سرکار مرکزی ہو یا ریاستی،سرکاریںقانون سازی کے تحت عوام کی فلاح و بہبود ،خوشحالی اورراحت رسانی کے لئے ہر ممکن کوشاں رہتی ہیں اور اسی مقصد کے تحت مختلف قسم کی فلاحی اسکیمیں ترتیب دی جاتی ہیںجن سے زمین پر رہنے والے پسماندہ ، غریب اور بے سہارا باشندوں کے درپیش مشکلات و مسائل دور ہوسکیں اور انہیں کسی نہ کسی طرح سے سہولت اور راحت فراہم ہوسکیں۔سال 2014 میں جب بھاری بارشوں کے کارن جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمین کھسکنے، سیلابی صورت حال پیش آنے، رہائشی مکانات ڈہنے،تعمیرات کی چھتیں ٹوٹنےاور دیگر قسم کے مالی و جانی نقصانات سے لوگ دوچار ہوئے۔تواُس وقت کی ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کےلئے مالی ا مداد کی درخواست کی تھی۔چنانچہ جموں میں بھی بھاری بارشوں نےکافی تباہی مچائی تھی اور مختلف طبقوں سے وابستہ لوگ نقصانات سے دوچار ہوئے تھے۔پھر جون 2015 میں سرکار نے ایک نئی یوجنا’’ پردھان منتری آواس یوجنا‘‘ (شہری) مشن شروع کیاتھا، جس کے تحت سال 2022 تک تمام بے گھر لوگوں کے لئے مکانات کی فراہمی کافیصلہ لیا گیا تھا۔جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مشن پر کام کرنے والے اداروں کو ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں (UTs) اور سنٹرل نوڈل ایجنسیوں کے ذریعہ مستحق و متاثرہ لوگوں کو مرکزی معاونت فراہم کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔لیکن سال 2015 سے لے کر سال 2021 ،جوکہ اب ختم ہونے کو آرہا ہے۔ اس مشن سے مستفید نہ ہوسکے کیونکہ بیشتر لوگوںکے درخواستی کاغذات بدستورسرکاری دفتروں میں جُوں کے تُوں پڑے ہوئے وہاں کی دھول چاٹ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف سرکار غریب طبقہ کے لئے ہر طرح کی سہولیات دینے کا یقین دلاتی رہتی ہے۔ وہاں آج بھی دور دراز کے علا قہ سے تعلق رکھنے والے غریب عوام بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔رہائشی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم یہ عوام آج تک انصاف کے طلب گار ہیں۔مجبور عوام آج بھی دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں اور نہ اُمید ہوکر واپس لوٹ رہے ہیں۔
جموں کشمیر (UT) ضلع پونچھ تحصیل منکوٹ کی رہنے والی اُلفت بی جن کی عمر ساٹھ سال ہے،اپنے ساتھ پیش آمدہ حادثے کو بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ آج سے تیس پنتیس سال قبل شادی کے کچھ ماہ بعد ہی میرا شوہر لاپتہ ہوچکا ہے،وہ زندہ ہے یا مر گیا؟ آج تک پتہ نہیں چلا ہے۔شوہر کے گھر سے چلے جانے کے بعد میں نے دوسری شادی نہیں کی،البتہ میں نے اپنی والدہ کو اپنے گھر بلا کر اُس کے ساتھ رہنے لگی۔کچھ وقت گزرجانے کے بعد میری ماں بھی وفات پا گئی۔ 2014 کی بھاری بارشوں میں میرا وہ مکان بھی گر گیا جس میں میں رہا کرتی تھی۔میں اپنے مائیکے آئی اور ایک بھائی کے ساتھ رہنے لگی۔ وقت گزرتا گیا تو میرے بھائیوں اور بھابیوں کے لئے بھی بوجھ بننے لگی۔ رفتہ رفتہ میرے ساتھ تناؤ ہونے لگے،اور یہ صورت حال بدستور جاری ہے،نتیجتاً مجھے کبھی ایک بھائی کے گھر کھانا کھانا پڑتا ہےتو کبھی دوسرے بھائی سے مانگ کے کھاتی ہوں۔میری عمر کافی ہوچکی ہے اور مختلف قسم کی بیماریاں بھی لگ چکی ہیں،سرکار کی جانب ملنے والی ایک ہزار بیوہ پنشن میری دوائیوں پر صرَف ہوتی ہے۔ میری در بدر زندگی ٹھوکروں میں گزر رہی ہے، ایسا محسوس کرہی ہوں کہ میری موت بھی تماشہ نہ بن جائے گی۔اگرچہ مجھے مکان کا حق ہے لیکن محض کا غذات پر ہی کیوں؟ اگر حق مل گیا ہوتا تو آج میں اپنے مکان کی چھت کے نیچے چین کی سانس لے رہی ہوتی۔بقول اس معمر خاتون ،میں اپنے مکان کے لئے ہر متعلقہ ملازم سے بات کرتی آرہی ہوں، لیکن ابھی تک میرے مکان کے لئے جیو ٹیگ نہیں ہورہی ہے۔جب بھی کسی سے فائل کے متعلق بات کرتی ہوں تو وہ اپنی کمیشن یاد دلاتے رہتے ہیں۔ کوئی ساتھ ہزار کا سودا کرتا ہے تو کوئی پانچ ہزار مانگتا ہے۔ جبکہ میرے پاس صرف ایک ہزار روپے ہوتا ہے وہ بھی مہینے کے آخر میں ملتا ہے۔ اسی میں سے مجھے گھر کا راشن لینا ہوتا ہے۔ اپنے لیے دوائی بھی لینی ہوتی ہے۔ اور پھر کرونا جیسی وبا کی وجہ سے بہت مہنگائی ہوگئی ہے۔ نزدیک والی دکانیں بھی بند رہتی ہیں اور لوگوں کا شہر میں آنا جانا بھی محدود ہو گیا ہے۔ میں پہلے کسی نہ کسی سے دوائی منگوا لیتی تھی۔
