اردو زبان و ادب کی عمر جموں و کشمیر میں تحریری سطح پر ڈیڑھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے اور تخلیقی سطح پر بھی صورتحال بے کم و کاست یہی ہے۔ جب اردو ریاست پنجاب میں پھلنے پھولنے لگی تو اس کا اثر برابر جموں و کشمیر پر پڑتا رہا۔ پہلے پہل جموں و کشمیر میں جو شعراء حضرات ملتے ہیں وہ فارسی میں شعر و شاعری کیا کرتے ہیں۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں اکادکا شعراء ایسے تھے جن کے یہاں ایک آدھ اردو کے شعر ملتے تھے۔ حقیقتِ امر یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں فارسی کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا۔ لیکن جب مہاراجہ پرتاب سنگھ تخت نشیں ہوئے تو 1889میں اردو کو بطورِسرکاری زبان تسلیم کیا گیا۔
رسائل کے حوالے سے:اردو کی ترقی و ترویج میں ریاستی کلچرل اکادمی کا کام سنہری حروف سے لکھے جانے کا مستحق ہے۔ کلچرل اکادمی نے اردو کے پھلنے پھولنے کے لئے ایک تاریخ ساز کام کیا ہے۔درجنوں کتابیں اردو زبان و ادب کے حوالے سے شایع کرنے کے علاوہ ’’شیرازہ‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ شائع کرتی ہے۔ شیرازہ 1962سے جاری ہوا تھا۔
گل ریز، کنگ پوش اور کاروان کچھ اور نامی رسالے ہیں۔ گل ریزکے بانی غلام حسین بیگ عارفؔ تھے اور یہ 1952 کو جاری ہوا۔ گل ریز میں مضامین اور شعر لکھنے والوں میں عارفؔ،شوریدہ کاشمیریؔ،تنہا انصاریؔ، شہزوؔر کاشمیری، راجہ محمد یعقوب خان،عزیز کاشمیری، حبیب کامران،سوم ناتھ زتشی، نور محمد روشن سب اہلِ قلم ہیں۔ یہ رسالہ1955تک جاری رہا۔
کونگ پوش 1950کا رسالہ ہے۔ کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد یہ رسالہ بند ہو گیا۔اور اس کی جگہ ’’کاروان‘‘ نے لے لی لیکن یہ بھی جاری نہ رہ سکا۔ کونگ پوش اور کاروان اردو اور کشمیری دونوں زبانوں میں نکلتا تھا۔ کونگ پوش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ترقی پسند مصنفین کا ترجمان تھا۔
’’جھرنا‘‘ ایک ماہوار رسالہ ہے جو1966 کو جاری ہوا۔یہ رسالہ ایک سال تک جاری رہا۔
’’کاج ناگ‘‘ گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول ہندوارہ کے طلبہ اور اساتذہ کی دلچسپی سے نکلنے لگا۔1966میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔اس کے مدیر غلام رسول کمار اور نگران غلام قادر شیخ تھے۔یہ رسالہ کشمیری،اردو،انگریزی اور ہندی پر مشتمل تھا۔’’پوش ون‘‘ نام کا ایک اور رسالہ زچلڈارہ ہائر اسکینڈری سے نکلتا ہے۔
’’شالہ مار‘‘گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول شالہ مار سے جاری ہوا،اور اس کا ایک حصہ اردو میں تھا جس کے نگران جگن ناتھ خیبری رہے۔’’لالہ رخ‘‘ امر سنگھ کالج کا رسالہ ہے۔یہ رسالہ اس صدی کے چوتھی دہائی سے نکلنے لگا تھا۔
’’پمپوش‘‘ زنانہ کالج سرینگر کی طالبات کا ترجمان ہے۔یہ رسالہ کافی ضخیم شائع ہوتا ہے۔کشمیر یونیورسٹی اردو زبان و ادب کی ترقی کے لئے ایک خاص حصہ ادا کرتی ہے۔یونیورسٹی سے ایک رسالہ بنام ’’بازیافت‘‘نکلتا ہے اور اس کے علاوہ سیمیناروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔اقبال انسٹی چیوٹ کشمیر یونیورسٹی ملکی سطح پر اقبال پر سیمیناروں اور مناظروں کا انعقاد عمل میں لاتے ہیں۔اقبال انسٹی چیوٹ سے کچھ کتابیں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں جو اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہے۔
1954ء میں’’تعمیر‘‘نام کا ایک رسالہ جاری ہوا۔ جس کی ادارت فرائض شمیم احمد شمیم نے انجام دئے۔ ’’تعمیر‘‘ کے کچھ خصوصی شمارے بھی شائع ہوئے جن میں مہجور نمبر اور آزاد نمبر شامل ہے۔رسالہ ’’تعمیر‘‘ کو محکمہ اطلاعات نے جاری کیا تھا۔
جہاں تک ادبی جریدوں کا تعلق ہے سب سے پہلے ’’ہمالیہ‘‘ کا نام آتا ہے۔یہ رسالہ اس صدی کی چوتھی دہائی سے جاری ہوا۔لیکن یہ رسالہ جلد بند ہوا۔اس رسالے میں شائع ہونے والوں میں غلام رسول نازکیؔ، پریم ناتھ پردیسیؔ، شایدؔ، بلبلؔ، سالک’ؔ،گنگا ؔدھر بٹ وغیرہ کی تخلیقات کے ساتھ مہجور اور آزاد کی نظمیں بھی شائع ہوتی رہی۔ ’’ہمالیہ‘‘ کے بعد ’’وتستا‘‘ کا نمبر آتا ہے جو 1965میں پریم ناتھ بزاز نے جاری کیا تھا۔
