مفکر اسلام علامہ اقبال نے آج سے تقریبا صدی قبل جو پیشگوئی کی ہے وہ پوری ہو رہی ہے۔
علامہ نےیہ نظم 1907ء میں لکھی تھی ،جب وہ مغرب سے واپس آئے تھے۔ علامہ کے مطابق مغرب نے عقل سے مستعار نظام دنیا میں متعارف کرائے۔لیکن اکیسوی صدی کی دہلیز پر اب علامہ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس تہذیب کاخاتمہ ہونے جا رہا ہے۔اس تہذیب کی بنیاد مادیت پر ہے۔سکیولر (secular)تہذیب نے انسان کو روحانیت سے محروم کردیا ہے۔علامہ اقبال نے 1910 میں خود نوشت کے اقتصابات کی تحریروں میں یہ بھی لکھا ہے کہ فرشتوں کی طرف سے ہی خوشخبری ملی ہے کہ سفینۂ مغرب اب غرقاب ہونےکو ہے۔علامہ کے مطابق مسلمانوں کی سینس(science)خداآشنا تھی لیکن اہل مغرب جس طرح الحاد، زندیقیت اور لامذہبیت کا شکار ہے،اُسی طرح ان کی سینس(حِس) بھی خدا بے زاری سے آلودہ ہے۔مغربی اہل علم دانشور سینسی ترقیات سے مرعوب ہوئے،لیکن مشرقی مفکرین اس طرح کےذہنی دباو میں نہیں آئےاور خاص طور پر علامہؔ نے تعلیمات قرآن کے دائرے میں رہتے ہوئے ذہنی آزادی کا برم قائم رکھا۔جو قوم آفاقی فیضان سے محروم ہو، اس کے کمالات کے برق وبخارات ایک ہی محور میں ہوتے ہیں۔علامہؔ کوپہلے ہی شبہ تھا کہ مغربی تہذیب کی ترقی انسانیت کی تباہی کا باعث بن کر بنی نوع انسان کےلئے وبال جان بن جائے گی۔
انسانی تاریخ میں انسانی نسل کشی میں مغرب ہمیشہ پیش پیش رہا۔ نسل انسانی پر ایٹم بم گرانے کا حکم یا اجازت دینے والے امریکی صدرتھیو ڈور روز ؔویلٹ نےکہا تھا کہ ’’امریکا کو صرف خوف سے ڈرنا چاہئے ‘‘۔بہ الفاظ دیگر The only thing we have to fear itself ہم اُن کے اِن الفاظ کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں کہ’’امریکہ کو صرف اپنے آپ سے ڈرنا چاہیے ۔‘‘
ایک رپوٹ کے مطابق امریکہ انسانی تواریخ کے سب سے بڑے ڈیفنس بجٹ والے ملک ہونے کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ مسلح عوام کا ملک بھی ہے۔
یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے قانون نافذکرنے ،امن وامان کی نگرانی کرنے والے ادارے اور امریکی فوج چالیس لاکھ سے زائد تعداد میں اسلحہ استعمال کرنے کی طاقت رکھتےہیں۔
علامہ اقبال کے اس شعر کے مصرعہ اولی کا کلیدی اور اہم ترین نقطہ ’’خنجر‘‘ ہےاور یہاں پہ خنجر کا مطلب ’’ ہتھیار‘‘( weapons) اور مغربی نظریہ(ideology of Europe)۔اور ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہتھیار دفاع کے لئےہوتا ہے اور جنگیں بھی لڑی جاتی ہیں اور نظریہ سے لوگوں کےذہنوں کو فتح کیا جاتا ہے تاہم یہ دونوں شیٔےنام نہاد انسانیت کے ٹھیکداروں کے لے اہم ہے،مگر اللّہ تعـالیٰ نے پوری دنیا کو دکھا دیاکہ یہ سب ہتھیار اورنظریات بیکار ہیں۔تواریخ بار بار دہراتی ہے۔
دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
آپکو فرعون کا قصہ یاد ہی ہوگا ۔فرعون کو اپنی تین قوتوں پر عبور تھا۔ فوج، جادو اور اس کا عجیب الخلقت جواب۔ اورجب اللّٰہ تعالیٰ کی پکڑ آئی اور فرعون کی تینوں قوتیں ناکام ہو ئیں، تب فرعون کو احساس ہوا کہ وہ پہلے ہی دن سے غلط تھا ،پھر ہوا یہ کہ فرعون کو اپنے ہی ہتھیار لے ڈوبے ،گویا جب اسے احساس ہوا تو بہت دیر ہو چکئ تھی ۔
