جموں// صوبہ جموں کے میدانی علاقوں میں بالعموم اورشہرجموں میں بالخصوص گذشتہ چنددنوں سے گرمی انتہادرجے پہ پہنچی گئی ہے۔جہاںعوام ماہ جون کی قہرانگیزگرمی سے پناہ مانگنے پرمجبورہے وہیں بجلی کی کٹوتی میں بھی بڑے پیمانے پراضافے سے عوام کی راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔گذشتہ ایک ہفتے سے سے لگاتار درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔وہیں بجلی کی کٹوتی سے بھی پورے خطہ جموں میں بحرانی صورتحال پائی جارہی ہے جس سے عوام کاجینادوبھرہوگیاہے۔اتوار کے روزجموں شہرکازیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40.00 ڈگری سیلیس کے آس پاس رہااورنمی کی مقداربھی ہوامیںکافی زیادہ تھی جس کے باعث عام زندگی متاثر ہوئی اور لوگ لواورشدت کی گرمی سے بچنے کیلئے اپنے گھروں میں محصورہوکررہنے پر ہو رہے۔جہاں لوگ دن کوسڑکوں پرنکلناخودکوآگ میں جھونکنے کے مترادف سمجھتے ہیں وہیں رات کے وقت بجلی کی کٹوتی سے بھی عوام کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔گذشتہ روزشدت کی گرمی کے دوران کچھ علاقہ جات ریذیڈنسی روڈ،کھٹیکاں تالاب،محلہ دلپتیاں،گوجرنگروغیرہ میں بجلی کی کٹوتی کے سبب لوگ گرمی سے پریشان رہے۔جن لوگوں نے اے سی اورچارایبل انورٹرلگائے ہوئے ہیں وہ بھی چندگھنٹوں کے بعدہی بندہوگئے۔اس کے بعدانہیں بھی دیگرعام شہریوں کے ساتھ بجلی کے بغیرایسے تڑپناپڑاجیساپانی کے بغیرمچھلی تڑپتی ہے۔ایک طرف شہروگردونواح کے علاقہ جات میں گرمی کی شدت سے لوگ نہ گھروں کے اندرچین سے بیٹھ پارہے تھے اورنہ ہی باہرنکل پارہے تھے۔البتہ لوگ نہروں میں جاکرڈبکی لگاتے ہوئے بھی دیکھے گئے اورگرمی سے نجات حاصل کرتے رہے۔وہیں دیہات میں رہنے والے کچے مکانات کے مکینوں کوشہری علاقہ جات کے لوگوں کے مقابلے دشواریاں پیش نہ آئیں ۔دوپہردس بجے کے بعدگائوں میں لوگ اپنے کچے مٹی کے گھروںکے اندرہی ڈیرہ جمائے رہے اورسکون کی نیندسوئے ۔اورانہیں رات کوبھی زیادہ پریشانیاں نہیں جھیلنی پڑیں گی۔ شہرجموں ودیگرقصبہ جات کی سڑکوں پربھی عام پیدل چلنے والے مسافرعام دنوں کے مقابلے اکادکاہی نظرآئے۔اور بازاروں میں بھی رونق بہت کم نظرآئی۔زبان زدعام ۔اُف گرمی ۔اُف گرمی ۔اُف گرمی کے چرچے تھے۔اورلوگ گرمی کے قہریعنی دہشت گرمی سے پناہ مانگتے ہوئے نظرآئے۔صوبہ جموں کے اضلاع سانبہ ،کٹھوعہ،ادھم پورکے میدانی علاقوں اورشہرجموں اوراس کے ملحقہ علاقہ جات میںشدت کی گرمی اورتیز دھوپ سے بچنے کے لئے لوگ چھاتوں کا استعمال کرتے نظر آئے جبکہ مشروبات فروخت کرنے والی دکانوں اور ریہڑیوں پر بھی خریداراوں کا رش رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز تک موسم میں کسی قسم کی بہتری کی امید نہیں ہے ۔ آئندہ 24گھنٹوں کے دوران ریاست میں موسم خشک رہے گا جبکہ صوبہ جموں کے میدانی علاقہ جات میں گرم ہوائیں متوقع ہیں۔ اس ضمن میں ماہرین نے عوام کومشورہ دیاہے کہ وہ دوپہرگیارہ یابارہ بجے کے بعدگرمی کے وقت گھروں سے باہرنہ نکلیں اورخاص طورپربچوں کی حفاظت کریں ۔ماہرین نے بتایاکہ شدت کی گرمی میں لوہرفردکیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے ۔اس لیے گرمی سے بچائوکیلئے احتیاط برتیں۔ گرمی کی شدت کے ساتھ ہی جموں اوراس کے ملحقہ علاقہ جات میں خاص طورپر بجلی اور پانی کی ضرورت بڑ ھ گئی ہے جس کو پورا کرنے میں انتظامیہ کی خصوصی توجہ درکارہے۔تاہم صوبہ کے دیگراضلاع کے بعض علاقہ جات سے پانی کی عدم دستیابی اوربجلی کی غیرمعقول کٹوتی کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے سبب عوام کوپریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔ صوبہ جموں میں بجلی کی اضافی کٹوتی اورپانی سپلائی کے بحران سے عام لوگ پریشان ہیں اورعوام محکمہ پی ڈی ڈی اورمحکمہ صحت عامہ کے حکام سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ مناسب بجلی اورپانی سپلائی کو یقینی بناکرگرمی سے راحت پہنچائی جائے۔خطہ جموں کی عوام نے ریاستی نائب وزیراعلیٰ ووزیرمحکمہ بجلی سنیل شرماسے پرزورمطالبہ کیاہے کہ وہ لوگوں کوقہرانگیزگرمی سے بچانے کیلئے پانی و بجلی بحران پرقابوپانے کیلئے خاطرخواہ قدامات اُٹھائیں تاکہ عوام شدیدگرمی سے عوام کاتحفظ یقینی بن سکے اورعوام راحت کی سانس لے سکیں۔