مرتب: سہیل سالم
صفحات؛155،قیمت:350،اشاعت:2019
ناشر:میزان پبلشرز سرینگر جموں و کشمیر
جموں کشمیر کی خواتین افسانہ نگار(جلد اول) نوجوان سُکالر سہیل سالم کی مرتب کردہ کتاب ہے جس میں انہوں نے جموں وکشمیر کی 12خواتیں افسانہ نگاروں کا مختصر تعارف اور ان کے تحریر کردہ منتخب افسانے شامل کئے ہیں ۔ ان افانہ نگاروں میں ڈاکٹر ترنم ریاض، نعیمہ مہجور، زنفر کھوکھر،ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی،ڈاکٹر نکہت نظر، واجدہ تبسم گورکو،ڈاکٹر ممتاز کوثر،شبنم بنت رشید، تبسم ضیا،میت کور،رافیعہ رسول مغموم، اور رافعہ ولی شامل ہیں ۔ کتاب کا انتساب روزنامہ کشمیر عظمی کے ایگزیکیٹیو ایڈیٹر اور ادیب جاوید آذر، شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر کوثر رسول اور جموں کشمیر کے کہنہ مشق نوجواں شاعر اشرف عادلؔ کے نام لکھا ہے۔ جموںو کشمیر میں افسانے کی روایت پر معروف فکشن نگار نور شاہ کا تحریر کردہ مدلل مقالہ اور سہیل سالم کا مضمون ’’ جموں و کشمیر کی معاصر خواتین افسانہ نگار‘‘بھی کتاب کا حصہ ہے ۔ اگرچہ کتاب کے عنوان سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس میں جموں و کشمیر میں نسائی ادب کی ہی بات ہو گی مگر آپ اس کے پہلے مضمون، جو نورشاہ کی تحریر ہے، کا مطالعہ کیجئے تو آپ کو جموں و کشمیر میں افسانے کی روایت کے بارے میں تٖفصیلی جانکاری اوراردو افسانے کے اسرار و رموز سے بھی آگہی ملے گی۔ نور شاہ نے اس مقالے میں جموں کشمیر میں اردو افسانے کے مؤجد پریم ناتھ پردیسیؔ سے لیکر اب تک کے تقریباً تقریباً ان تمام افسانہ نگاروں کا ذکرکیا ہے جنہوں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ۔اس مضمون سے آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گاکہ جموں کشمیر کی سرزمین عرصہ دراز سے ہی ادیبوں اُور دانشوروں کی آماجگاہ رہی ہے، جن میں سے کئی ایک نے افسانہ کے فارمیٹ میں سماجی، معاشی، اقتصادی ،سیاسی اور نفیساتی باریکیوں کی عکاسی کر کے ان میں مقامیت کا عنصر پیدا کر کے اپنی انفرادیت کا سکہ بھی بٹھایاہے۔
جموں کشمیر کی معاصر خواتین افسانہ نگار کے عنون سے اپنے مضمون میں سہیل سالم نے جموں کشمیر میں خواتین افسانہ نگاروں کا ذکر کر کے ان سے مختصر تعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر ترنم ریاض، نعیمہ مہجور، زنفرکھوکھر، ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی،ڈاکٹر نکہت نظر، واجدہ تبسم گورکھو،ڈاکٹر ممتاز کوثر، شبنم بنت رشید، تبسم ضیا، میت کور، رافیعہ رسول مغموم، اور رافعہ ولی کے افسانے بالترتیب شہر ،میرا پیا گھر آیا ، اس بستی کی رات، خیرات،چوک، خوشبو،بھوک، شفق رنگ شباب، گاشی، خوشبوئوں کا سفر، خواہشوںکا احترام ،برف کی ایک رات ،درد دل کے واسطے،یقین، تیرے لئے ،وعدہ،دانے دانے پہ ہے،بوجھل قدم،شہادت کی انگلی ،سمجھوتہ اورکھیت‘‘ آپ پڑھیئے آپ کو زندگی کے مختلف پہلوئوں ، اس کے اُتار چڑھائو،دُکھ تکلیف خوشی وغمی، سماج میں عورتوں کے جذبات، احساسات، اور انکے تجربات کا عکس واضح طور پر نظر آئے گا ۔ ان افسانوں میں سماج کو ننگا کر کے اسی کے سامنے رکھا گیا ہے تاکہ وہ اپنا اصلی چہرہ دیکھ سکے ۔
سالم نے جموں و کشمیر میں نسائی ادب کے حولے سے ان خواتین افسانہ نگاروںکے افسانے ایک ہی کتاب میں سمیٹ کر ایک گراں قدر کارنامہ انجام دیا ہے جوبلاشبہ محققین کے لئے کارآمد ثابت ہوگا ۔ اس بات کا اعتراف کرنا بھی لازمی ہے کہ سہیل سالم نے اس کتاب کو ترتیب دیتے وقت جلد بازی سے کام لیا ہے۔ کمپوزنگ اور املاکی کئی غلطیاں موجود ہیںاور پیش گفتاربہ عنوان’’ بول کہ لب آزد ہیں تیرے‘‘ اور مضمون ’’ جموں کشمیر کی معاصر خواتین افسانہ نگار‘‘ میں ایک ہی اقتباس کو دو بار شامل کیا گیا ہے۔جبکہ فونٹ کے سائز میں بھی واضح فرق ہے ، جو قاری پہ گراں گراتا ہے ۔ ان خامیوں کے باوجود یہ کتاب کافی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اس میں جموں کشمیر کی معاصر خواتین افسانہ نگاروں کے بارے میں جانکاری اور ان کے افسانے ایک ہی جگہ ملتے ہیں ۔ چونکہ یہ جلد اول ہے اس لئے اُمید کی جا سکتی ہے کہ جلد دوئم جلد ہی منظر عام پر آئے گی اور اس میں باقی خواتین فکشن نگاروںکے افسانے بھی شامل کئے جائیں گے۔ کتاب کا سرورق جاذب نظر ہے اور قیمت بھی معقول ہے۔ سہیل سالم کو صاحب کتاب ہونے پر مُبارکباد۔
رابطہ: وترلار گاندربل
موبائل نمبر؛7006576629