اسی طرح نمرود کا واقع بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔جب اللہ پاک نے اِنسانی شکل میں ایک فرشتہ نمرود کے پاس بھیجا۔ فرشتے نےاس سےکہا’’تیرا خدا کہتا ہے،تو مجھ پر ایمان لے آ، میں تیری بادشاہت برقرار رکھوں گا۔‘‘نمرود بولا،’’کون خدا؟ خدا تو صرف میں ہوں‘‘۔فرشتے نے دوسری اور پھر تیسری بار بھی اپنی بات دہرائی مگر ہر بار نمرود اِنکاری رہا۔نمرود کی اِس سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ پاک کی طرف سے مچّھروں (Mosquitos)کی فوج نمرودکے لشکر پر مُسَلّط ہوگئی ،جس نے لشکر کے تمام افراد کا گوشت کھاکر سارا خون پی لیا اور اُن کی صرف ہڈّیاں باقی رہ گئیں۔ مچھر اِتنے زیادہ تھے کہ سورج کی روشنی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ نمرود یہ ہولناک منظر دیکھتا تھامگر کچھ نہیں کرسکتا۔اس کے بعد اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایک مچھر نمرود کی ناک کے راستے دماغ میں گُھس گیا اور مغز کھانا شروع کردیا۔ درد کی شدّت سے نمرود پاگل ہونے لگا اور اُس نے اپنی تکلیف ختم کرنے کے لئے سَر پر ڈنڈے لگوانا شروع کردئیے، خدا کی قدرت کہ جب سَر پر ڈنڈا پڑتا مچھر کاٹنا چھوڑ دیتااور جب ڈنڈا نہ پڑتا تو کاٹنا شروع کردیتا۔ کیفیت یہ ہوچکی تھی کہ جو شخص نمرود کے سَرپر زور دار چپت لگاتا ،وہ اُس کا ہمدرد کہلاتا۔ یوں ڈنڈے پڑتے پڑتے اور چپت لگتے لگتے 400 سال گزرگئے اور نمرود بالآخر ذلیل و رُسوا ہو کر مرگیا۔
اور اللّٰہ کا دستور ہے کہ وہ ظالموں، کافروں، حاکموں کی رسی دراز کرتا ہے تا کہ انہیں اپنے درست ہونے کا پورا یقین ہو جائے اور جب اُن کا یقین پختہ ہوجاتا ہے تو اللہ رسی کھینچ لیتا ہے۔معاشرے میں بے حیائی اور بے شرمی کے سد باب کے لیے پچھلے سال ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی نونین کی پارلیمنٹ میں ایک رپورٹ پیش ہوئی تھی ،یہ رپورٹ ڈچ ممبر ’کارتیکا تمارا‘نے تیار کی تھی۔انھوں نے کہا :’’میرے پاس اس بات کا کوئی جواب موجود نہیں کہ ہم کس طرح عورت کو اس کی کھوئی ہوئی عزت واپس دلاسکیں گے یا اپنے بچوں کو بے حیائی کے اس چنگل سے کیسے آزاد کراسکیں گے ‘‘۔بے حیائی کی یلغار پر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی گزشتہ سال چیخ اٹھے تھے ۔انہوں نے برطانیہ کے تمام گھروں میں تمام فحش ویب سائٹس پر پابندی لگائی اور اس مقصد کے لیے’’ فیملی فرینڈلی فلٹرز‘‘سمیت مختلف تدابیر اختیار کرانے کا اعلان کیا تھا۔
واضح ہوا کہ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جو معاشرے میں ہر طرح کا بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ مگر افسوس !ہمارے نوجوان و بزرگ جس تہذیب کے شکار ہوتے ہیں، وہ اپنے آپ civilized کہتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا کس طرح آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے دن بھر پہنے ہوئے جوتوں میں شراب انڈیل کرپیا اور اس بات پر ان کے رہنماؤں نے خوشی کا بھی اظہار کیا ۔ نہ معلوم کیوں؟بھلاہم اسلام کو چھوڑ کر ایسی تہذیب کو کیوںاپنانا چاہتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل سلیم عطا کی ہے۔ایسی تہذیب ہمارا دین و دنیا برباد کر رہی ہے۔
ہرمعقول شخص سمجھ سکتا ہے کہ صنفی معاملات میں فطر ت کے منافی یہ رویہ معاشرہ کو مکمل طور پر تباہ کررہا ہے اورمغربی تہذیب کے بارے میں اقبال مرحوم کی پیش گوئی حقیقت بنتی نظر آرہی ہے۔
لیجئے بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں پہ ختم ہوئی ۔ اقبال کی شاعری کا یہی تو کمال ہے ،وہ قاری کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا
سکُوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا
(مضمون نگار وادی کشمیر کے کم عمر ناول نگار اور کالم نویس ہیں)
رابطہ ۔9596402379
�����