ہر سال کروڑوں کے رقوم مختص، بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی رفتار سست
بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں فوڈ سیفٹی نظام میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ایک سرکاری دستاویز میںاس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بازاروں کی مناسب نگرانی اور ملاوٹ شدہ اشیا کی روک تھام کیلئے جدید لیبارٹریوں کے قیام کا کوئی جامع منصوبہ (ڈی پی آر) تاحال تیار نہیں کیا گیا ہے، جو پالیسی سطح پر ایک بڑی خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق سال 2025 کے دوران انڈوں کے معیار کی جانچ کیلئے 29 نمونے حاصل کیے گئے اور تمام کی رپورٹس موصول ہوئیں، جن میں کوئی بھی نمونہ غیر معیاری قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم گوشت کے معیار کی جانچ کے سلسلے میں 104 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 30 نمونوں میں سب سٹینڈرڈ (غیر معیاری)یا لیبلنگ سے متعلق نقائص پائے گئے۔
ان خلاف ورزیوں پر فوڈ سیفٹی اینڈ سٹنڈاڈ قانون 2006 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ کی جانب سے نگرانی کا عمل جاری ہے، تاہم مسائل بدستور موجود ہیں۔ ایک آر ٹی آئی میں انکشاف ہوا ہے کہ 28 فروری 2026 تک عدالتوں میں ملاوٹ اور غذائی معیار سے متعلق 1011 دیوانی اور 84 فوجداری مقدمات زیر التوا تھے، جو کیسوں کی بڑی تعداد اور عدالتی نظام پر بوجھ کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان مقدمات میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 16 لاکھ 28 ہزار 100 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ فوجداری نوعیت کے مقدمات میں 4 لاکھ 46 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 1499 چالانوں کے ذریعے مزید 1 لاکھ 88 ہزار 910 روپے جرمانے کی وصولی عمل میں لائی گئی۔گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملاوٹ کے کیسوںمیں 1145 افراد کو دیوانی جبکہ 7 افراد کو فوجداری مقدمات میں سزا سنائی گئی، تاہم زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد نظام میں موجود چیلنجوںکی نشاندہی بھی کرتی ہے۔دستاویز کے مطابق کشمیر ڈویژن میں فوڈ ٹیسٹنگ کی بنیادی سہولیات محدود ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے ڈل گیٹ علاقے میں ایک مرکزی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم ہے جبکہ 6 موبائل فوڈ ٹیسٹنگ وینز بھی کام کر رہی ہیں۔ نمونوں کی جانچ کیلئے قومی سطح کی مستند لیبارٹریوں سے بھی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جس سے نظام کو کسی حد تک سہارا ملتا ہے، تاہم جدید اور مقامی سطح پر وسیع لیبارٹری نیٹ ورک کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو محکمہ کو مالی سال 2021-22سے 2025-28تک مسلسل بجٹ کی فراہمی کی گئی۔ 2021-22میں 621.73 کروڑ روپے میں سے 614.10 کروڑ خرچ ہوئے جبکہ 7.63 کروڑ باقی رہے۔ 2022-23میں 736.84 کروڑ میں سے 721.08 کروڑ خرچ ہوئے اور 15.76 کروڑ بچ گئے۔ 2023-24میں 767.69 کروڑ میں سے 738.98 کروڑ خرچ ہوئے، جبکہ 2024-25میں 795.57 کروڑ میں سے 786.85 کروڑ خرچ ہوئے۔ مالی سال 2025-26میں 878.02 کروڑ روپے میں سے 868.30 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ 9.72 کروڑ روپے باقی رہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ استعمال ہو رہا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے میں بہتری کی رفتار سست ہے۔افرادی قوت کی صورتحال بھی تشویشناک حد تک کمزور پائی گئی ہے۔ گزیٹیڈعہدوں کی کل تعداد 13 ہے، جن میں سے صرف 8 پر تقرری کی گئی ہے جبکہ 5 اسامیاںخالی ہیں۔ اسی طرح نان گزیٹیڈ عملے کی 61 اسامیوں میں سے 41 پر تعیناتی ہے جبکہ 20 خالی پڑی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی نہ صرف نگرانی کے عمل کو متاثر کر رہی ہے بلکہ فیلڈ میں کارروائیوں کی رفتار کو بھی سست کر رہی ہے۔آر ٹی آئی دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کشمیر کے ہر ضلع میں فوڈ سیفٹی حکام کیلئے دفاتر قائم ہیں، جہاںمجاز افسر/اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں عملہ تعینات ہے، تاہم عملے کی کمی اور وسائل کی محدود دستیابی کے باعث مؤثر نفاذ میں مشکلات درپیش ہیں۔