صحافت کے حوالے سے:ریاست میں صحافت کا باقاعدہ آغاز1924 سے ہوتا ہے جب جموں سے ملک راج صراف نے پہلا اردو ہفتہ روزہ اخبار ’’رنبیر‘‘ نکالا۔ ’’چاند‘‘ نام کا اخبار پنڈت نرسنگ داس نرگس نے جاری کیا۔ اس کو اردو کے قدیم اخباروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’’چاند‘‘ پہلے ہفتہ روزہ تھا اور پھر روزنامہ ہو گیا۔ ’’خدمت‘‘ کسی زمانے میں کانگریس کا ترجمان ہوا کرتا تھا او ر آج بھی گوکہ شائع ہورہا ہے تاہم حکومت کا ناقد بھی نہیں ہے۔ ’’آفتاب‘‘ ایک اور روزنامہ ہے جس کے مدیر ثناء اللہ بٹ تھے۔1956سے ’’آفتاب‘‘ نام کا اخبار جاری کیا گیا۔ ’’سرینگر ٹائمز‘‘ سرینگر سے شائع ہوتا ہے۔ سیاسی مسائل کے بارے میں اس کے کارٹون بڑی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ ’’ہمدرد‘‘ بھی شائع ہوتا تھا۔ ’’میزان‘‘1964سے جاری ہوا۔ اس میں علمی اور ادبی مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔ ’’چٹان‘‘ بھی کچھ عرصہ شائع ہوتا رہا۔ فی الوقت کشمیر عظمیٰ سرکردہ اردو اخبار ہے جو اب دو دہائیوںسے اردوزبان و ادب کی خدمت کررہا ہے۔
انجمنوں کے حوالے سے:’’انجمن نصرت الاسلام‘‘ کا مقصد تعلیمی و سماجی تھا لیکن اس نے اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں کافی اضافہ کیا۔ اس انجمن کا قیام 1905 میں عمل میں آیا۔اس کی سالانہ تقریب ’’انجمن حمایت اسلام‘‘ لاہور کی طرح یاد گار ہوا کرتی تھی۔ اس انجمن میں اردو کے شعراء بھی شامل تھے جو اس کے سالانہ اجلاس میں نظمیں سنایا کرتے تھے۔ جس میں منشی امیر الدین امیرؔ،صدق علی خان صادقؔ کافی مشہور تھے۔ کئی جلسوں میں مشہور مورخ محمد الدین فوقؔ بھی شامل رہے۔
1904کو جموں کے نوجوان شعراءنے ’’بزمِ سخن‘‘ جیسے انجمن کو وجود بخشا۔اس بزم میں اکثر طرحی کلام پیش کئے جاتے تھے۔ یہ انجمن ہفتہ وار جلسوںکے علاوہ سالانہ مشاعروں کا اہتمام بھی کرتی تھی۔جن اشخاص نے اس انجمن میں حصہ لیا ان میں حفیظ جالندھری،سیماب اکبرآبادی،ہری چند اختر،دیوان جولاں سہائے،سوہن لال ساحر، عرش صہبائی اور عابد علی عابد شامل تھے۔
’’بزمِ سخن‘‘ کی طرح ’’بزمِ مشاعرہ‘‘ بھی جموں کے نوجوان اہلِ ذوق کی کوششوں کا ثمر ہے۔یہ انجمن1914میں قائم ہوئی۔اس کے مشاعرے اکثر و بیشتر جموں کے عجائب گھر میں ہوتے تھے۔
سرینگر میں ’’اخوان الصفا‘‘ کے نام سے ایک انجمن رواں صدی کی چوتھی دہائی مین قائم کی گئی۔اردو کے پھلنے پھولنے میں اس انجمن نے بہت اچھا کام سر انجام دیا۔اس انجمن سے وابسطہ شعراء نہ صرف اردو بلکہ فارسی اور کشمیری پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
’’اردو سبھا‘‘ نام کی انجمن ایس۔پی کالج سرینگر مین قائم تھی اور اس کا نام بزمِ ادن تھا لیکن بعد میں کالج کے پرنسپل محمد الدین تاثیر کی ایما پر اس کا نام اردو سبھا رکھا گیا۔یہ انجمن محفلوں کا اہتمام کرنے کے علاوہ مشاعروں کا بھی انتظام کرتی ہے۔1940سے1947تک ایس۔پی کالج کے آڈیٹوریم میں کئی اہم مشاعرے ہوئے۔
’’بزمِ ادب‘‘ غلام حسین بیگ عارفؔ نے 1944کو قائم کی تھی۔بزمِ ادب کے زیر اہتمام کئی کتابیں شائع ہوئیں۔کشمیر میں ’’انجمن ترقی پسند مصنفین‘‘ 1942-43کے دوران قائم ہوئی۔ابتدا میں اس کے ممبران پریم ناتھ پردیسی،راما نند ساگر،سوم ناتھ زتشی اور ل۔م شاہد شامل تھے۔اس انجمن کے ہفتہ وار اجلاس پریم ناتھ پردیسی کے گھر پر ہوا کرتے تھے۔اس انجمن میں حصہ لینے والوں میں غلام احمد مہجور،عبدالستار عاصی،راما نند ساگر،پروفیسر ہاشمی،سہیل اعظیم آبادی،ڈاکٹر محمد الدین تاثیر وغیرہ شامل تھے۔
(نوٹ :مضمون نگار کی آراء اُن کی خالصتا اپنی ہیں اور اُن سے ادارہ کلّی یا جزوی طور متفق نہیں ہے)
رابطہ ۔بڈکوٹ ہندوارہ،متعلم شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی حضرت بل
ای میل۔[email protected]