جموں/صمید ککرو/جموں میں بدھ کو پورا دن کرفیو میں ڈھیل دی گئی۔شہر میں کچھ وقت تک کیلئے موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی بحال کی گئیں تاہم بعدمیں اسے دوبارہ بند کردیاگیا۔ اس دوران شہر میں کسی بھی مقام پر کسی طرح کے ناخوشگوار واقعہ کے رونما ہونے کی اطلاع نہیں ۔ ڈپٹی کمشنر جموں رمیش کمار نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ صورتحال میں بہتری آرہی ہے اور اتوار کے بعد کسی بھی طرح کاکوئی ناخوشگوارواقعہ رونما نہیںہوا۔ انہوں نے بتایاکہ حالات کو معمول پر آتے دیکھ کر پورا دن کرفیو میں ڈھیل دی گئی۔ انہوںنے مزید بتایاکہ شہر میں شراب خانوں کو بند رکھاگیاہے ۔بدھ کے رو ز پہلے صبح 8بجے سے لیکر 11بجے،جس کے بعد ڈھیل کو پہلے 1بجے ، پھر 3بجے اور پھر 5بجے اوراس کے بعد شام 7بج کر 30منٹ تک کیلئے بڑھادیاگیا۔ڈھیل کے دوران کچھ دکانیں وتجارتی مراکز کھلے رہے جبکہ نجی ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں رہا جس دوران لوگوںنے اپنی ضرورت کے سامان کی خریداری کی ۔وہیں اے ٹی ایمز میںبھاری رش دیکھاگیا۔ جموں بورڈنے بارہویں جماعت کے 23اور26فروری کے امتحانات کو ملتوی کردیاہے ۔
اہل خانہ کیلئے گاڑیوں کا انتظام
ملازمین کی ہڑتال ختم
جموں بیورو
جموں//بلوائیوں کے حملوں سے خوفزدہ دربار مو ملازمین نے بدھ کے روز بھی اپنی کام چھوڑ ہڑتال جاری رکھی اور انہوں نے دفاتر کے بجائے اپنے اہل خانہ کی حفاظت کیلئے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی تاہم حکام کی ٹرانسپورٹ اور سیکورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی پر انہوں نے آج سے دفاتر جانے کافیصلہ لیاہے۔اس دوران کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلسل جموں سے بوریا بستر سمیٹ کر واپس اپنے گھروں کو روانہ ہورہے ہیں ۔دربار مو ملازمین پچھلے چار روز سے ہڑتال پر ہیں جن کی مانگ ہے کہ ان کے اہل خانہ کو سرینگر منتقل کرنے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کیاجائے جنہیں جموں میں خطرہ ہے کیونکہ بلوائیوں کی طرف سے کئی مرتبہ جانی پور، مٹھی ،توپ شیر خان آباد ودیگر جگہوں پر حملے کئے گئے اور انہیںحراساں کیاگیالیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔اس دوران بدھ کے روز ملازمین کی تنظیم کی گورنر کے مشیر اور متعلقہ حکام سے ملاقاتیں ہوئیں جس دوران یقین دہانی ملنے پر یہ ہڑتال ختم کردی گئی ۔سیول سیکریٹریٹ ایمپلائز یونین کے صدرغلام رسول میر نے بتایاکہ ان کی گورنر کے مشیر کے وجے کمار، کمشنر سیکریٹری امور داخلہ اور کمشنر سیکریٹری ٹرانسپورٹ سے علیحدہ علیحدہ میٹنگیں ہوئیں جس دوران انہوں نے اپنے اہل خانہ کو سرینگر منتقل کرنے اور ملازمین کی سیکورٹی کیلئے اقدامات کرنے کی مانگ دہرائی ۔انہوں نے بتایاکہ انہیں یہ یقین دلایاگیاہے کہ ان کی حفاظت کیلئے پولیس تعینات رکھی جائے گی اور اہل خانہ کو سرینگر منتقل کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔میر نے مزید بتایاکہ انہیں بتایاگیاکہ ابتدائی طور پر ان کیلئے 10گاڑیاں کل دستیاب رہیںگی اور اس کے بعد ضرورت کے مطابق مزید گاڑیاں بھی فراہم کی جائیںگی۔انہوںنے بتایاکہ انہی یقین دہانیوںپر انہوں نے اپنی ہڑتال ختم کردی ہے اور اگر آج جموں کھلا رہاتو وہ دفاتر کارخ کریںگے۔دربار مو ایمپلائز فیڈریشن (نان سیکریٹریٹ )کے صدر اویس وانی نے بتایاکہ بدھ کے روز ملازم نہ ہی سیول سیکریٹریٹ حاضر ہوئے اور نہ ہی سیکریٹریٹ کے باہر کے دفاتر میں ،کیونکہ ان کیلئے سب سے پہلی ترجیح اپنے اہل خانہ کی حفاظت ہے۔انہوں نے کہاکہ کئی ملازم کرایہ کے مکانات میں رہ رہے ہیںجنہیں اپنی سلامتی کو لیکر زبردست خوف ہے لیکن حکومت ان کیلئے سرکاری رہائش کا کوئی بندوبست نہیں کررہی ۔ انہوں نے مانگ کی کہ ہر ایک ہوٹل اور رہائشی کوارٹر کے باہر سیکورٹی فراہم کی جائے جیسے کہ سرینگر میں جموں کے ملازمین کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ سرینگر کی طرح جموں میں بھی ہوٹل میں رہنے والے ملازمین کو کھانا بنابنایاملناچاہئے کیونکہ یہاں بھی ملازم خود کو خطرے میں محسوس کرنے لگاہے اور سرینگر و جموں کیلئے علیحدہ علیحدہ قانون نہیں ہونے چاہئیں۔دریں اثناء جموں میں خوفزدہ کشمیری اور دیگر علاقوں کے لوگ رات کے وقت یہاں سے اپنے اپنے علاقوں کوروانہ ہورہے ہیں ۔بدھ کے رو زبھی کرفیو میں دی گئی ڈھیل کے دوران بڑی تعداد میں لوگ بوریا بستر سمیٹ کر بٹھنڈی اور دیگر علاقوں کوروانہ ہوئے جہاں سے وہ رات کو اپنی گھروں کو جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