ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
انسانیت پر اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے انسانی تاریخ کے ہر دور میں انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے انبیاء اور رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ ان بر گزیدہ ہستیوں نے کاروانِ انسانیت کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھنے کے لئے ہر آزمائش اور مصیبت کو انگیز کر تے ہوئے اپنے مشن کی تکمیل کی۔خدا کی اس زمین پر ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ انسانیت کے نجات دہندہ آئے۔ سب سے آخر میں اللہ تعا لیٰ نے رحمتہ اللعالمین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیںؐ کا لقب دے کر انسانیت کی رہنمائی کے لئے دنیا میں بھیجا۔ آپؐ پر قرآنِ مجید کی شکل میں آخری ہدایت نامہ نازل کر کے دنیا والوں کو آگاہ کردیا کہ اب اس کے بعد نہ کوئی رسول آنے والا ہے اور نہ کوئی آ سمانی صحیفہ کا نزول ہونے والا ہے۔ تا قیامِ قیامت انسانیت کے لئے سر چشمہ ہدایت اللہ کی کتاب قرآن مجیداور رسالت مآب ؐ کی سیرتِ طیبہ ہو گی ۔ اس سے ہٹ کر جو بھی را ستہ یا طریقہ اختیار کیا جائے گا وہ انسانوں کو گمراہی اور ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گُم کر دے گا، جہاں سے نکلنا انسان کے بس میں نہ ہوگا۔یہ دعویٰ محض عقیدت کے جذبات سے معمور ہوکر نہیں کیاجا رہا ہے اور نہ یہ بے دلیل ہے۔
اس کے پیچھے پوری چودہ سو سالہ تاریخ ہے۔ ان چودہ صدیوں کے دوران انسانوں نے بہت سے تجربے کرلئے۔ انسانیت کی راہِ نجات کے لئے مختلف قسم کے نئے نئے نظام کرہّ ارض پر نمودار بھی ہوئے اور کچھ دہوں کے بعد اس طرح غائب بھی ہو گئے کہ اب صرف تاریخ میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ گذشتہ صرف ایک صدی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے خوشنما فلسفے گھڑ کر انسانوں کو اس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔ کارل مارکس کے نظریہ کمیونزم سے دنیا کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کمیونزم نے جو برگ و بار لائے اس سے تباہی و بر بادی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اندرون سو سال کمیونزم کی معنویت ختم ہو گئی۔ کمیونزم کی ناکامی کے بعد سرمایہ دارانہ نظام نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس انسانیت کے ہر مرض کا علاج ہے۔ ہر طرف کیپٹل ازم کا شور و غو غا ایسا اٹھا کہ ہر کوئی اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہو گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کا استحصال کرکے انہیں محض ایک حیوان بناکر رکھا۔ فریب اور دھوکہ دہی کے ذریعہ مال کیسے کمایا جا ئے ،یہ سبق سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کو سکھایا۔ اس نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا گیا اور غریب غریب تر ہوتا چلا گیا۔ کمیونزم اور کیپٹل ازم سے مایوس ہوکر انسانوں نے جمہوریت میں اپنی نجات تلاش کی۔ اس ایک صدی کے دوران دنیا کے مختلف ممالک نے جمہوریت کو ایک بہترین طرزِ حکومت کے طور پر قبول کیا۔ جمہوریت نے جو گُل کھلائے وہ ساری دنیا کے سامنے عیاں ہیں۔ جمہوریت کا نام لے کر ہی انسانی حقوق پا مال کئے جا تے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر حکمران ، عوام کا خون چو ستے ہیں۔ یہ جمہوریت ہی ہے جہاں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو نے والے عوامی نمائندوں سے سوال کر نا غداری کہلاتا ہے ۔جمہوریت ہی ہے جہاں اظہارِ خیال کی آزادی کے نام پر مذہبی ہستیوں کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔
