منظور احمد گنائی
جموں وکشمیر اپنے مخصوص جغرافیائی ،معاشرتی،سیاسی اور تہذیبی وتمدنی روایت کے لحاظ سے کسی تعارف محتاج نہیں۔یہاں صدیوں سے صوفیوں،رشی مُنیوں اور ادیبوں کی ایک کہکشاں آباد ہے ،جن کے طفیل سے جموں وکشمیر میں اخوت اور آپسی بھائی چارے کی عظیم مثال قائم ہےاورجس سے یہاں کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ جموں وکشمیر کے اسی تہذیبی وتمدنی اور مذہبی عقیدت مندی کی وجہ سے کشمیر کو ماضی میں ’’پیر واری‘‘ کے نام بھی پُکارا جاتاتھا، کیوںکہ یہاں تہذیبی اور معاشرتی روایات کی پاسداری ہمیشہ اور ہر سُو نمایاںہورہی تھی،علاوہ ازیں یہاں کی خوبصورتی اور قدرتی مناظر سے بھی یہاں کی حسن میں کوئی ثانی نہیں رکھتا ۔ جس کی ایک واضح مثال مشہور مغل بادشاہ جہانگیرکے زمانےبھی مل جاتی ہے، جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کائنات کے اس وسیع طول وعرض میں وادیٔ کشمیرجنت بے نظیرہے۔؎
گر فردوس برروئے زمین است
ہمیں است وہمیں است وہمیں است
اس وقت جموں وکشمیر ملک کی سب سے بڑی یونین ٹریٹری مانی جاتی ہے، جس کا کل رقبہ 42,241مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔اس وسیع وعریض ریاست میں سب سے بڑی اکثریت والی آبادی مسلمانوں کی آباد ہے ۔اس کے علاوہ صوبہ جموں میں سب سے بڑی اکثریتی آبادی غیر مسلم ڈوگروں کی ہے۔ لیکن اُن کے آپسی بھائی چارے،اخوت،محبت اور یگانگت میں کسی قسم کی کمی کا احساس ایک کو دوسرے کے مدمقابل دیکھنے کو نہیں ملتی۔البتہ کچھ شر پسند عناصر یہاں کے ملی جلی تہذیبی وتمدنی وراثت کو صف ہستی سے مٹانے میں تُلے ہوئے ہیں۔جو دن دوگنارات چوگنا ایسے امور ِبد کو ریاست کے اندر لاگو کرنے میں سرگرداں نظر آرہے ہیں۔جس سے یہاں کی صدیوں پرانی تہذیبی روایت ایک پل میں مٹ سکتی ہے۔یہاں اپنی بودوباش رکھنے والے سبھی فرقوں کے لوگوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔جس کی واضح مثال یہاں بسنے والے غیر ریاستی مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کو یہاں رائے دہندہ قرار دینے کی بھر پور کوششیں ہیں ۔اس طرح کی کاروائیوں یہاں کے بسنے والے پشتینی فرقوں کے لوگوں میں مایوسی کا مادہ جنم لے سکتا ہے کیوں کہ یہاں برسوں سے آباد قوم کے ووٹ کی کوئی قدر وقیمت نہیں رہی ہے ۔یہاں کا عوام روزگار کے معاملے میں پہلے ہی در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔دن بہ دن اُس کے مسائل و مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن حکومت کی طرف سے ایسے معاملات پرکوئی سنجیدہ غور وفکر نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی ان مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی مرتب کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں یہاںکے عوام کو آئے دن نِت نئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔یہاں کی عوام خوشحالی،بہترین تعلیم و تربیت،تعمیر وترقی،پانی وبجلی کی مثبت فراہمی اور سڑکوں کی بحالی جیسے اہم ضروریاتِ زندگی کے لیے منتظر ہیں لیکن اس کے برعکس یہاں کے عوام کو نئی نئی سماجی بُرائیوں اور خرابیوں میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔جس کی باعث عوام کی مایوسیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ بھوک،افلاس،مہنگائی،بے روزگاری جیسے درپیش مسائل کے اندر ڈوبتی نظر آرہی ہے ،جس کا ازالہ از حدضروری اور لازمی ہے۔
