محتشم احتشام
پونچھ// جموں–پونچھ بس سروس کے صدر کی مبینہ من مانی اور غیر شفاف پالیسیوں کے خلاف پونچھ کے مقامی ٹرانسپورٹرز نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصلاحِ احوال کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرانسپورٹر برادری کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں روٹوں کی تقسیم، اوقاتِ کار اور کرایہ بندی سے متعلق فیصلے یکطرفہ انداز میں کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث چھوٹے ٹرانسپورٹرز کو معاشی نقصان اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ ٹرانسپورٹرز نے الزام عائد کیا کہ مخصوص افراد کو ترجیحی بنیادوں پر فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ دیگر آپریٹرز کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے نہ صرف کاروباری توازن متاثر ہو رہا ہے بلکہ عوامی سفری سہولیات بھی غیر منظم ہو کر رہ گئی ہیں۔کئی ڈرائیوروں اور مالکان نے شکایت کی کہ انہیں طے شدہ روٹوں پر چلنے کی اجازت میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، جس سے روزمرہ آمدنی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے مزید کہا کہ بس سروس کے نظم و نسق میں شفافیت کی شدید کمی ہے اور کسی بھی فیصلے سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے لیے اپنا کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روٹ الاٹمنٹ، شیڈولنگ اور کرایہ بندی کے عمل کو منصفانہ اور قواعد کے مطابق بنایا جائے۔متاثرین نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک آزادانہ انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔دوسری جانب، عوامی حلقوں نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ نظام میں بے قاعدگیاں براہِ راست مسافروں کو متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ عوامی سہولت اور منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ جموں–پونچھ روٹ پر سفر کرنے والے افراد کو بہتر اور بااعتماد سفری سہولیات میسر آ سکیں۔