۱۲؍ ربیع الاول کے اس مبارک دن جب کہ امت مسلمہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ با سعادت کی خوشیاں منارہی ہے اور آپؐ سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہی ہے ،وہیں اسے اس بات پر بھی غور کر نا ضروری ہے کہ چودہ سو سال پہلے وادیِ بطحا سے جو پیغام اقطائے عالم میں پھیلا تھا کیا اس کی معنویت آج کے عصری دور میں ہے یا نہیں؟ اگر اس پیغام کی جا ذ بیت پر یقین ہے تو اُمت ِمسلمہ تعلیمات نبویؐ سے عصر حا ضر کے تقاضوں کی تکمیل کرنے سے کیوں قا صر ہے؟ کیا یہ اس دعوت کا کمال نہیں تھا کہ جب اس کا آ غاز فاران کی چو ٹیوں سے ہوا تو 13سال کے مختصر عر صہ میں اس نے مکہ کے معاشرہ کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ نبی رحمتؐ نے اپنی حکمتِ انقلاب کے ذر یعہ دم توڑتی ہوئی انسانیت کو ایک ایسا قرار عطا کیا کہ جہاں ہر فرد اپنے آپ کو محفوظ اور آزاد محسوس کر رہا تھا۔ مکی معاشرہ جن اخلاقی خرابیوں کے دلدل میں دھنستا جا رہا تھا، آپؐ نے ان ساری برائیوں کو ختم کر کے احترام آدمیت کا وہ جذبہ پیدا کیا کہ آقا اور غلام میں کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔ عدل و انصاف کی وہ مثال قائم فرمائی کہ مکہ کا طاقتور شخص بھی کسی کمزور کا مال ہڑپ کر نے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔صدیوں سے جاری حسب و نسب کی ساری زنجیروں کو توڑتے ہوئے حجتہ الوداع کے موقع پر یہ واضح اعلان فرمادیا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر ، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ہے ۔
انسانوں کے شرف و عظمت کے لئے آپؐ نے تقویٰ کو معیار بنا یا۔ آج دنیا اکیسویں صدی کے دو دہے مکمل کرچکی ہے۔ لیکن رنگ و نسل کا امتیاز ابھی بھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اپنے آپ کو تہذیب یا فتہ کہنے والے کس بے دردی کے ساتھ سیاہ فام انسانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔ ا یسے بیسوں واقعات دنیا کے مختلف ممالک میں وقتا فوقتا ہو تے رہتے ہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں ذات پات کی لعنت نے کتنے ہی انسانوں کی زندگی چھین لی ہے۔ دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ چودہ سو سال پہلے جو مسیحائے انسانیتؐ آ ئے، انہوں نے محض فلسفہ بیان نہیں کیا بلکہ عملی طور پر انسانیت کے نجات دہندہ کا فرض انجام دیا۔ فتح مکہ کے اس واقعہ کو تاریخ نے سنہرے الفاظ میں محفوظ کر دیا کہ نبی رحمتؐ نے ایسے تاریخ ساز مو قع پر بلال حبشیؓ کو کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ روایات کے مطابق اپنا شانہ مبارک رکھ کر فرمایا کہ ـ ’’بلالؓ اپنے پاؤں اس پر رکھ کر کعبہ کی چھت پر چڑھ جاؤ ‘‘کیا دنیا کی کوئی اور شخصیت یہ عظیم الشان کردار پیش کر سکتی ہے؟ فتح مکہ کے اس موقع پر مکہ کے معزز قبیلوں کے افراد موجود تھے۔ دس ہزار صحابہؓ کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اعزاز ایک ایسے شخص کو دیا جو بظاہر نہ معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا نہ ظاہری کوئی وجا ہت تھی۔ حضرت بلالؓ کی اسلام کے لئے جو قربانیاں تھیں آج اس کے اظہار کا موقع تھا ،چنانچہ نبی اکرمؐ نے اس یادگار موقع پر ساری دنیا کو بتا دیا کہ حسب و نسب اور رنگ و نسل اسلام میں کوئی معنیٰ نہیں رکھتے اصل چیز تقوی و پر ہیزگاری ہے۔ اس ایک واقعہ کو امت مسلمہ دنیا کے سامنے پیش کر تے ہوئے بتا سکتی ہے کہ نبی اکرمؐ کی تعلیمات سے آج کی عصری دنیا کیا کچھ بصیرت حاصل کر سکتی ہے۔ خود مسلم معاشرہ تعلیمات نبویؐ سے دور ہوتا جارہا ہے اس لئے ہم دنیا کو اس لازوال پیغام سے روشناس کرانے میں ناکام ہو گئے۔ اسلام میں ذات پات کا کوئی نظام نہیں ہے لیکن مسلم معاشرہ اس لعنت کا شکار ہوگیا۔ ذات، برادری، مسلک اور فرقہ اس کی پہچان بن گئی ہے۔ جب یہ خود آپس میں بھید بھاؤ کا شکار ہیں توکیسے یہ دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ ان کے رسولؐ نے ساری انسانی برداری کو ایک کنبہ قرار دیا ہے ۔ اسی لئے دنیا تعلیمات نبویؐ سے پوری طرح واقف نہیں ہو سکی۔حبّ رسولؐ کے ساتھ اطاعت اور اتباع رسولؐ کا جذبہ بھی ایمان کی شرط ہے
