نئی دہلی //تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد جو پچھلے چالیس دنوں سے دہلی کے مختلف قرنطین مراکز میں اپنی چھٹی کا انتظار کررہے تھے ،جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے بالآخر ان کے وطن پہنچنے کی راہ ہموارہوگئی ہے ۔اس سلسلے میںڈ ی ڈی ایم اے کی ہدایت کے بعد دہلی سرکار نے اپنی ریاست میں رہ رہے تبلیغی جماعت کے ارکان کو ڈسچارج کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔اب تقریبا 2 ہزار سے زائد تبلیغی کارکنان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے وطن واپس جائیں۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی نگرانی میں جمعیۃ کی ایک اسپیشل ٹیم ان کو ان کے گھر تک پہنچانے کے انتظا م میں لگ گئی ہے۔چنانچہ اس کے تحت مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی سربراہی میں ایک ٹیم نے وز یر آباد، منڈولی اور سلطانپوری کے قرنطینہ سینٹرس پہنچ کر ڈسچارج کئے گئے تبلیغی کارکنان سے ملاقات کی اور ان کو گھرکے لیے رخصت کیا ۔تمل ناڈو وغیرہ کی جماعت کے لوگوں کو ٹرین کے نظام سے ہی گھر بھیجا جا سکتاہے، تمل ناڈو کے 553 لوگ دہلی میں ہیں ، ان کی واپسی سے متعلق دفتری امور میں تیزی لانے کے لئے بھی جمعیۃ علماء کی ٹیم دہلی کے متعلقہ ڈی ایم سے رابطے میں ہے۔اسی طرح بہار، یوپی ، اڈیشہ وغیرہ سے متعلق تبلیغی کارکنان کو بھی گھر پہچانے کا نظام بنایا جا رہاہے . جمعیۃ علماء کے ذمہ دارو ں نے جب تبلیغی کارکنان کو یہ بتایا کہ ان کی چھٹی کا پروانہ لے کر وہ پہنچے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے ، قرنطین سینٹر کے اذیت خانے سے نکلناان کیلئے ایک بشارت تھی ۔
جمعیۃ علماء کی جانب سے دیہی | مساجد کے ائمہ میں نقد رقم کی تقسیم
حیدرآباد//جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد(تلنگانہ) کی جانب سے دیہاتوں میں امامت اور دیگر دینی خدمات کے فرائض انجام دینے والے مختلف ریاستوں کے حفاظ اور علماء میں نقد رقم کی تقسیم عمل میں آئی۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاتوں کے عوام کی حالت نہایت خستہ ہے اور ان کی شہری علاقوں میں آمد ورفت تقریباً بند ہے ۔ ایسے حالات میں دیہاتوں میں بڑی قربانیوں کے ساتھ امامت کے فرائض انجام دینے والے خدام دین کی دنیاوی ضروریات کی تکمیل کی حتی الامکان کوشش کرنا امت کے اہل خیر افراد کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ اس کے مدنظر جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد کی جانب سے مختلف دیہاتوں کے ائمہ میں نقد ہدیوں کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس سے قبل بھی لاک ڈاؤن کے دوران دو مرتبہ جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد کی جانب سے خدام دین میں تقریباً سات لاکھ روپئے کے صرفہ سے راشن اور نقد رقم تقسیم کئے گئے ہیں۔یواین آئی