رام بن //جموں سرینگر شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک چلائے جانے کے باوجود لا متناہی ٹریفک جام ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ، بالخصوص ادہم پور سے بانہال سیکٹر میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہتی ہیں، چنہنی ناشری ٹنل کی تعمیر بھی ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کرنے میں موثر ثابت نہیں ہوا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ مسلسل چار روز تک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند رہنے کے بعد جب ادہمپور بانہال سیکٹر میں گاڑیوں کو آمد و رفت کے لئے کھولا گیا تھا تو سب سے پہلے درماندہ گاڑیوں کو کلیئر کیا گیا اور پھر سختی کے ساتھ یکطرفہ ٹریفک چھوڑا گیا لیکن اس کے باوجود محکمہ ٹریفک کے پلان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈرائیور ٹریفک اہلکاروں کی ملی بھگت سے من مرضی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورا ٹریفک نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ ٹریفک جام کے اس مسئلہ کی وجہ سے جموں سرینگر اور سرینگر سے جموں جانے والے مسافروں کے علاوہ مقامی طلباء، ملازمین ، مریضوں اور بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی تندہی سے دینے کے بجائے ذاتی مفادات کیلئے گاڑیوں کو الٹ سمت سے بھی چھوڑ دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ون وے ٹریفک کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ وہیں ڈرائیور حضرات بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں لین ڈرائیونگ ترک کر کے دو دو ، تین تین لائنیں بنا لیتے ہیں اور آخر کار جام میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ رابطہ قائم کرنے پر نو تعینات شدہ انسپکٹر جنرل آف پولیس بسنت رتھ نے بتایا کہ ’شاہراہ پر انفراسٹرکچر کی قلت کے باعث ٹریفک صحیح انداز میں نہیں چل رہا ہے ، کچھ دیگر مسائل بھی ہیں جن سے نپٹنے کیلئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے ۔ یکطرفہ ٹریفک ایڈوائزری کی خلاف ورزی کئے جانے کے بارے میں انہوں نے تسلیم کیا کہ سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو کانوائے کی مخالف سمت میں چھوڑا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ صرف چند ایک مقامات ہیں جہاں پر ٹریفک کے گزر کا مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس کے لئے عنقریب ہی قابل عمل حل تلاش کر لیں گے۔