لندن //یورپی، چین سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک نے سوڈان سے اپنے ہزاروں شہریوں کے بحفاظت انخلا کے لیے کوششوں کو تیز کیا، جبکہ افریقی ملک میں فوج اور پیراملٹری فورس کے درمیان لڑائی میں بظاہر کمی نظر آئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے پروازیں پیر کو جاری رہیں، سیکڑوں افراد فوجی طیاروں کے ذریعے ملک سے نکل گئے۔فوج اور پیراملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان 15 اپریل کو اچانک جھڑپیں شروع ہو گئی تھی، جس سے انسانی بحران کا خدشہ ہے جبکہ 420 افراد مارے جاچکے ہیں۔لاکھوں سوڈانی باشندوں کے ساتھ جو بنیادی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں اور اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں، ہزاروں غیر ملکی سفارت کار، امدادی کارکنان، طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے گزشتہ ہفتے جنگ زدہ علاقے میں پھنس گئے۔ڈاکٹرز یونین کی سربراہ ڈاکٹر عطیہ عبداللہ نے کہا کہ مردہ خانے بھرے ہوئے ہیں، سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور بھرے ہوئے ہسپتالوں کو اکثر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آپریشن روکنا پڑتا ہے۔غیر ملکی افراد دارالحکومت خرطوم سے بھی اقوام متحدہ کے ایک طویل قافلے کی صورت میں نکلے جبکہ لاکھوں خوفزدہ مکین اپنے گھروں کے اندر رہ گئے، کافی لوگوں کے پاس پانی اور خوراک بھی کم رہ گیا ہے۔50 لاکھ آبادی کے شہر میں فوج اور نیم فوجی دستوں میں 15 اپریل سے سڑکوں پر زبردست جھڑپیں جاری ہیں، جہاں جلے ہوئے ٹینک، تباہ شدہ عمارتیں ہیں جبکہ دکانوں کو بھی لوٹا گیا۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی غریب ترین قوموں میں سے ایک میں وسیع تر افراتفری اور انسانی بحران کے خدشہ ہے جبکہ 420 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔امریکی اسپیشل فورسز نے اتوار کو سفارت خانے کے تقریباً 100 عملے اور ان کے رشتہ داروں کے لیے ایک امدادی مشن کا آغاز کیا، چنوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انھیں جبوتی کے ایک فوجی اڈے تک بحفاظت پہنچایا گیا۔جو بائیڈن نے اتوار کو بتایا تھا کہ جب تک سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کی موجودگی کی ضرورت ہوگی اس وقت تک امریکی افواج جبوتی میں امریکی اہلکاروں اور دیگر افراد کی حفاظت کے لیے تعینات رہیں گی۔