سرینگر// ماحولیات کے بچائو کیلئے حکام کے پاس قوانین ہونے کے باوجود بھی اس پر کوئی سنجیدہ غور وفکر نہیں ہو رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ماحولیات کو پہلی ترجیح نہ دی گئی تو اس کے سنگین نتائج کیلئے حکام کو تیار رہنا ہو گا ۔ماہرین کے مطابق سرکار کو دس برسوں کیلئے مرحلہ وار بنیادوں پر تباہ ہوئے ماحولیات کی بحالی کیلئے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت انسان تاریخ کے سب سے پرخطر موڑ پر کھڑا ہے۔جموں وکشمیر میں پائی جانے والی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے ۔جموں وکشمیر ماحولیات کے پس منظر میں ایک نازک علاقہ مانا جاتا ہے کوہ ہمالیہ کی گود میں واقع یہ علاقہ گلیشروں ، آبی زخائر ،جنگلات سے مالا مال ہے لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف جنگلات کا بے رحمی سے کٹائو کیا گیا بلکہ جموں وکشمیر میں آبی زخائر کو بھی دھیرے دھیرے ختم کیا گیا ، ڈل جھیل اور ولر کی حالت ایسی ہے کہ یہ اب ڈسٹ بن چکے ہیں ۔جموں اور کشمیر دونوں شہروں میں صوتی اور فضائی آلودگی میں اضافہ درج ہوا ہے ، کھلے عام پالی تھین کا استعمال ہو رہا ہے ،کارخانوں کی بھرمار ہے ،سٹون کریشر جگہ جگہ قائم گئے ہیں، اینٹ کے بٹھوں کو کھولنے کیلئے صرف ذہن میں سوچ آنے کی ضرورت ہے، یہی نہیں بلکہ ندی نالوں سے ریت اور بجری کھلے عام نکالی جا رہی ہے۔ پہاڑوں کو چیر پھاڑ کر ٹنل یا پھر ان کی کان کنی کی جا رہی ہے اور ایسا سب کچھ سرکار کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔یہی نہیں بلکہ لاکھوں ٹن نکلنے والے ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی بھی سائنسی بندوبست نہیں ہے ۔اگر سرکار کے پاس ماحولیات کو بچانے کیلئے کوئی پالیسی ہوتی تو ماہرین آج فکر مند نہ ہوتے ۔ کشمیر یونیوسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل رامشو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر میں ماحول مکمل طور پر بگڑ گیا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ اس کی بحالی خود بہ خود نہیں ہو پائے گی ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی نقل حرکت یا انڈسٹریز کے بند ہونے کے نتیجے میں فضائی اور صوتی آلودگی میں کسی حد تک کمی آئے گی لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے کیونکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار اس حوالے سے کوئی بہتر اقدامات کرے ۔شکیل رامشو نے مزید بتایا کہ ایکو سسٹم کی بحالی کیلئے 2021سے لیکر 2030تک کام کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف کشمیر وادی میں بلکہ پوری دنیا میں ماحولیات اس قدر بگڑ گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں بھی ہم اس کو بحال کر سکتے ہیں یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس جانب سنجیدہ ہے تو انہیں چاہئے کہ یہاں کے سٹیک ہولڈرس یعنی عام شہریوں کو بھی اس کے ساتھ جوڑ کر انہیں یہ بتایا جائے کہ ماحولیات کو کیسے بچایا جا سکتا ہے ۔شکیل رامشو نے مزید بتایا کہ دس برسوں میں مرحلہ وار طریقے پر جنگلات ، آبی زخائر ، پالتھین، ِ ٹھوس فضلہ ، کوڑا کرکٹ کیلئے پالیسی مرتب کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی ہم اس چیز پر عمل نہیں کریں گے اور برابر ماحولیات کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو آنے والی نسلیں تباہی کے سواء کچھ نہیں دیکھ پائیں گی ۔