نیوز ڈیسک
جموں//جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری پنڈت ملازمین نے پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔مظاہرین سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اْنہیں کشمیر سے جموں میں ٹرانسفر کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جموں میں اٹیچ کیا جائے اور جب کشمیر میں حالات پوری طرح سے معمول پر آجائے پھر ہمیں وہاں پردوبارہ ٹرانسفر کیا جائے۔ جمعرات کے روز جموں پریس کلب کے باہر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات ملازمین نے احتجاجی مظاہرئے کئے۔
مظاہرین نے ہاتھوں پر پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرانسفر کرنے کے الفاظ درج تھے۔دھرنے پر بیٹھے ملازمین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم پچھلے کئی مہینوں سے احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے ان کی جائز مانگوں کو پورا نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات رونما ہونے کے بعد وہ جموں چلے آئے۔ اْن کے مطابق ہم کام کرنا چاہتے ہیں ، سرکار آن لائن موڑ کے ذریعے بھی ہم سے کام لے سکتی ہیں لیکن ہم کسی بھی صورت میں کشمیر جانے کو اب تیار نہیں۔انہوں نے کہاکہ جان ہے تو جہاں ہے لہذا حکومت کو ہماری اس اہم مانگ کو پورا کرنا چاہئے۔خاتون پنڈت استانی نے کہا کہ کشمیر کے حالات سازگار نہیں ہے لہذا ہمیں جموں میں بھی فی الحال تعینات کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں فی الحال جموں میں اٹیچ کیا جائے اور جب کشمیر میں پوری طرح سے حالات معمول پر آ جائیں تو پھر ہمیں دوبارہ وہاں پر تعینات کیا جائے۔مظاہرین نے بتایا کہ گزشتہ روز ہی بی جے پی صدر رویندر رینا کے ساتھ کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد نے ملاقات کی جس دوران صدر موصوف نے یقین دلایا کہ سرکار اْن کی جائز مانگ کو پورا کرئے گی۔
جموں میں ہوم گارڈز کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج
نیوز ڈیسک
جموں//سرمائی دارلحکومت جموں میں جمعرات کے روز ہوم گارڈس اہلکاروں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج درج کیا۔احتجاجی اپنے مطالبات کے حق میں جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔پولیس نے مظاہرین کے راج بھون جانے کے پروگرام کو ناکام بناتے ہوئے کئی ایک کو احتیاطی طور حراست میں لیا۔
اس موقع پر ایک احتجاجی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد ہمیں خوشی ہوئی تھی کہ ان ہمارے مسائل کو حل کیا جائے گا لیکن آج تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم 27 سو ماہانہ تنخواہوں پر کام کرتے ہیں جس سے ہمارے گھر کا گذارہ نہیں چلتا ہے۔موصوف نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں بھی ملک کی باقی ریاستی کی طرح منیمیم ویجز دئے جائیں تاکہ کم سے کم ہم اپنے عیال کی کفالت کر سکیں۔جاویداحمد نامی ایک احتجاجی نے کہا کہ سال 2015 میں عدالت عظمیٰ نے ہمارے حق میں ایک حکمنامہ جاری کیا تھا لیکن اس کو چھ برس بیت جانے کے بعد بھی لاگو نہیں کیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم آج وردیوں میں ملبوس سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ روا رکھی جا رہی نا انصافی کو دور کیا جانا چاہئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا کی باتیں کی جا رہی ہیں جب کہ دوسری طرف ہم خالی کٹورے لے کر سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہوئے ہیں۔نامہ نگار نے بتایا کہ جوں ہی احتجاجی مظاہرین نے راج بھون کی طرف پیش قدمی شروع کی تو پہلے سے تعینات جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں نے اْن کا راستہ روکا اور اْنہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس دوران کئی ایک کو احتیاطی طورپر حراست میں بھی لیا گیا۔