اسی سلسلے میں بلاک ڈویلپمنٹ آفیسر منکوت کے افسر مشتاق شاہ کا کہنا ہے کہ اُلفت بی کی فائل اَپلوڈ نہیں ہو رہی تھی۔ کچھ ٹیکنکل مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے صرف انکا ہی نہیں کافی لوگوں کے اکاؤنٹ ریڈ اَیررمیں آرہا تھا۔پھر جب دوبارہ سروے کیاگیا تھا تو اِس لسٹ میں اُلفت بی کا نام نہیں ہے اور میری پوسٹنگ کو بھی کچھ وقت ہی ہوا ہے۔ میں کوشش کروں گا کی جلد ہی اُلفت بھی کا نام لسٹ میں آجائے۔اسی طرح د مگیاؔد کینی گاؤں کے رہنے والے عبدالمجید کا کہنا ہے کہ بہت بار کوشش کرنے کے باوجود میری فائل ریڈ ایررکی وجہ سے اَپ لوڈ نہیں ہو پا رہی تھی۔پھر میں ڈی سی پونچھ اندرجیت کے پاس گیا ،جن کی یقین دہانیوں کے بعد میری فائل اپلوڈ توہو گئی ۔ لیکن اب جی آرایس مشتاق کی غلطی کی وجہ سے میری فائل پھر سے ڈیلیٹ ہو گئی ہے اور اَب اُس گاؤں کے سر پنچ اسماعیل کہہ رہے ہیں کہ ٹیکنیکل پرابلم سے ڈیلیٹ ہو گئی ہے اور اب نئی فائل بنا کے آؤ۔اِسی سلسلہ میں اولاد سے محروم پچاس سالہ خاتون سغیرہ اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کافی عرصہ پہلے میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔میرا سہارا کوئی نہیں ہے جو بار بار دفتر کے چکر کاٹے۔ بہت مشکل سے میں نے اپنے گاوں میں رہنے والے ایک شخص کو وساطت سے فائل بنوائی تھی۔ لیکن لسٹ میں نام آنا ابھی بھی ممکن نہیں بن پارہا ہے۔ کیونکہ اب سرپنچ اسماعیل اورجی آر ایس مشتاق شاہ بول رہے ہیں ٹیکنیکل ایشو کی وجہ سے آپ کی فائل ڈیلیٹ ہوگئی ہے۔ میں نے اُمیدیں چھوڑ دیں کہ مجھے اس اسکیم کا کوئی فائدہ مل سکے گا۔ ایک فائل لگوانے کے لیے مجھے بہت منتیں کرنی پڑی تھی اور اب میں کہاں جاکے اور کس کس سے منت و سماجت کرکے فائل بنواؤں گی؟ سرکار کی طرف سے بیوہ پنشن ایک ہزار روپے ملتی ہے، جس سے میری دوائیوں اور کھانے پینے کا خرچہ بڑی مشکل سے ہورہا ہے۔
یہ سچ ہے کہ کویڈ۔19کی وجہ سے ایک نہیں بلکہ ہزاروں گھراُجڑ گئےہیں اور کئی کام ہونا بند ہوگئے ہیں لیکن اس دوران اگر سرکار ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دے گی تو لوگ اور کس سے امید رکھیں گے؟ جس طرح سے الفت بی نے بتایا کہ کویڈ۔19 کی وجہ سے ان کا کرایہ بھی مہنگا ہوگیا ہے اور جن لوگوں سے وہ دوائیاں منگواتی تھیں وہ لوگ بھی شہر نہیں جا پا رہے ہیں اور جس طرح سے باقی لوگوںکی روئیدادبھی ایک جیسی ہے ٹیکنیکل پرابلم کی وجہ سے فائلیں ڈیلیٹ ہوچکی ہیںتوسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سرکاری کارندےاپنی ذمہ داریوں سےاتنے غافل کیسے ہوسکتے ہیں کہ اپنی ہی ذمہ داری سے ہی منھ پھیر لیں؟ مانا کے اگر سچ میں تکنیکی غلطی سے فائل ڈیلیٹ ہو گئی ہے تو ان کو غریب لوگوں کاکیا قصور ہے؟ جنہوں بڑی محنت و مشقت اور دوسروں کی منت و سماجت سے اپنی فائیلیں بنوائی تھیں،آج اُن کی ساری محنت رائیگان ہو چکی ہے۔اب یہ اُن لوگوں کے لئے فرض بنتا ہے جن کی غلطی یا کوتاہی کی وجہ سے فائیلیں ڈیلیٹ ہوگئی ہیں،وہ ان کو دبارہ فائل بنانے میں حتی المقدور مدد کریں۔ گورنمنٹ ورکرز کو چاہیے کہ وہ بزرگ اور مظلوم لوگوں کے پاس پہنچے، ان کی مشکلات کو دیکھیں اور ان کی پریشانیوں کا حل نکالیں۔
(مینڈھر، پونچھ)