اشتیاق ملک
ڈوڈہ//بھدرواہ کے جائی علاقے میں گزشتہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پولیس فائرنگ میں ایک مقامی نوجوان کی ہلاکت کے بعد ضلع ڈوڈہ میں احتیاطی طور پر معطل کی گئی موبائل انٹرنیٹ سروس اتوار کو تیسرے روز بھی بحال نہ ہو سکی، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موبائل انٹرنیٹ کی مسلسل بندش سے ضلع بھر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔سرکاری و نجی دفاتر میں آن لائن خدمات متاثر ہونے سے دفتری امور سست روی کا شکار ہیں، جبکہ بینکنگ، ای-سروسز اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات سے وابستہ کام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔طلبہ نے شکایت کی کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث آن لائن تعلیمی مواد، داخلہ فارم، امتحانی سرگرمیوں اور دیگر تعلیمی امور میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔کئی طلبہ نے کہا کہ وہ مختلف مسابقتی امتحانات اور داخلہ عمل سے متعلق ضروری معلومات حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں بیشتر کاروبار آن لائن لین دین اور یو پی آئی، نیٹ بینکنگ و دیگر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منحصر ہیں، تاہم انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔صحافت سے وابستہ افراد نے بھی انٹرنیٹ بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خبروں کی بروقت ترسیل، تصاویر اور ویڈیوز کی ارسال، سرکاری بیانات کے حصول اور عوام تک درست معلومات پہنچانے میں شدید رکاوٹ پیش آ رہی ہے، جس سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حالات معمول پر ہیں تو موبائل انٹرنیٹ سروس کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ عوام، طلبہ، تاجر، سرکاری ملازمین اور دیگر طبقات کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔عوام کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک مواصلاتی خدمات کی معطلی سے عام شہریوں کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور روزمرہ زندگی کے اہم معاملات بری طرح متاثر ہوتے
ہیں۔
معراج ملک کا واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
کہا عوام کو سزا دینا مسئلے کا حل نہیں، انٹرنیٹ بحالی کی مانگ کی
اشتیاق ملک
ڈوڈہ// رکنِ اسمبلی مہراج ملک نے بھدرواہ کے جائی علاقے میں پیش آئے حالیہ واقعہ اور اس کے بعد پورے ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کئے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری طور پر انٹرنیٹ بحال کرنے اور واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں مہراج ملک نے کہا کہ پورے ضلع میں انٹرنیٹ بند کرکے عوام کو عملاً قید میں رکھا گیا ہے. ان کے مطابق اس فیصلے سے طلبہ، مریض، تاجر، صحافی، کاروباری طبقہ اور دیگر عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پوری عوام کو مشکلات میں دھکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط انتظامیہ عوام کا اعتماد بحال کرتی ہے، نہ کہ ان کے اور حکومت کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر رابطہ ضروری ہے، اس لیے انٹرنیٹ خدمات کو بلا تاخیر بحال کیا جانا چاہیے۔ مہراج ملک نے جائی بھدرواہ واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انصاف بلاامتیاز اور صرف حقائق و قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ متوفی عارف حسین کو مبینہ طور پر پہلے چاقو مارا گیا اور بعد ازاں پولیس کی گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انٹرنیٹ بندش کے ذریعے اصل واقعہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ضلع ڈوڈہ میں فوری طور پر انٹرنیٹ خدمات بحال کی جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے. انہوں نے کہا کہ سچ سامنے آنا چاہیے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