے حملے جاری ہیں۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کفر دجال گاؤں میں ایک گاڑی پر فضائی حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ لوائزہ گاؤں میں ایک گھر پر حملے میں تین افراد جان سے گئے۔ اسی طرح شوکین گاؤں پر ایک اور حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیلی فوج کی عربی زبان کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے تقریباً 50 حملے کیے، جن کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے اور ارکان تھے۔حزب اللہ نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ہفتہ کے روز ساحلی گاؤں بایاد میں ایک گھر کے اندر موجود اسرائیلی فوجیوں کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی کے دو دن بعد ہوئے۔اس کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں سینکڑوں فضائی حملے کیے اور زمینی کارروائی شروع کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں متعدد قصبوں اور دیہات پر قبضہ کر لیا۔بعد ازاں لبنان اور اسرائیل کے درمیان تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد پہلی براہ راست بات چیت بھی ہوئی، جبکہ دونوں ممالک 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے باضابطہ طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔
واشنگٹن میں اعلان کردہ 10 روزہ جنگ بندی 17 اپریل سے نافذ ہوئی تھی، جسے بعد میں مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا۔