گریز//ضلع بانڈی پورہ کے پہاڑی علاقہ گریز سے ملحقہ علاقہ تحصیل تلیل میں ہزاروں افراد پر مشتمل متعدد علاقوں کو بجلی سپلائی فراہم کرنے والا جنریٹر جنوری کے ماہ سے خراب ہوجانے سے سردیوں کا موسم گھپ اندھیرے میں گزار رہے ہیں جبکہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے جنریٹر کو فوری طور ٹھیک کرکے واپس نصب کرنے میں کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔تلیل تحصیل کے پانچ دیہات گزشتہ ایک ماہ سے برقی رو سے محروم ہوگئے ہیں ۔ مقامی شہری شاہد احمد لون نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ جنوری کے مہینے میں بجلی سپلائی فراہم کرنے والا جنریٹر کا کوئی حصہ اچانک خراب ہوگیا جسے سرینگر سے منگوانا لازمی تھا تاکہ جنریٹر کی مرمت کرکے اسے قابل استعمال بنایا جائے،جس کے نتیجے میں 5بڑے گائوں گزشتہ ایک ماہ سے بجلی سے محروم ہوگئے ہیں جن میں بگلندر، سرداب، جی جی شیخ ، کھورتن اور ٹیٹران شامل ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پورے گریز کو ڈیزل کے جنریٹر کے ذریعے بجلی سپلائی فراہم کی جاتی ہے وہ بھی شام کے چند گھنٹوں کیلئے جبکہ جموں کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن گریز کیلئے بجلی کی فراہمی کے لئے منی پاور پروجیکٹ بھی بنایا جارہا ہے تاکہ گریز علاقہ کو بجلی سپلائی فراہم کی جاسکے۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمی نے ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جنریٹر کا کوئی حصہ خراب ہوگیا تھا جسے سرینگر سے لاکر گریز روانہ کردیا گیا ہے جبکہ ساتھ میں جنریٹر کی مرمت کرنے والے انجینئروں کی ٹیم بھی گریز گئی ہوئی ہے ایک دو دن میں جنریٹر کی مرمت کرکے اُسے قابل استعمال بنایا جائے گا ۔