حال ہی میںحکومت کی طرف سے ایک ایساقدم اٹھایا گیا ہے۔جس میں نشیلی ادویات کی کھلے عام کاروبار پر مکمل روک تھام اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرکے انھیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے جو ایک خوش آیند قدم ہےاور جس لوگ سراہنا بھی کررہے ہیں۔لیکن دوسری طرف حال ہی میں ایک حکم نامے کےتحت جموں و کشمیر کے اندر سبھی ڈپاٹمنٹل اسٹورس پر شراب اور بیر جیسی نشیلی ادویات میسر رکھی جائے گی جو ایک شرم ناک امر ہے۔یہاں میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف اگر محکمہ پولیس نشیلی ادویات کے تئیں بڑے پیمانے پر روک تھام لگا نے کے لئے کاروائی کررہی ہے،تو دوسری طرف ریاست کے اندر شراب فروشی کو کیوں بڑھاوا دیا جارہا ہے؟ لوگ حیران ہیں کہ کیااس دوغلانہ رویے سے ریاستی عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور مستقبل میں یہاں کی عوام کو کسی اور ہی بربادی کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل میں ریاست کے اندر نئے سماجی برائیاں جنم لے سکتی ہیں؟ان امورِ بد سے جہاںجموں و کشمیرکے اندر رہنے والی مسلم اکثریت کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں وہاںجموں و کشمیر کی ساری آبادی حکومت کے اس اقدام سے متنفرنظر آرہی ہے،جس سے کسی بھی وقت یہاں کے حالات میں بھی تناو پیدا ہوسکتا ہے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پورے ملک میں جہاں کچھ ریاستوں،جن میں بہار اور گجرات قابل ذکر ہیں،میں شراب کی کھلے عام کاروبار پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ان دونوں ریاستوں میںمسلمانوں کی قلیل آبادی ہے۔وہاں کی عام آبادی حکومت کے اس اقدام کی کافی سراہنا کررہی ہے اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کررہی ہے کہ شراب اور دوسری نشیلی ادویات کی کھلے عام فروخت پر پابندی عائد ہونے سے سماج میں پھیل چکی بُرائیوں ،خرابیوں اور جرائم کی رفتار پر قابو پانے کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔دوسری طرف جب ریاست جموں وکشمیر کی بات کی جائے یہاں کی اکثریت اسلام کے پیرو کاروں کی ہے ۔ظاہر ہے کہ اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور شراب اور دوسرے نشہ آور چیزوں کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔لیکن پھر بھی یہاں خصوصاً وادیٔ کشمیر میں سنیما گھراور دوسرے بدعات وخرافات کے اڈوں کے قیام کو ترجیح دی جارہی ہے۔ جن سے یہاں کے معاشرے میں بُرائیوں ، خرابیوںاور دوسرے کئی جرائم کو فروغ مل سکتا ہے، یہاں کی نوجوان نسل نہ صرف اپنےسماجی و تہذیبی روایات سے ہٹ جائےگی بلکہ اپنے دینی اقدار کا پاس و لحاظ تک بھول جائےگی اور اصلاح معاشرہ کی تمام تر کوششیں ناکارہ ثابت ہوجائیں گی۔ظاہر ہے کہ جس سماج کے بازاروں میںعام دکانوں اور اسٹوروں پر ضروریات زندگی کی اشیائے صرفہ کے ساتھ ساتھ نشیلی ادویات کی دستیابی فراوانی میں ہو ،اُس سماج میں یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہوکہ اُس کا مستقبل تابناک اور روشن ہو گا۔ انسان کا غائر مطالعہ اور مشاہدہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ جس قوم میں نوجوان سماج کی ترقی وپرداخت میں اپنا نمایاں رول ادا نہ کرتا ہو، اُس سماج میں ہمیشہ ترقی کا فقد ان رہتا ہے۔جموں وکشمیر کا نوجوان جب اپنے سماجی،تمدنی اقدار اور دینی تعلیمات سے بے بہرہ رہ گیااور اپنے آپ کو اِنہی بدعات و خرافات کا خوگر بن گیا تو وہ دن بھی دور نہیں ہوگا جب یہاں اُس کا نہ کوئی نام ہوگا ،نہ حیثیت اور نہ ہستی ہوگی ،بلکہ وہ اپنی مسلسل بے راہ رَو مستی میں ہی اس صفحۂ ہستی سے خو د بخود مٹ جائے گا ۔جموں وکشمیر کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہاں کی تاریخ اپنے تہذیبی،مذہبی اور معاشی حالات کی بدولت ہمیشہ ایک درخشاں ستارے کی مانند تھی لیکن وقفہ وقفہ کے بعد یہاں کی جغرافیائی ہئیت اور یہاں کے طور طریقے کو بدلنے کی جوکوششیں ہوتی چلی آرہی ہیں ،وہ آج بھی جاری ہیںاور انھیں زمینی سطح پر لاگو کرنے کے لئے زور بھی لگایا جارہا ہے۔ بلاشبہ اگر یہاں کی نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم اور جدید طور طریقوں کے ساتھ ان چیزوں کا سامنا کرنے کے لیے تیارہوگی، توکوئی طاقت یہاں کی عوام کومسحور نہیں کر سکتی ہے۔انسانی زندگی میں تغیر وتبدل کا ہوناایک لازمی امر ہے لیکن جب انسان کی تہذیبی اقتدار کو ٹھیس پہنچنے کی نوبت آجاتی ہے تب دنیا کی ساری مصروفیات کو حاشیہ میں رکھ کر پہلے اپنے بنیادی حقوق کو ہی محفوظ رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔وادیٔ کشمیر کےماحول،رہن سہن،کلچر،اخوت اور سماجی بھائی چارگی کی طرف جب نظر ڈالتے ہیں تو دنیا کے سکی بھی معاشرے میں اس کی ثانیت نظر نہیں آتی ہے۔ جموں وکشمیر کی انسان دوستی مدت ہائے دراز تک زندہ ویادگار رہنے والی ہے۔لیکن اس کے لیے صرف وہی ضمانت کی سند عطا کر سکتی ہے جب یہاں کے ماحول کو اُسی نہج پر چلنے کا ماحول فراہم کیا جائے، جس کی یہ صدیوںسے امین رہی ہے۔یہاں کے ماحول میں ایک عام انسان اتنی مسرت وخوشی حاصل کرسکتا ہے جو ایک خُلد سے کم نہیں تھا، لیکن کچھ مدت سے یہاں کے ماحول کو تار تار کیا جارہا ہے اور یہاں کی زیست کوقید خانے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔
بہرکیف صدیوں پُرانی صوفیانہ روایت اور مذہبی آزادی کو اگر دوبارہ زندہ رکھنے کی دل میں اگر رائی بھر بھی تڑپ ہے تو ہم سب کو نوجوان نسل اور آنے والے کل کی فکر ضرور کرنی چاہیے، تب جاکے بات بن سکتی ہے۔خدانخواستہ اگر اتنا ہونے کے باوجود بھی ہمارے اندر احساس برتری کا مادہ بیدار نہ ہوا ،تب یہاں کی قوم کو تباہی کے گھڑے سے کوئی نہیں نکال سکتا۔لہٰذا ابھی بھی وقت ہےکہ ہم سب کو مل جُل کر سماج میں پیدا ہوئے یا پیدا کئے جانے والے سماجی بد فعال کو ختم کرنے کی کوشش کر دینی چاہیے، جس سے ہمیں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو امن وچین کے ساتھ گزارنے کا موقع مل سکے۔سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ اور اپنے پائوں کی نسوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔تب جاکے ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر وتشکیل ممکن ہوسکتی ہے ۔جس قوم میں سماجی بُرائیوں کی بھر مار ہوں، اُس قوم کے ٖفرد سے تابناک مستقبل کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔
( بجبہاڑہ، اننت ناگ کشمیر) (رابطہ ۔ 6005903959)
[email protected]