ہم آقائے دو جہاںؐ کا یومِ ولادت بڑے تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔ اس موقع پر جلوسوں اور جلسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر سال بر صغیرِ ہند و پاک میں ۱۲؍ ربیع الاول کی منا سبت سے جو مہتمم با لشان تقاریب آراستہ کی جا تی ہیں اس کی مثال اور نظیر دنیا کے کسی اور خطہ میں نہیں ملتی۔ ذات رسالتمآبؐ سے ہماری یہ والہانہ وارافتگی محض ایک دن یا ایک مہینہ کی حد تک محدود نہ رہ کر پوری زندگی پر محیط ہوجائے تو عصر حاضر کے ہر چیلنج سے نبرد آزماہونے کا حو صلہ امت میں پیدا ہو سکتا ہے۔ عشقِ رسولؐ کی یہ وقتی چنگاری اگر شعلہ بن جائے تو کوئی بد طینت شخص آزادیِ اظہارِ رائے کے نام پر اسلام کے خلاف یا رسول اکرمؐ کی شان میں گستا خانہ جملے کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ آج اظہارِ خیال کی آزادی کے نام پر رحمتہ اللعالمینؐ کے تقدس کو پامال کرنے کی گھناونی حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ باطل طاقتیں اپنے ان جارحانہ کارستانیوں کے ذر یعہ مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کر رہی ہیں۔ ہر تھوڑے دن کے بعد اس قسم کی مذموم حرکتیں منظرِ عام پر آ تی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سربراہِ حکو مت کی عقل ماؤف ہو گئی ہے۔ وہ ان بد طینت شرپسندوں کے خلاف کوئی کاروئی نہیں کرتی۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ توہین رسالت ؐ کے مجرمین کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ اس قسم کے بد بختانہ واقعات سے مسلمانوں کے دل گرفتہ ہیں پھر بھی ایسی حرکتیں کرنے والے اپنی گھناؤنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ اسلام اور رسول اکرمؐ کے خلاف جو کچھ بھی اب تک ہوتا آرہا ہے یہ کوئی حادثہ اتفا قی نہیں ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہے۔ اس کا ایک مقصدجہاں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنا ہے دوسرا اہم مقصد دنیا کو تعلیمات نبویؐ سے دور کرنا ہے۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعدسمجھا جارہا تھاکہ دنیا میں اسلام اور رسول اکرمؐ کے تعلق سے منفی جذبات ابھریں گے اور دنیامیں مخالف اسلام طاقتوں کو عروج حاصل ہوگا ۔ لیکن جس تیزی سے اسلام دنیا کے ہر کونے میں پھیلنے لگا ،اس سے حواس با ختہ ہو کر باطل طاقتیں اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔اہانت رسولؐ کے ان واقعات کے پسِ منظر میں عاشقانِ رسولؐ پر یہ دوہری ذ مہ داری آتی ہے کہ وہ ان حالات میں سچے عاشقِ رسولؐ ہونے کا ثبوت دیں۔ رسول کریمؐ کی ایک ایک سنت کو زندہ رکھنے کا داعیہ اپنے اندر پیدا کریں۔ دوسری طرف دنیا کے بدلتے منظرنا مے میںشیطان صفت حرکتوں کا
جواب جذباتی نعروں یا تقریروں کے ذریعہ دینے کے بجائے مسلمان اپنے کردار سے ثابت کریں کہ عصر حا ضر میں بھی تعلیمات نبویؐ پر عمل کر کے سسکتی ہوئی انسانیت اپنے دیرینہ مسائل کا حل تلاش کر سکتی ہے۔ یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس میں ہر درد کا مداوا موجود ہے۔ آپ ؐ سے وابستگی کا تقاضا ہے کہ آپ ؐ کی سیرت کا مطالعہ کر تے ہوئے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہ تبدیلیاں لائیں، جس کے ذریعہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی کے ہم مستحق ہو سکیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب امت مسلمہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپنے لئے معیارمطلوب بنالے ۔ رحمتہ للعالمینؐ کی حیات طیبہ ہی ہمارے لئے بہترین اسوۂ حسنہ ہے۔
کی محمد ؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں (اقبالؒ)
[email protected]