عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //آئندہ 23 اپریل کو ہونے والے تمل ناڈو اسمبلی انتخاب کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس نے جمعرات کو اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا۔ یہ انتخابی منشور ’تمل ناڈو کی تبدیلی‘ کا غماز معلوم پڑ رہا ہے۔ اس منشور کے اجرا کے موقع پر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار، کانگریس رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم اور ریاستی کانگریس صدر کے سیلواپیرونتھاگائی موجود تھے۔ اس انتخابی منشور میں روزگار، عوامی تحفظ، صحت کی خدمات اور قانون و انتظام کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم اقدامات کے ذریعے ریاست میں تبدیلی لانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔عوامی سلامتی اس منشور کا اہم نکتہ ہے، جس میں 40,000 نئے پولیس اہلکاروں کی بھرتی کا منصوبہ شامل ہے، جن میں 10,000 خاتون کمانڈوز بھی ہوں گی۔ کانگریس نے پولیس، فائر بریگیڈ، چائلڈ ہیلپ اور ایمبولینس خدمات کو یکجا کرنے والا ایک عالمی معیار کا کال سینٹر قائم کرنے کا بھی عزم کیا ہے، جہاں تمام ہنگامی حالات کے لیے ’ڈائل 100‘ ایک مشترک نمبر ہوگا۔ پارٹی نے تاریخی عبادت گاہوں کو فروغ دے کر، کثیر لسانی گائیڈ فراہم کر کے اور سیاحتی مقامات کو منظم کر کے تمل ناڈو کو عالمی روحانی سیاحت کا مرکز بنانے کا ہدف بھی پیش کیا ہے۔صحت کے شعبہ میں پارٹی نے 2030 تک 100 فیصد کتوں کی ٹیکہ کاری اور نس بندی کے ذریعہ تمل ناڈو کو ’ریبیز فری‘ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی گڈھوں سے پاک سڑکوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کو تقریباً صفر تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم نے کہا کہ یہ دستاویز آئندہ 5 برسوں کے لیے ریاست کی ترقی کا روڈ میپ ہوگا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کانگریس اور اس کی اتحادی پارٹیاں تمل ناڈو میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوں گی۔ کارتی چدمبرم نے اس بات پر انتہائی خوشی ظاہر کی کہ کانگریس نے اپنے منشور میں ریاست کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ان کی اتحادی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں خالی پڑی 3,00,000 (تین لاکھ) سرکاری اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے گا۔